فنڈز کی قلت، سٹی جوڈیشل کمپلیکس کا منصوبہ نامکمل،مزید 3ارب درکار

فنڈز کی قلت، سٹی جوڈیشل کمپلیکس کا منصوبہ نامکمل،مزید 3ارب درکار

26 کنال پرمشتمل کمپلیکس میں 80 عدالتوں کے علاوہ مسجد، کیفے ٹیریا، وسیع پارکنگ، سائلین کیلئے انتظار گاہیں ودیگر سہولتیں شامل ہونگی،وکلاء کا فوری مزید فنڈز فراہم کرنے کا مطالبہ

ملتان (کورٹ رپورٹر) مقررہ مدت گزرنے کے باوجود ساڑھے 5 ارب روپے مالیت کے سٹی جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر تاحال مکمل نہ ہو سکی،مزید تین ارب روپے کے فنڈز درکار ہیں۔ فنڈز کی مسلسل کمی کے باعث جنوبی پنجاب کے عدالتی نظام کے اس اہم منصوبے پر کام سست روی کا شکار ہے جس پر وکلا برادری نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جوڈیشل ٹاور اور کمپلیکس کی تکمیل کے لیے مکمل فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ منصوبہ جلد از جلد مکمل ہو سکے ۔

ذرائع کے مطابق 26 کنال رقبے پر تعمیر ہونے والے جدید سٹی جوڈیشل کمپلیکس میں 80 عدالتوں کے قیام کے علاوہ مسجد، کیفے ٹیریا، وسیع پارکنگ، وکلا اور سائلین کے لیے انتظار گاہوں سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ منصوبے کا مرکزی حصہ 11 منزلہ جوڈیشل ٹاور ہے جس کی 10 منزلوں کا گرے سٹرکچر مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ اندرونی و بیرونی فنشنگ، برقی نظام، لفٹس، ایئر کنڈیشننگ، فرنیچر اور دیگر ضروری کام ابھی باقی ہیں۔وکلا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے لاکھوں شہریوں کو بہتر اور جدید عدالتی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اس منصوبے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔

سٹی جوڈیشل کمپلیکس کی تکمیل سے نہ صرف مختلف عدالتوں کو ایک ہی جگہ منتقل کیا جا سکے گا بلکہ سائلین، وکلا اور عدالتی عملے کو درپیش مسائل میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس وقت شہر کے مختلف علاقوں میں قائم عدالتوں تک رسائی میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ذرائع کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے لیے مزید 3 ارب روپے سے زائد فنڈز درکار ہیں۔ جبکہ گزشتہ مالی سال میں مطلوبہ رقم مختص نہ ہونے کی وجہ سے تعمیراتی سرگرمیاں متاثر رہیں۔ وکلا کا کہنا ہے کہ اگر منصوبے کے لیے بروقت اور مکمل فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو اس کی تکمیل میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے ۔ موجودہ رفتار برقرار رہی تو منصوبہ مکمل ہونے میں مزید دو سال لگ سکتے ہیں۔وکلا تنظیموں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پنجاب حکومت نئے بجٹ میں منصوبے کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کرے گی تاکہ جنوبی پنجاب کا یہ اہم عدالتی منصوبہ جلد مکمل ہو اور شہریوں کو جدید، یکجا اور بہتر عدالتی سہولیات میسر آ سکیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں