سانحہ کارساز جمہوری جدوجہد کا المناک باب :ملک شہادت

سانحہ کارساز جمہوری جدوجہد کا المناک باب :ملک شہادت

سانحہ کارساز جمہوری جدوجہد کا المناک باب :ملک شہادت حملہ صرف انسانی جانوں پر نہیں بلکہ جمہوری اجتماع، سیاسی آزادی پر وار تھا

خوشاب (نمائندہ دُنیا) سابق وزیر مملکت برائے قانون و انصاف سینیٹر ملک شہادت اعوان نے کہا ہے کہ 18 اکتوبر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک المناک دن ہے ، جس کی یاد آج بھی دلوں کو سوگوار کر دیتی ہے ۔ اس روز آٹھ سالہ جلاوطنی کے بعد شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر کراچی کی سڑکوں پر ان کے استقبال کے لیے امڈ آنے والے جم غفیر کو کارساز کے مقام پر یکے بعد دیگرے ہونے والے بم دھماکوں میں خون میں نہلا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ استقبالیہ اجتماع جمہوریت، امید اور عوامی جدوجہد سے وابستہ لاکھوں لوگوں کے جذبات کا اظہار تھا۔ اس تاریخی اور پُرامن اجتماع کو سبوتاژ کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عام شہریوں سمیت سینکڑوں افراد کو شہید اور زخمی کیا گیا، جبکہ کئی خاندان ہمیشہ کے لیے غم میں ڈوب گئے ۔

یہ حملہ صرف انسانی جانوں پر نہیں بلکہ جمہوری اجتماع، سیاسی آزادی اور عوامی اظہارِ رائے پر بھی ایک سنگین وار تھا۔ملک شہادت اعوان نے مزید کہا کہ سانحہ کارساز کے شہدا کی قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ جمہوریت کی تاریخ صرف جلسوں، تقریروں اور نعروں سے نہیں بنتی بلکہ اس میں ان بے شمار لوگوں کا لہو بھی شامل ہے جو اپنے جمہوری حق کے اظہار کے لیے گھروں سے نکلے ، مگر واپس نہ لوٹے ۔انہوں نے کہا کہ 18 اکتوبر کا دن ہمیں یہ عہد یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے سامنے حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے ، انصاف کی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے اور اختلافِ رائے کو تشدد کے ذریعے دبانے کے بجائے قانون، امن اور جمہوری اقدار کو فروغ دینا چاہیے ۔ انہوں نے سانحہ کارساز کے تمام شہدا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...