سندھ اور وفاق کا چھوٹے کاروباری اداروں میں شراکت داری پر غور

سندھ اور وفاق کا چھوٹے کاروباری اداروں میں شراکت داری پر غور

وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی کے درمیان اجلاس،چیلنجز ،صنعتی ترقی و دیگر امور پر تبادلہ خیال ری فنانس سکیمیں دوبارہ متعارف کرائی جائیں:مراد علی شاہ،معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھائینگے :ہارون اختر

کراچی (سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں صوبے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز)کی ترقی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری قائم کرنے پر غور کیا گیا۔اجلاس میں محدود مالی وسائل تک رسائی اور بلند پیداواری لاگت جیسے چیلنجز پر قابو پانے اور صنعتی ترقی کے لیے صوبائی اقدامات سے فائدہ اٹھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کی ایک بڑی پیش رفت سندھ کے شہر کنری میں ریڈ چلی پروسیسنگ (ڈی ہائیڈریشن) یونٹ کی بحالی کے لیے مشترکہ عزم تھا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق اس اشتراک کا مقصد مرچ کی ویلیو چین کو جدید بنانا ہے جو سندھ کے ایک اہم زرعی کلسٹر کی بنیادی ضرورت ہے ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ضمانت کی کمی، پیچیدہ طریقۂ کار اور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے لیے مخصوص بینکاری نیٹ ورک کی عدم موجودگی قرضوں تک رسائی میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جون 2025 سے سٹیٹ بینک نے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے لیے وہ ری فنانس اسکیمیں ختم کر دی ہیں جن کے تحت چھ فی صد شرح پر سبسڈی شدہ قرضے فراہم کیے جا رہے تھے ۔وزیراعلیٰ نے ری فنانس اسکیموں کو دوبارہ متعارف کرانے کی تجویز دی جس پر ہارون اختر نے کہا کہ وہ اس معاملے کو وزیراعظم کے سامنے اٹھائیں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں