اینٹی ریپ کرائسز سیلز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ، اضلا ع سےرپورٹس طلب کر لی گئی

 اینٹی ریپ کرائسز سیلز کی کارکردگی کا  جائزہ لینے کا فیصلہ، اضلا ع   سےرپورٹس طلب کر لی گئی

مقصد جنسی تشدد کے متاثرین کو ایک ہی جگہ طبی معائنہ اور سہولیات دینا تھا ، رپورٹس کی روشنی میں ہر ضلع کی کارکردگی کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا

سرگودھا (سٹاف رپورٹر)حکومت نے خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد و زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام، متاثرین کو فوری طبی و قانونی معاونت کی فراہمی اور مقدمات کی مؤثر تفتیش یقینی بنانے کے لیے ضلع بھر میں قائم اینٹی ریپ کرائسز سیلز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا ۔تمام اضلاع سے ابتدائی کارکردگی رپورٹس طلب کر لی گئی ہیں۔اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ کے تحت ضلعی سطح پر سرکاری ٹیچنگ اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں اینٹی ریپ کرائسز سیلز قائم کیے گئے تھے ۔مقصد جنسی تشدد کے متاثرین کو ایک ہی جگہ طبی معائنہ، فرانزک نمونوں کا حصول، نفسیاتی معاونت، قانونی رہنمائی اور پولیس و پراسیکیوشن کے ساتھ مؤثر رابطے کی سہولت فراہم کرنا تھا۔سرگودھا میں یہ خصوصی سیل ڈاکٹر فیصل مسعود ٹیچنگ ہسپتال میں قائم کیا گیا، تاہم یہ سیل تاحال نمایاں کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ حکومت نے اینٹی ریپ کرائسز سیلز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے ۔رجسٹرڈ مقدمات، متاثرین کو فراہم کی جانے والی طبی و نفسیاتی سہولیات، فرانزک نمونوں کے حصول، پولیس کے ساتھ رابطہ، مقدمات کے اندراج اور تفتیش میں معاونت سمیت دیگر امور کی تفصیلات شامل ہو نگی ۔ رپورٹس کی روشنی میں ہر ضلع کی کارکردگی کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا۔، جبکہ کمزور کارکردگی والے اینٹی ریپ کرائسز سیلز کو فعال بنانے کے لیے انتظامی اور عملی اقدامات کیے جائیں گے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں