امریکا کی پسپائی عارضی، 5 روز کے بعد کیا ہوگا؟

امریکا کی پسپائی عارضی، 5 روز کے بعد کیا ہوگا؟

نئے بندوبست کیساتھ دوبارہ کارروائی ممکن،مذاکرات کیلئے امریکا پراعتماد نہیں

(تجزیہ:سلمان غنی) 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی پاور پلانٹس پر حملہ کے عمل کو پانچ دن کے لئے موخر کرنے کو شدت کے ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا جا سکتا ہے اور اطلاعات یہ ہیں کہ یہ پیشرفت پس پردہ سفارتی عمل کے نتیجہ میں ہوئی۔ اس ضمن میں پاکستان ،ترکیہ اور مصر کی کوششوں کواہم قرار دیا جا رہا ہے لیکن اب بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ جنگی صورتحال میں یہ ٹھہرائو عارضی ہو گا یا یہ سلسلہ آگے چل پائے گا ،لیکن پھر بھی عالمی امور کے ماہرین یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ یہ عمل خود امریکا پر خود ان کے اپنے اتحادیوں خصوصاً خلیجی ممالک کی لیڈرشپ کے دباؤ پر ممکن بنا ،اس لئے کہ جب امریکی صدر نے ایران کو آبنائے ہرمز کے حوالے سے اڑتالیس گھنٹے کی دھمکی دی تھی تو ایران نے بھی جواباً خلیج میں موجود پاور اور واٹر پلانٹس پر حملوں کا عندیہ دیا تھا، جو خلیجی ممالک کیلئے خطرے کی گھنٹی تھی ۔ بڑا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ امریکی جارحیت کے مقاصد کیا پورے ہوئے ؟اور کیا صدر ٹرمپ کو فیس سیونگ مل پائے گی ؟۔

ایک بات تو یہ کھل کر سامنے آگئی ہے کہ امریکا کا ایران میں رجیم چینج کا خواب حقیقت بن سکا اور نہ ہی وہ ایران کو زیر کرسکا ہے ، اسکی ایک وجہ تو یہ تھی کہ مغربی اتحادی خود امریکا کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے جبکہ دوسری جانب ایران کی بھی تیاری پوری تھی، اسے خوب معلوم تھا کہ اسرائیل اور امریکا نے ان پر جنگ مسلط کرنا ہے ۔ایران کے اندر یہ جذبہ دیکھنے کو ملا کہ وہاں کی لیڈرشپ کو امریکا کے خلاف عوامی تائید حاصل رہی، جبکہ جنگ کے آغاز پر سینکڑوں بچیوں کی شہادت نے جلتی پر تیل کا کام کیا،اب سوال یہ ہے کہ پانچ روز بعد کیا ہو گا، حملوں کاسلسلہ ٹلے گا یا چلے گا ؟اور کیا امریکا اپنی جگ ہنسائی ہضم کرلے گا؟،لگتا یہ ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے یہ پسپائی عارضی ہے اور امریکا دوبارہ سے نئے بندوبست کے تحت کارروائی کرے گا،دوسری رائے یہ بھی ہے کہ امریکا کواس جنگ میں بڑی سپورٹ نہیں ملی ،حقیقت یہ ہے کہ دنیا نے ٹرمپ کے اس مائنڈ سیٹ کاساتھ نہیں دیا ،اس لئے اب امریکا کو دوبارہ ایران پر حملہ کیلئے بہت کچھ سوچناپڑے گا جبکہ مذاکرات کے حوالے سے امریکا اعتماد کھوچکا ہے ، لہذا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ اسے اسرئیل کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا خلیجی ممالک اور اتحادیوں کی بات ماننا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں