غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی بھرمار، زرعی زمینیں سکڑنے لگیں
غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی بھرمار، زرعی زمینیں سکڑنے لگیںفوری کارروائی نہ کی گئی تو قیمتی زرعی زمین مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے ، شہری
بھاگٹانوالہ (نمائندہ دنیا)غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی بھرمار، زرعی زمینیں سکڑنے لگیں۔بھاگٹانوالہ میں محکمہ ریونیو اور ضلع کونسل کے بعض افسران کی مبینہ ملی بھگت سے زرعی اراضی تیزی سے رہائشی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگی ، جس کے باعث علاقے میں غیر قانونی کالونیوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی بھرمار ہو گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق متعدد مقامات پر بغیر منظور شدہ نقشہ جات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بغیر پلاٹوں کی فروخت جاری ہے ۔ ان کالونیوں میں نہ تو سیوریج کا مناسب نظام موجود ہے اور نہ ہی صاف پانی، بجلی اور سڑکوں جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ بااثر افراد کی سرپرستی میں قائم کی جانے والی ان غیر قانونی سوسائٹیوں میں سادہ لوح لوگوں سے لاکھوں روپے بٹورے جا رہے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو قیمتی زرعی زمین مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے ، جس سے نہ صرف ماحولیاتی مسائل جنم لیں گے بلکہ خوراک کی پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے ۔حلقہ احباب اور سماجی شخصیات نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سرگودھا سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کو فوری طور پر بند کیا جائے ۔شہریوں نے مزید مطالبہ کیا کہ متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کیا جائے اور مستقبل میں ایسے غیر قانونی منصوبوں کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جائے تاکہ عوام کو دھوکہ دہی سے بچایا جا سکے ۔