بجلی7.12 روپے یونٹ تک مہنگی:گھریلو صارفین کیلئے بنیادی ٹیرف 48.84روپے تک مقرر،ٹیکسز ملا کر65روپے سے بھی بڑھ جائیگا،وفاقی وزیر کا مہنگی بجلی کا اعتراف
اسلام آباد (نامہ نگار،دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)گھریلو صارفین کیلئے بجلی کے نرخ بغیر ٹیکس 48.84 روپے فی یونٹ تک مقرر کر دئیے گئے ،18 فیصد سیلز ٹیکس کے بعد فی یونٹ بنیادی ٹیرف 57 روپے 63 پیسے تک بڑھ جائیگا۔
جبکہ ایڈجسٹمنٹس اور دیگر ٹیکسز ملاکر فی یونٹ بجلی کا زیادہ سے زیادہ ٹیرف 65 روپے سے بڑھ جائے گا۔وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے بجلی صارفین کیلئے بنیادی ٹیرف میں 3 روپے 95 پیسے سے 7 روپے 12 پیسے تک اضافے کی منظوری دیدی، اطلاق یکم جولائی سے ہوگا،صارفین پر 600ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔نئے سلیب کے حوالے سے موصول دستاویزات کے مطابق نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کیلئے 1 سے 100 یونٹ استعمال پر ٹیرف 7.11 روپے اضافے سے 23.59 روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ ماہانہ 101 سے 200 یونٹ استعمال پر فی یونٹ 7.12 روپے اضافے سے 30.07 روپے مقرر کیا گیا ہے ، ماہانہ 201 سے 300 یونٹ تک کا بجلی ٹیرف 7.12 روپے اضافے سے 34.26 روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ ماہانہ 301 سے 400 یونٹ پر 7.02 روپے اضافے سے فی یونٹ ٹیرف 39.15 روپے مقرر کیا گیا ہے ، ماہانہ 401 سے 500 یونٹ تک 6.12 روپے اضافے سے ٹیرف 41.36 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے ،اسی طرح ماہانہ 501 سے 600 یونٹ استعمال پر ٹیرف 6.12 روپے اضافے سے 42.78 روپے مقرر کیا گیا ہے ۔
ماہانہ 601 سے 700 یونٹ پر بجلی ٹیرف 6.12 روپے اضافے سے 43.92 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے جبکہ ماہانہ 700 یونٹ سے زیادہ کا ٹیرف 6.12 روپے اضافے سے 48.84 روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ ماہانہ 50 یونٹ تک لائف لائن صارفین کیلئے فی یونٹ 3.95 روپے برقرار رکھا گیا ہے ،جبکہ ماہانہ 51 سے 100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کیلئے فی یونٹ 7.74 روپے برقرار رہے گا، 1 سے 100 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف 3.95 روپے اضافے سے 11.69 روپے فی یونٹ ہو جائے گا، جبکہ 101 سے 200 یونٹ استعمال پر پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف 4.10 روپے اضافے سے 14.16 روپے فی یونٹ ہو جائے گا۔دریں اثنا وفاقی کابینہ نے مختلف کیٹیگریز کیلئے بجلی کے فکسڈ چارجز میں اضافے کی بھی منظوری دے دی، گھریلو بجلی صارفین پر ماہانہ 200 تا ہزار روپے فکسڈ چارجز عائد کیے جائینگے ۔ کمرشل صارفین پر مقررہ چارجز میں 300 فیصد اور صنعتی استعمال پر 355 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے ۔301-400 یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین یکم جولائی سے 200 روپے چارجز ادا کریں گے ۔
401 سے 500 یونٹ استعمال کرنے والے 400 روپے ادا کریں گے ،501 سے 600 تک یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 600 روپے ادا کرنا ہوں گے ۔ 601 سے 700 یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین ماہانہ 800 روپے ادا کریں گے ۔ 700 یونٹ سے زیادہ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین ماہانہ 1000 روپے چارجز ادا کریں گے ۔ٹائم آف یوز میٹر استعمال کرنے والے گھریلو صارفین بھی ماہانہ 1000 روپے مقررہ چارجز ادا کریں گے ۔ پانچ کلو واٹ سے کم لوڈ والے کمرشل صارفین ماہانہ 1000 روپے چارجز ادا کریں گے ۔ 5 کلو واٹ یا اس سے زیادہ لوڈ والے بجلی کے کمرشل صارفین 2000 روپے ادا کریں گے ،ٹائم آف یوز میٹرنگ کے تحت 25 کلو واٹ تک استعمال کرنے والے صنعتی صارفین 1000 روپے ادا کریں گے ۔ بی ٹو کیٹیگری کے صارفین 500 کلو واٹ تک 2000 روپے ادا کریں گے ،5 ہزار کلو واٹ استعمال کرنے والے بی 3 کیٹیگری کے صنعتی صارفین 2000 روپے مقررہ چارجز ادا کریں گے ۔
بی 4 کیٹیگری کے صارفین بھی مقررہ چارجز 2000 روپے ماہانہ ادا کریں گے ،اسی طرح زرعی ٹیوب ویل صارفین کیلئے ماہانہ فکسڈ چارجز میں 100 فیصد اضافہ منظور کیا گیا ہے اور یہ 200 سے بڑھ کر 400 روپے ہوجائیں گے ۔وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد نیپرا 8 جولائی کو سماعت کرے گی جس کے بعد فیصلہ جاری کیا جائے گا۔پاور ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جولائی2024 سے بجلی کے نئے نرخ لاگو ہوں گے ، بجلی کے نئے ٹیرف سے زیادہ تر لوگوں کے ماہانہ بل پرتھوڑا سا اثر ڈالیں گے ،بجلی کے بلز میں کم سے کم اضافہ کیلئے حکومت 440 ارب کی سبسڈی دے گی،ایک کروڑ68 لاکھ یا 58 فیصد غریب گھریلوصارفین کے لیے اضافہ2فیصد سے کم ہوگا، نسبتاً امیر 42 فیصد صارفین کیلئے اوسطاً 9 فیصد اضافہ ہوگا۔معیشت بہتر ہونے پر بجلی کے نرخوں میں کمی کی توقع ہے ۔ جنوری2025 تک تمام صارفین کے لیے بجلی کے نرخ جون2024کے مقابلے اوسطاً 3 فیصد کم ہونے کی توقع ہے ، بجلی شعبے کی مقررہ 75 فیصد لاگت کے پیش نظر فکسڈچارجز کا اجرا ضروری تھا، ملکی صنعت کے فروغ کیلئے صنعتی شعبہ سے 150 ارب کا بوجھ کم کر دیا گیا۔
نیپرا کی سماعت کے بعد بجلی کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران جواب دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ پاکستان میں بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں،انہوں نے کہا اگر شرح سود نہ بڑھی اور روپے کی قدر مزید نیچے نہ گئی تو جنوری 2025 سے بجلی کی قیمتیں دو سے تین فیصد کم ہوں گی۔ آئندہ تین سے چار مہینوں کے لیے کچھ گھریلو صارفین پر قیمتوں میں دو سے لے کر نو فیصد تک کا اضافہ ہو گا کیونکہ پچھلے سال کے ٹیرف کا بوجھ اگلے چھ مہینے کیلئے اٹھانا ہو گا تاہم جنوری سے بجلی کی قیمتوں میں کمی ہو گی، ہم نے صنعتوں پر سے ڈیڑھ سو ارب روپ کا بوجھ کم کیا ہے تاکہ نوکریاں پیدا ہوں اور ڈیمانڈ اوپر جائے اور صنعتیں ترقی کریں، ہمیں حکومت میں آئے تین مہینے ہوئے ہیں مگر ہم اصلاحات کو عملی جامہ پہنائیں گے اور اسی حکومت میں صارفین کو بہتر اور سستی بجلی فراہم کرنے کی پوزیشن میں آئیں گے ۔