ریونیو کیس مینجمنٹ سسٹم پر وکلاء کا احتجاج، واپس لینے کا مطالبہ

ریونیو کیس مینجمنٹ سسٹم پر وکلاء کا احتجاج، واپس لینے کا مطالبہ

پنجاب بار کونسل کی 15 جولائی تک مہلت، عمل نہ ہونے پر احتجاج اور ہڑتال کا اعلان

ملتان (کورٹ رپورٹر)پنجاب بھر میں ریونیو کیس مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ سے ریونیو مقدمات میں تعطل اور عدالتی بحران کے خدشات سامنے آ گئے ہیں۔ وکلاء برادری نے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے 15 جولائی تک اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔پنجاب بار کونسل نے آر سی ایم ایس نوٹیفکیشن کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے وکلاء اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ کونسل کے مطابق بورڈ آف ریونیو سے متعدد ملاقاتوں میں نوٹیفکیشن فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔بار کونسل نے متنبہ کیا ہے کہ اگر 15 جولائی 2026 تک نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا تو 16 جولائی کو پنجاب بھر کی بار ایسوسی ایشنز احتجاجی کنونشن منعقد کریں گی۔

جبکہ احتجاج اور ہڑتال سمیت آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام کے باعث نئے ریونیو مقدمات کے اندراج میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس سے سائلین کو مشکلات اور عدالتی کارروائی میں تاخیر کا سامنا ہے ۔ ان کے مطابق نوٹیفکیشن آئینی اور قانونی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لئے اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے ۔ذرائع کے مطابق بعض درخواست گزاروں نے آر سی ایم ایس نوٹیفکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں