ہرنوعیت کی اشیا 30 سے 60 فیصد تک مہنگی فروخت

ہرنوعیت کی اشیا 30 سے 60 فیصد تک مہنگی فروخت

گوشت، زرعی اجناس، سبزیوں اور پھلوں کے علاوہ اہم نوعیت کی دیگر اشیاء کی فروخت کے شعبہ جات میں براجمان منافع خور وں نے گروپ بنا رکھے ،باقاعدہ سرپرستی کی جاتی گائیڈ لائن مکمل طور پر نظر انداز ہونے کی وجہ سے مڈل مین کی من مانیاں عروج پر ،گرانفروشوں کی فہرستیں بھی انتظامیہ کو ارسال ، چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے صورتحال گھمبیر

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) خفیہ مانیٹرنگ نے انتظامیہ کے سستی اشیاء خوردونوش کی فروخت یقینی بنانے کے دعوؤں کی قلعی کھول دی، ذرائع کے مطابق حکومت نے انتظامیہ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کے مطابق اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا بھی سخت حکم جاری کیا ہوا ہے ، لیکن اس کے باوجود اشیاء کی مصنوعی قلت اور نہ ہی اضافی قیمتوں کی روک تھام ممکن ہو سکی، گوشت سے لے کر دالوں، چاول اور مصالہ جات کے ساتھ ساتھ عام استعمال کی لگ بھر ہر نوعیت کی اشیاء میں اوسطاًلگ بھگ 30 فیصد تک اضافہ ہوا، بعض اشیاء 60 فیصد تک مہنگی بھی فروخت ہورہی ہیں۔

اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ گوشت، زرعی اجناس، سبزیوں اور پھلوں کے علاوہ اہم نوعیت کی دیگر اشیاء کی فروخت کے شعبہ جات میں براجمان منافع خور وں نے گروپ بنا رکھے ہیں جن کی باقاعدہ سرپرستی کی جاتی ہے ، اور اشیاء کے من مانے نرخ وصول کئے جا رہے ہیں ، قیمتوں کے تعین کے حوالے سے دی گئی گائیڈ لائن مکمل طور پر نظر انداز ہونے کی وجہ سے مڈل مین کی من مانیاں عروج پر ہیں،اس حوالے سے گرانفروشوں کی فہرستیں بھی انتظامیہ کو ارسال کی گئیں اور فوری طور پر صورتحال کے تدارک کیلئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ،دوسری جانب صارفین کا کہنا ہے کہ سبزیوں اور گھی ، دالوں وغیرہ کی قیمتوں کا گراف بھی دیکھا دیکھی بڑھ رہا ہے ، اور غریب و متوسط طبقے کیلئے دو وقت کی روٹی پورا کرنا مشکل ہو چکا ہے ، انتظامی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث صورتحال زیادہ گھمبیر ہے ، جس کا حکومت کو نوٹس لے کر نچلی سطح پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں