ایکسپورٹرز کی مشکلات پر طویل مدتی پالیسی ضروری:زاہد توصیف

 ایکسپورٹرز کی مشکلات پر طویل مدتی پالیسی ضروری:زاہد توصیف

ایکسپورٹرز کی مشکلات پر طویل مدتی پالیسی ضروری:زاہد توصیف ملکی انڈسٹریز کو بحرانوں سے نکالا جائے تو ہم آئی ایم ایف کو بھی خیرباد کہہ سکتے ہیں

فیصل آباد(سٹی رپورٹر)سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے پٹرولیم رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے مگر حکومت کی مسلسل عدم توجہ، مہنگی بجلی، مہنگی گیس اور مہنگی پٹرولیم مصنوعات سمیت بے جا ٹیکسز کے باعث انڈسٹری کو بتدریج تالے لگ رہے ہیں۔ ایکسپورٹرز کو مشکلات اور اضطراب سے نکالنے کیلئے طویل المدتی پالیسی اپنانا ہوگی۔عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی تیزی سے کم ہوتی قیمتوں کے رجحان کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتیں برقرار رکھنا ناقابل فہم ہے ۔ حالانکہ عوام کو ریلیف ملنا چاہئے تھا ۔ ملکی برآمدات کے فروغ اور مسابقتی عمل کیلئے بجلی اور گیس قیمتوں کو خطہ کے دیگر ممالک کے برابر لانا لازم ہے ۔

اگر حکومت توجہ دے تو ٹیکسٹائل برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے ۔ ملکی انڈسٹری میں برآمدات بڑھانے کی خاطر خواہ استعداد موجود ہے ۔ رانا زاہد توصیف نے کہا نہاصرف صنعتکار اور تاجر بلکہ موجودہ حالات میں عام آدمی بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی سے قاصر ہے ۔ حکمران مختلف سکیموں کے تحت قوم کو بھکاری بنانے کی بجائے سستی بجلی کی فراہمی کیلئے اقدامات کریں تو قوم خود بخود خوشحال ہو جائے گی اور ملک سے مہنگائی کا بتدریج خاتمہ ہوجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی انڈسٹریز کو بحرانوں سے نکالا جائے تو ہم آئی ایم ایف کو بھی خیرباد کہہ سکتے ہیں۔ اورلوگوں کیلئے روزگار کے وسیع مواقع فراہم کر سکتے ہیں جس سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں