شدید گرمی اور حبس سے سرگودھا میں معمولاتِ زندگی مفلوج
شدید گرمی اور حبس سے سرگودھا میں معمولاتِ زندگی مفلوجہیٹ سٹروک، پانی کی کمی، کمزوری اور بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ
سرگودھا (سٹاف رپورٹر)اتوار کے روز سرگودھا اور گردونواح میں شدید گرمی اور حبس نے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر دیے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دن کے وقت درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ ہوا میں نمی کے تناسب میں اضافے کے باعث گرمی کی شدت معمول سے کہیں زیادہ محسوس کی گئی، جس سے شہریوں کو سانس لینے میں دشواری اور شدید بے چینی کا سامنا کرنا پڑا۔شدید موسم کے باعث دوپہر کے اوقات میں شہر کی سڑکیں سنسان رہیں، جبکہ بازاروں اور مارکیٹوں میں بھی خریداروں کی آمد معمول سے کم رہی۔ بیشتر شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کرتے رہے اور جو لوگ مجبوری میں باہر آئے ، وہ سایہ دار مقامات کی تلاش میں رہے شدید گرمی کا سب سے زیادہ اثر بزرگوں، بچوں، مزدور طبقے اور مختلف امراض میں مبتلا افراد پر دیکھا گیا۔ سرکاری و نجی ہسپتالوں میں ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی، کمزوری اور بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، زیادہ سے زیادہ پانی پینے اور بچوں و بزرگوں کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت کی ہے ۔دوسری جانب شدید گرمی میں بجلی کی بار بار بندش نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کی مسلسل بندش کے باعث گھریلو اور تجارتی سرگرمیاں متاثر رہیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ شدید گرمی میں بجلی کی بندش ناقابل برداشت صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ شدید موسم کے اثرات صرف انسانوں تک محدود نہ رہے بلکہ چرند پرند بھی گرمی سے نڈھال دکھائی دیے۔ تاجر برادری کے مطابق دوپہر کے وقت شدید گرمی کے باعث کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر رہیں اور بیشتر مارکیٹوں میں خریداروں کی تعداد معمول سے بہت کم رہی۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔