مضرِ صحت اچار کی تیاری اور فروخت کا دھندہ بھی عروج پر پہنچ گیا
فوڈ سیفٹی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مؤثر کارروائی دکھائی نہیں دے رہی
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) مون سون کے ساتھ ہی سرگودھا میں مضرِ صحت اچار کی تیاری اور فروخت کا دھندا بھی عروج پر پہنچ گیا، جبکہ متعلقہ اداروں کی خاموشی نے شہریوں کی صحت کو داؤ پر لگا دیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں غیر معیاری مصالحہ جات، ناقص سرکہ اور کم درجے کے تیل سے تیار ہونے والا اچار کھلے عام فروخت کیا جا رہا ہے ، مگر فوڈ سیفٹی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مؤثر کارروائی دکھائی نہیں دے رہی،ذرائع کے مطابق جولائی کے اختتام پر اچاری آم کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور پھل کے جلد خراب ہونے کی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہر اور گردونواح میں قائم متعدد چھوٹی غیر رجسٹرڈ یونٹس اور گھریلو سطح کی فیکٹریوں میں بڑے پیمانے پر اچار تیار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا کہ کئی مقامات پر ناقص، باسی اور سڑنے کے قریب آم، غیر معیاری مصالحہ جات، کم معیار کے سرکہ اور تیل کا استعمال کیا جا رہا ہے ، جبکہ صفائی اور حفظانِ صحت کے بنیادی اصولوں کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے ،شہریوں کے مطابق اندرون شہر شربت چوک اور ملحقہ علاقوں میں غیر معیاری اچار کھلے برتنوں میں فروخت کیا جا رہا ہے ۔ نہ اسے گردوغبار، مکھیوں اور آلودگی سے محفوظ رکھا جاتا ہے اور نہ ہی تیاری کے دوران حفظانِ صحت کے تقاضوں پر عمل کیا جاتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments