مخصوص نشستیں:ملک کو اب آئین پر چلنے دیں:چیف جسٹس:کیا نظریہ ضرورت زندہ کردیں:جسٹس اطہر

مخصوص نشستیں:ملک کو اب آئین پر چلنے دیں:چیف جسٹس:کیا نظریہ ضرورت زندہ کردیں:جسٹس اطہر

اسلام آباد(نمائندہ دنیا،دنیا نیوز)چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ ملک کو اب آئین پر چلنے دیں، سپریم کورٹ کے فیصلے انصاف پر مبنی ہیں۔

نظریہ ضرورت  کے تمام فیصلوں میں انصاف کے تقاضوں کا ذکر، ٹھوس مواد نہ ملے تو انصاف کی مرضی کی تشریح کی جاتی ہے ، کسی جج سے بدنیتی منسوب نہیں کر رہا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا الیکشن کمیشن نے خود آئین کی یہ سنگین خلاف ورزی کی،کیا آئینی ادارے کی جانب سے غیرآئینی تشریح کی عدالت توثیق کر دے ؟ کیا آپ چاہتے ہیں ہم نظریہ ضرورت کو دوبارہ زندہ کر دیں؟جسٹس منصور علی شاہ نے کہا یہ کوئی پٹواری کی زمین کا تنازع کا کیس نہیں جو صرف اپیل تک محدود رہیں، مکمل انصاف کا اختیار اور کہاں استعمال کرنا ہے ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل 13 رکنی فل کورٹ بینچ نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا 2018 کے انتخابات میں مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا ریکارڈ مانگا گیا تھا، 2002 اور 2018 کے انتخابات میں مخصوص نشستوں سے متعلق بھی ریکارڈ ہے ، انہوں نے کہا مخصوص نشستوں کے تعین میں آزاد امیدواروں کو شامل نہیں کیا گیا تھا، جو آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہو جائے وہ پارٹی کا رکن تصور ہوتا ہے ۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا اٹارنی جنرل صاحب آپ نے بنیادی سوال کا جواب ہی نہیں دیا، ایک سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن نے انتخابات سے نکال دیا، الیکشن کمیشن نے خود آئین کی یہ سنگین خلاف ورزی کی، الیکشن کمیشن نے غیرآئینی اقدامات کئے تو کیا عدلیہ کی ذمہ داری نہیں کہ اسے درست کرے ۔اٹارنی جنرل نے کہا میری گزارشات کے آخری حصے میں اس سوال کا جواب ہوگا، جسٹس منصور علی نے کہا کہ ماضی میں کبھی آزاد اراکین کا معاملہ عدالت میں نہیں آیا، اس مرتبہ آزاد اراکین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کیس بھی آیا ہے ،جسٹس منیب اختر نے کہا پارلیمانی نظام کی بنیاد سیاسی جماعتوں پر ہے ، موجودہ تنازع الیکشن کمیشن کی غلطیوں کی وجہ سے آیا، سوال یہ ہے آزاد امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آئی؟ کیا لوگوں نے خود ان لوگوں کو بطور آزاد امیدوار چنا؟ کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے اتنے زیادہ آزاد امیدوار بنائے ، جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے ؟ کیا وہ قانونی آپشن نہیں اپنانا چاہیے جو اس غلطی کا ازالہ کرے ؟جسٹس جمال مندو خیل نے کہا آرٹیکل 51 میں سیٹوں کا ذکر ہے ، ممبر شپ کا نہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 224 رعایت ہے ورنہ کوئی اسمبلی کی سیٹ خالی نہیں چھوڑی جا سکتی،چیف جسٹس نے کہاکسی فریق کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نشستیں خالی رہیں، ہر فریق یہی کہتا ہے کہ دوسرے کو نہیں نشستیں مجھے ملیں، آپ پھر اس پوائنٹ پر اتنا وقت کیوں لے رہے ہیں کہ نشستیں خالی نہیں رہ سکتیں؟ موجودہ صورتحال بن سکتی ہے یہ آئین بنانے والوں نے کیوں نہیں سوچا؟ یہ ان کا کام ہے ، آئین میں کیا کیوں نہیں ہے ، یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ہے ، بار بار کہہ رہا ہوں ہمارے سامنے موجود آئین کے متن پر رہیں۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فیصل صدیقی نے کہا تھا اگر سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں ملتیں تو خالی چھوڑ دیں، پارلیمانی پارٹی کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعت نے انتخابات میں نشست جیتی ہو، پارلیمانی پارٹی ارکان کے حلف لینے کے بعد وجود میں آتی ہے ، آرٹیکل 63 اے کے اطلاق کیلئے ضروری ہے کہ پارلیمانی پارٹی موجود ہو،جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ کیا اس وقت سنی اتحاد پارلیمانی جماعت ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس نے کہا اس بات کا فرق کیا پڑے گا کہ پارلیمانی جماعت ہے یا نہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا ایک جماعت کی پارلیمانی پارٹی حیثیت تسلیم کیے جانے سے کیسے فرق نہیں پڑے گا؟جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی پارٹی ڈیکلیئر کر چکا ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا پارلیمانی پارٹی قرار دینے کا نوٹیفکیشن کیسے آیا؟ وہ نوٹیفکیشن سنی اتحاد کونسل نے ریکارڈ پر رکھا ہے ۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ جواب الجواب دلائل میں وہ خود بتا دیں گے ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وہ نہیں، آپ بتائیں الیکشن کمیشن کے اس نوٹیفکیشن پر کیا کہتے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹیفکیشن اٹارنی جنرل کو دکھا دیا، سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا نوٹیفکیشن بھی دکھایا، فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نوٹیفکیشن سے زرتاج گل کو پارلیمانی لیڈر بھی بنا چکا۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آزاد امیدوار پارلیمانی پارٹی نہیں بنا سکتے ، آزاد امیدواروں نے اسی میں شامل ہونا ہوتا ہے جو پارٹی ایک سیٹ کم سے کم جیت کر آئی ہو۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس نوٹیفکیشن کی حیثیت کیا ہے ؟ ڈپٹی رجسٹرار کے خط کو سپریم کورٹ کا موقف کیسے مانا جا سکتا ہے ؟جسٹس منیب اختر نے کہا سرکاری طور پر ہونے والی کمیونی کیشن کو نظرانداز کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن کس قانون کے تحت جاری کئے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرٹیکل 63 اے سے ان نوٹیفکیشنز کا تعلق نہیں،اٹارنی جنرل منصوراعوان نے علامہ اقبال کے ‘‘بانگ درا’’ کے شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘‘مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں، میرا شوق دیکھ اور میرا انتظار دیکھ’’جسٹس جمال مندوخیل نے کہا آپ کی تشریح مان لیں تو پارلیمان میں بیٹھے اتنے لوگوں کا کوئی پارلیمانی لیڈر نہیں ہوگا؟ موقف مان لیا تو کسی کیخلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف ہونے پر کارروائی ممکن نہیں ہوگی۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک طرف ہمیں بتایا جاتا ہے الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے ، اب الیکشن کمیشن کا ہی ریکارڈ ان لوگوں کو سنی اتحاد کونسل کا مان رہا ہے ، بتائیں نا الیکشن کمیشن انہیں پارلیمانی پارٹی مان کر کیسے نشستوں سے محروم کر رہا ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا اگر سنی اتحاد ضمنی انتخابات میں جیتتی ہے تو پارلیمانی پارٹی بن سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا لوگوں کو علم تھا کہ آزاد قرار دیئے گئے امیدوار پی ٹی آئی کے ہیں، مکمل انصاف کا اختیار اور کہاں استعمال کرنا ہے جب عدالت پوری تصویر ہی نہ دیکھ سکے ، کیا عدالت آنکھیں بند کر لے ؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا یہ ثابت ہو چکا ہے کہ الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کی، کیا آئینی ادارے کی جانب سے غیرآئینی تشریح کی عدالت توثیق کر دے ؟ کیا آپ چاہتے ہیں ہم نظریہ ضرورت کو دوبارہ زندہ کر دیں؟عدالت آئین کی سنگین خلاف ورزی کی توثیق کر دے ؟ کیا کمرے میں موجود ہاتھی کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے ؟ ایک آئینی ادارے نے غیر آئینی تشریح کی اور سپریم کورٹ توثیق کرے ؟جسٹس منصور علی شاہ نے کہا یہ کوئی پٹواری کی زمین کا تنازع کا کیس نہیں جو صرف اپیل تک محدود رہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت انصاف کے تقاضوں کا نہیں آئین اور قانون کا اطلاق کرتی ہے ؟ نظریہ ضرورت کے تمام فیصلوں میں انصاف کے تقاضوں کا ہی ذکر ہے ، جب کچھ ٹھوس مواد نہ ملے تو انصاف کی اپنی مرضی کی تشریح کی جاتی ہے ، کسی جج سے بدنیتی منسوب نہیں کر رہا۔چیف جسٹس نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے انصاف پر مبنی ہیں، ہر فیصلے نے آئین کو فالو کیا، کچھ ججز دانا ہوں گے ، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں۔اسی کے ساتھ اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہوگئے ، سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے کہا کہ میں 15 منٹ میں جواب الجواب ختم کر دوں گا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی مزید سماعت 9 جولائی تک ملتوی کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں