غیر قانونی مائننگ ‘حکومتی ریونیو اور قدرتی وسائل کو نقصان کا خدشہ
غیر قانونی مائننگ ‘حکومتی ریونیو اور قدرتی وسائل کو نقصان کا خدشہلیز معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ مقدار سے زائد پتھر نکالا جا رہا
سرگودھا (سٹاف رپورٹر)حکومتی ہدایات اور سخت ایس او پیز کے باوجود کڑانہ ہلز کی پتھر مارکیٹ میں مبینہ طور پر غیر قانونی مائننگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق مختلف مائننگ سائٹس پر لیز معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ مقدار سے زائد پتھر نکالا جا رہا ہے ، جس سے قومی معدنی وسائل اور حکومتی ریونیو کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف پہاڑی علاقوں میں قائم مائننگ بلاکس پر مخصوص گروپوں کی اجارہ داری قائم ہے ، جن میں بعض لیز ہولڈرز، اسٹون کریشر مالکان اور ان سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ مبینہ طور پر انہی بااثر حلقوں کے باعث حکومتی ایس او پیز اور مائننگ قوانین پر مؤثر عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکا۔اطلاعات کے مطابق متعدد مقامات پر لیز معاہدوں میں مقررہ مقدار سے کہیں زیادہ پتھر نکالا جا رہا ہے ، جس کے نتیجے میں حکومت کو رائلٹی اور دیگر مدات میں لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کے ممکنہ نقصان کا سامنا ہے ۔ بعض مقامات پر حفاظتی اصولوں کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے ، جس سے مزدوروں اور مقامی آبادی کی جان و مال کو خطرات لاحق ہیں، جبکہ مائننگ سے متعلق حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ متعلقہ فیلڈ افسران نے صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹس صوبائی حکومت، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو ارسال کی تھیں۔ رپورٹس میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی، اضافی مائننگ کی تحقیقات اور حکومتی نقصان کا تخمینہ لگانے کی سفارشات بھی شامل تھیں۔تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بااثر لیز ہولڈرز اور دیگر متعلقہ حلقوں کے دباؤ کے باعث ان سفارشات پر تاحال مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا، جس کے باعث مبینہ غیر قانونی مائننگ اور معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مائننگ قوانین پر سختی سے عملدرآمد نہ کیا گیا تو قدرتی معدنی وسائل کے تیزی سے ختم ہوجائینگے۔