دوارب کا تخمینہ : اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہونے کے باوجود شہر صفائی سے محروم
میونسپل کارپوریشن سالانہ 33 کروڑ روپے خرچ کرتی تھی، اب حکومت اسی نظام پر سالانہ 2 ارب روپے خرچ کرے گی،کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی، شہری
سرگودھا(نعیم فیصل سے ) شہر میں صفائی اور سیوریج کے نظام پر سرکاری اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہونے کے باوجود شہریوں کو خاطر خواہ ریلیف نہ مل سکا۔ جہاں ماضی میں میونسپل کارپوریشن سرگودھا شہر کی صفائی اور سیوریج کے نظام پر سالانہ تقریباً 33 کروڑ روپے خرچ کرتی تھی، وہیں اب حکومت پنجاب کے تحت قائم کیے گئے ستھرا پنجاب اور واسا کے ذریعے اسی نظام پر سالانہ تقریباً 2ارب روپے خرچ کیے جانے کا تخمینہ ہے شہریوں کا کہنا کہ اخراجات میں تقریباً چھ گنا اضافہ ہونے کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی۔
ان کے مطابق گلیوں میں کچرے کے ڈھیر، بند گٹر، سیوریج کے ابلتے پانی اور نکاسی آب کے مسائل آج بھی بدستور موجود ہیں، جبکہ شکایت کے بعد عملہ صرف عارضی کارروائی کر کے واپس چلا جاتا ہے اور مستقل بنیادوں پر مسئلے حل نہیں کیے جاتے ،شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کام کا معیار پہلے جیسا ہی ہے تو اخراجات 33 کروڑ روپے سے بڑھ کر تقریباً 2 ارب روپے کیوں پہنچ گئے ؟ ان کے بقول اضافی فنڈز کہاں خرچ ہو رہے ہیں، کیا نئے اداروں کے قیام کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا تھا یا انتظامی اخراجات، ٹھیکیداری نظام اور تنخواہوں میں اضافہ؟ شہریوں نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ ستھرا پنجاب اور واسا کے مالی و انتظامی معاملات کا آزاد (تھرڈ پارٹی) آڈٹ کرایا جائے ، ہر محلے کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ عوام کے سامنے آویزاں کی جائے۔ ، جس میں صاف کیے گئے گٹروں، اٹھائے گئے کچرے اور انجام دیے گئے کام کی تفصیلات شامل ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود خدمات کا معیار بہتر نہیں ہو سکتا تو پرانے نظام کی بحالی پر بھی غور کیا جائے تاکہ قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ کم کیا جا سکے ۔