مہنگی بجلی اور ٹیکس ،ہینڈی کرافٹ انڈسٹری بحران کا شکار
مہنگی بجلی اور ٹیکس ،ہینڈی کرافٹ انڈسٹری بحران کا شکار دلکش فن پارے تیار کرنے والے سینکڑوں چھوٹے بڑے یونٹس بند ہو چکے
سلانوالی (نمائندہ دنیا)سلانوالی میں قائم ایشیاء کی مبینہ طور پر سب سے بڑی ہینڈی کرافٹ انڈسٹری مہنگی بجلی اور بھاری ٹیکسوں کے باعث شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے ۔ لکڑی کے خوبصورت اور دلکش فن پارے تیار کرنے والے سینکڑوں چھوٹے بڑے یونٹس میں سے متعدد بند ہو چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق انڈسٹری سے وابستہ سینکڑوں ورکرز اور ماہر نقاش اپنے روزگار کے متبادل ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں،کئی دہائیوں سے اس شعبے سے وابستہ ہنرمندوں نے یا تو کام ترک کر دیا ہے یا اپنی سرگرمیاں انتہائی محدود کر دی ہیں۔
یہ انڈسٹری حکومتی سرپرستی کے بغیر بھی دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان رکھتی ہے اسکے تیار کردہ سامان کی برآمدات چین، ملائیشیا، برطانیہ، ترکی، قازقستان، ترکمانستان، ازبکستان، افغانستان اور خلیجی ممالک تک ہوتی ہیں، جس سے ملک کو قیمتی زرِ مبادلہ حاصل ہوتا ہے ۔ایران اس ہینڈی کرافٹ کی بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے جہاں سے یہ مصنوعات دیگر ممالک تک بھی پہنچتی ہیں، تاہم حالیہ علاقائی صورتحال، مہنگی پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث یہ صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے ۔مقامی صنعتکاروں اور ہنرمندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس صنعت کو سہارا دینے کے لیے بجلی کے بلوں میں خصوصی ریلیف دے اور چھوٹے بڑے یونٹس، شو رومز مالکان اور ماہر کاریگروں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ یہ تاریخی صنعت تباہی سے بچائی جا سکے ۔