راہ جاتی لڑکیوں، خواتین کو ہراسگی سے بچانے کیلئے ’’منجا کلچر‘‘ کے خاتمے کیلئے اقدامات تیز

راہ جاتی لڑکیوں، خواتین کو ہراسگی سے بچانے کیلئے ’’منجا کلچر‘‘ کے خاتمے کیلئے اقدامات تیز

خصوصی ٹیمیں تشکیل جو ضلع بھر کے ایسے مقامات کی فہرستیں مرتب کرینگی جہاں بڑی چارپائیاں رکھ کر ہراسا ں کیاجارہاہے ،منجا کلچرکی آڑ میں جرائم کے دھندوں کو بھی جڑ سے ختم کیا جائیگا :آر پی او

فیصل آباد(عبدالباسط سے )راہ جاتی بچیوں، لڑکیوں اور خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام اور ہراسگی کے بڑھتے واقعات کو ختم کرنے کیلئے پولیس نے ’’منجا کلچر‘‘کے خاتمے کیلئے اقدامات تیز کر دیئے ۔ گلی، محلوں، چوراہوں اور دیگر اہم مقامات پر با اثر افراد کی جانب سے رکھی گئی بڑی چارپائیوں پر بیٹھے افراد کی جانب سے راہ جاتی لڑکیوں اور خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات آئے روز سامنے آنے لگے تھے جہاںجرائم پیشہ عناصربھی سرگرم تھے جس پر پولیس نے ’’منجا کلچر‘‘کے خاتمے کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں۔

پنجابی کلچر کی آڑ میں فیصل آباد کے تمام رہائشی علاقوں، دیہاتوں اور دیگر مقامات پر رکھی گئی یہ بڑے سائز کی چارپائیاں ناصرف علاقہ مکینوں کیلئے وبال جان بنی ہوئی تھیں بلکہ ان چارپائیوں پر بیٹھے جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے ہر آنے جانے والی خواتین، لڑکیوں اور بچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات بھی آئے روز سامنے آرہے تھے ۔ شہریوں کی جانب سے متعدد شکایات سامنے آنے پر آر پی او سہیل اختر سکھیرا نے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں جو ضلع بھر کے ایسے مقامات کی فہرستیں مرتب کرینگی جہاں بڑے سائز کی چارپائیاں رکھی گئی ہیں اور جہاں جرائم پیشہ عناصر نے ڈیرے جما رکھے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ’’منجا کلچر‘‘ کی آڑ میں جرائم پیشہ عناصر جوئے ، منشیات فروشی میں و دیگر جرائم کے دھندے بھی چلا رہے ہیں۔ جس سے علاقہ مکینوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ اس حوالے سے آر پی او کا کہنا ہے کہ خواتین، لڑکیوں اور بچوں کی عزت اور انکی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنا فیصل آباد پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ،’’منجا کلچر‘‘کی آڑ میں جرائم کے دھندوں کو بھی جڑ سے ختم کیا جائے گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں