ٹیکس وصولی اختیار صوبوں کو منتقل کرنیکی ضرورت : بلاول
صوبوں کے حصے میں کٹوتی سے مالی مسائل حل نہیں ہونگے :چیئرمین پیپلزپارٹی وفاق کی بنانیوالی سڑکیں سندھ حکومت نہیں بناسکتی :خطاب، جین میریٹ کی ملاقات
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جب وفاقی حکومت نے ابتدا میں سندھ سے سروسز پر سیلز ٹیکس وصولی کی ذمہ داری دی تو یہ رقم 16اعشاریہ 6 ارب روپے تھی، جسے سندھ حکومت نے سال کے اندر بڑھا کر 28 ارب روپے کر دیا، اب سندھ 307 ارب روپے سیلز ٹیکس جمع کر رہا ہے ،این ایف سی کے تحت صوبوں کے حصے میں کٹوتی سے مالی مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ٹیکس وصولی کے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے ،صوبے میں عالمی معیار کی صحت کی سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں،سندھ میں کینسر کا مہنگا ترین علاج بھی مفت کیا جارہا ہے ۔ان خیا لات کا اظہار انہوں نے سندھ کی تبدیلی کی کہانیسے متعلق مختلف ممالک کے سفیروں اور سفارتی عملے ، پاکستان کی کاروباری برادری کو آگاہ کرتے ہوئے کیا ۔
حکومتِ سندھ کے محکمہ اطلاعات کے زیرِ اہتمام ایوان صدر میں منعقدہ تقریب میں قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی ،سندھ کے وزرا کی بڑی تعدادبھی موجود تھی ۔ بلاول بھٹو زرداری نے پی پی کی سندھ حکومت نے صحت کے بجٹ کو 2اعشاریہ 9 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دیا ،2008 ئمیں اقتدار سنبھالا تو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں 1100 بستروں کی گنجائش تھی جو بڑھ کر 2028 بستر ہو چکی،یہاں اب تک 178 شہروں اور 24 ممالک کے مریضوں کا علاج کیا جا چکا ،600 بستروں پر مشتمل 12 منزلہ نئی عمارت زیرتکمیل ہے ۔بلاول نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی نے قیام کے بعد اب تک 29 لاکھ مریضوں کا علاج کیا، سندھ میں 11 ہسپتال اور 30 چیسٹ پین یونٹس قائم ہیں، ایس آئی یو ٹی نے اب تک 7700 گردوں کی پیوندکاری کی اور 45 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جس سے 3 کروڑ 50 لاکھ افراد مفت مستفید ہوئے ، غلام محمد مہر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں 2016 ء سے اب تک 1362 جگر کی پیوندکاریاں کی جا چکیں ،چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے اشتراک سے 1 لاکھ 75 ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا ۔
انہوں نے بتایا کہ 1947 ئسے 2008 ء تک سندھ میں صرف دس جامعات اور دو کیمپس تھے جبکہ 2025 تک یہ تعداد بڑھ کر 30 جامعات اور 18 کیمپس ہو چکی،129 نئے کالج قائم کئے گئے ،سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (SRSO)کے تحت 14 لاکھ خواتین کو غربت سے نکالا گیا ، سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز کے تحت اب تک 7لاکھ5ہزار مکانات مکمل کئے جا چکے ، بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے 1 لاکھ 98 ہزار مستفید ہونے والوں میں 21 ارب روپے تقسیم کئے گئے ،57 ہزار کلومیٹر سڑکیں تعمیر کیں ، دریائے سندھ پر سب سے بڑا پل بھی تعمیر کیا، پاکستان میں پہلی بار الیکٹرک بسیں اور پنک بسیں متعارف کرائی گئیں ۔ 2008میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران روزانہ کی بنیاد پربم دھماکوں اور دہشتگرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جو سڑکیں وفاق کو بنانا ہیں وہ سندھ حکومت نہیں بناسکتی ۔علاوہ ازیں بلاول بھٹو سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے گزشتہ روز ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت عالمی امور پر بات چیت کی گئی ، سینیٹر شیری رحمن بھی اس موقع پر موجود تھیں۔