ریسٹ ہائوسز کھنڈر بن گئے بحالی کا منصوبہ ٹھپ
نہروں اور راجباہوں پر تقریباً 150 ریسٹ ہاؤسز،افسروں کی چند رہائشی کمروں میں دلچسپی ،ریسٹ ہاؤسز کا باقی حصہ بھوت بنگلوں میں تبدیل ،اربوں کی املاک ضائع
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) محکمہ انہار سرگودھا زون میں اربوں روپے مالیت کے بیشتر ریسٹ ہاؤسز محکمہ کی عدم توجہ کی وجہ سے کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے جبکہ سابق حکومت کے دور میں ان کی بحالی کا شروع ہونے والا منصوبہ بھی فائلوں کی نذر ہو کر رہ گیا ۔ محکمہ انہار سرگودھا زون جو کہ 8 اضلاع پر مشتمل ہے کی نہروں اور راجباہوں پر تقریباً 150 ریسٹ ہاؤسز ہیں، جن میں سرگودھا کڑانہ ڈویژن کے 21 ریسٹ ہاؤسز بھی شامل ہیں، جن کا رقبہ 5 سے 10 ایکڑ تک محیط ہے ، ضلع میں سب سے بڑا کینال ریسٹ ہاؤس سرگودھا سٹی میں 1902ء میں بنایا گیا تھا جو کہ اب کمرشل ایریا میں آ چکا ہے ، جبکہ دیگر ریسٹ ہاؤسز دیہی آبادیوں میں واقع ہیں، شہر کے قریب آسیانوالہ، لڈیوالا اور 69 جنوبی کے قریب وسیع و عریض ریسٹ ہاؤسز موجود ہیں، مگر محکمہ کے افسران کی دلچسپی صرف چند کمروں تک محدود ہے ، جن میں وہ رہائش پذیر ہوتے ہیں، ریسٹ ہاؤسز کا باقی حصہ بھوت بنگلوں کا منظر پیش کر رہا ہے ، 2021میں سابق صوبائی حکومت نے صورتحال کی بہتری کیلئے خصوصی منصوبہ شروع کیا تھا مگر ابتدائی اعدادوشمار جمع کرنے کے بعد سیاسی کشمکش کی وجہ سے چپ سادھ لی گئی جبکہ معلوم ہوا ہے کہ ہرریسٹ ہاؤسز کے ساتھ زرعی رقبے بھی ہیں جو ان ریسٹ ہاؤسز کی نگہداشت کیلئے معمور عملہ کے لئے مختص تھے ، اکثر ریسٹ ہاؤسز کے رقبوں پر عوام اور ملازمین کے قبضے ہیں اور وہ اپنے مویشیوں کیلئے چارہ کاشت کرتے ہیں ماضی میں ان ریسٹ ہاؤسز پر محکمہ انہار کے افسران عدالتیں لگا کر زمینداروں کے خلاف درج نہری پانی چوری بابت مقدما ت کی سماعت بھی کرتے رہے ، تاہم اربوں روپے کی یہ املاک ضائع ہو رہی ہیں، جنہیں کارآمد بنا کر ریونیو بھی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔