ایران میں لگی آگ کی تپش سے ہمارا بھی نقصان :قومی اسمبلی
تیل کی بڑھتی قیمتیں معیشت کیلئے خطرہ بن سکتیں:مرزا اختیار، جاکھرانی و دیگر ملکی سلامتی ہر چیز پر مقدم ، صورتحال پر تشویش ، اپوزیشن رائے دے :طارق فضل
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نامہ نگار)قومی اسمبلی میں ایران اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بحث دوسرے روز بھی جاری رہی۔ ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ ایران پر حملے کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اس آگ کی تپش سے پاکستان بھی متاثر ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیل کی بڑھتی قیمتیں پاکستان سمیت خطے کی معیشت کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں، اس لئے جنگ کے خاتمے کیلئے عالمی طاقتیں اسرائیل اور ایران دونوں پر دباؤ ڈالیں۔ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اجلاس کا معمول کا ایجنڈا مؤخر کر کے ایران کے معاملے پر بحث کا آغاز کرایا جبکہ وقفۂ سوالات کی معطلی کی تحریک بھی منظور کی گئی۔ بعض ارکان کی جانب سے طریقہ کار پر اعتراضات بھی اٹھائے گئے ۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں عالمی و علاقائی طاقتوں کا کردار اہم ہے ۔ ان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو چکا ہے جو پاکستان کی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے ۔ انہوں نے پاکستان، روس، چین، ترکیہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کیلئے فعال کردار ادا کریں۔
دیگر ارکان نے بھی ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کے اثرات براہ راست پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں، اس لیے دانشمندانہ سفارتکاری کی ضرورت ہے ۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کی خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح اس کا قومی مفاد ہوتا ہے اور پاکستان کی سلامتی ہر چیز پر مقدم ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان میں اپنی رائے دے تاکہ قوم کو یکجہتی کا پیغام ملے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے اور خطے میں تناؤ کم کرنے کا پیغام دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی کے باعث تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کے معیشت پر بھیانک اثرات مرتب ہوں گے ۔ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ 2022 کے بعد افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور ہزاروں پاکستانی شہری متاثر ہوئے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کی مؤثر گارنٹی نہیں دی جاتی، دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔ایوان میں مجموعی طور پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کو خطے میں امن و استحکام کیلئے فعال، متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ممکنہ معاشی اور سکیورٹی چیلنجز کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے ۔