الیکشن : مظفرآباد میں مذاکرات تعطل کا شکار، سہیل آفریدی کا گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کو خط
وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان بات چیت کے تین دور ، مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول تشویشناک ہے ، وزیراعلیٰ پختونخوا کا سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور ہراساں کرنے پر عدالت سے نوٹس کا مطالبہ
مظفرآباد، پشاور (آئی این پی، مانیٹر نگ ڈیسک، دنیا نیوز )وفاقی مذاکراتی کمیٹیاور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مظفرآباد میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ، ذرائع کے مطابق مذاکرات میں مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے ، وفاقی مذاکراتی کمیٹیاور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان بات چیت کے تین دور ہوئے ، عوامی ایکشن کمیٹی کے دیگر نکات پر کافی حد تک اتفاق رائے پایا جاتا ،عوامی ایکشن کمیٹی کے پاس نشستوں کے خاتمے کے سوا کوئی آپشن زیر غور نہیں۔یاد رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9جون کو آزاد کشمیر میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے چیف جسٹس سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط لکھ دیا ۔ذرائع کے مطابق خط میں آنے والے انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کی درخواست کر دی ، سہیل آفریدی نے چیف جسٹس سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے ۔متن کے مطابق گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول انتہائی تشویشناک ہے ، ایک سیاسی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں، عوامی اجتماعات، انتخابی مہم اور قیادت کو نقل و حرکت میں رکاوٹوں کا سامنا ہے ۔خط میں کہا گیا کہ سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے ، غیر قانونی گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں، اگر یہ اقدام نہ روکے گئے تو انتخابی عمل کی ساکھ اور شفافیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ متن میں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آئین ہر سیاسی جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق دیتا ہے ، چیف جسٹس متعلقہ حکام کو صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کی ہدایت کریں۔