بدلتی عالمی صورتحال میں جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا،ایازصادق

  بدلتی عالمی صورتحال میں جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا،ایازصادق

پارلیمنٹ نے شفافیت، احتساب کے قوانین مضبوط کیے : گورننس فورم سے خطاب مضبوط پارلیمان ہی جمہوری استحکام کی بنیاد ہوتا ہے : یوسف رضا گیلانی

 اسلام آباد(نامہ نگار،اپنے رپورٹر سے )سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاکستان گورننس فورم 2026 کے پلینری سیشن بعنوان \"مؤثر طرزِ حکمرانی (گورننس) کے لیے پارلیمنٹ کا استحکام\" سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مؤثر حکمرانی کی بنیاد مضبوط پارلیمنٹ ہے اور پاکستان کو بدلتی عالمی صورتِ حال میں اپنے ریاستی و جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا۔ یہ دو روزہ فورم وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام 25 تا 26 فروری 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔انہوں نے کہا کہ عالمی نظام تیزی سے بدل رہا ہے ، طاقت کے توازن تبدیل ہو رہے ہیں اور ٹیکنالوجی حکمرانی کے روایتی ڈھانچوں کو ازسرِ نو متعین کر رہی ہے ۔ ایسے حالات میں پاکستان کو اپنی پارلیمانی اور انتظامی صلاحیتیں مضبوط کر کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

سپیکر نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ایمپلائز (ترمیمی) ایکٹ 2026 کے تحت انتظامی و مالی اختیارات کو شخصی صوابدید سے نکال کر کثیر الجماعتی فنانس کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا، جس سے شفافیت اور اجتماعی نگرانی کو فروغ ملا۔انہوں نے کہا کہ ہیومن ریسورس اصلاحات کے ذریعے غیر ضروری آسامیوں کا خاتمہ، جدید مہارتوں کا فروغ اور ڈیجیٹل ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ سے کارکردگی میں بہتری آئی۔ ان اصلاحات سے سالانہ تقریباً 140 ملین روپے کی بچت ہوئی، جبکہ مقدمات میں کمی کے باعث مزید مالی بچت بھی ممکن ہوئی۔سپیکر نے بتایا کہ مالی نظم و ضبط کو مضبوط کر کے انٹرنل آڈٹ اور عوامی مالیاتی نظم و نسق کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا، جس سے مالی سال 2024-25 میں 3.172 ارب روپے کی مجموعی بچت ہوئی۔

سپیکر نے بتایا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ 2015 سے شمسی توانائی استعمال کر کے دنیا کی پہلی سو فیصد گرین پارلیمنٹ بن چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مؤثر حکمرانی صرف داخلی اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ مضبوط قانون سازی بھی اس کی بنیاد ہے ۔ پارلیمنٹ نے شفافیت، احتساب اور مالی نظم و ضبط کے لیے متعدد قوانین مضبوط کیے ۔دریں اثناچیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان گورننس فورم 2026 کے اختتامی اجلاس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایک مضبوط اور مؤثر پارلیمان ہی پائیدار طرزِ حکمرانی اور جمہوری استحکام کی بنیاد ہوتا ہے اور پارلیمان ہمارے 24 کروڑ عوام کی امنگوں اور حکومت کے اقدامات کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتی ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال اور ان کی ٹیم کو اس کامیاب اور موثر گورننس فورم کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے اعلیٰ سطحی طرزِ حکمرانی کی تقریب قرار دیا، انہوں نے کہا کہ اس فورم نے پالیسی سازوں، ماہرین اور متعلقہ شراکت داروں کو اصلاحاتی ترجیحات اور تبدیلی کے اقدامات پر بامعنی غور و خوض کا موقع فراہم کیا۔ سابق وزیر اعظم اور سپیکر قومی اسمبلی کے طور پر اپنے وسیع عوامی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے مؤثر حکمرانی کے لیے قانون سازی کی نگرانی (لیجسلیٹو اوور سائٹ) کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی محض ایگزیکٹو شاخ میں پالیسی سازی کا نام نہیں بلکہ پارلیمانی جانچ پڑتال، شفافیت، احتساب اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانے کا جامع عمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب پالیسیوں کو پارلیمانی ملکیت اور تائید حاصل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط اور فعال پارلیمان جمہوری مزاحمت اور قومی استحکام کی ضامن ہوتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں