ٹرمپ کی ایران بارے سخت شرائط نے مفاہمتی عمل پیچیدہ بنا دیا
فریقین میں مذاکرات اب بھی کم نقصان دہ اور زیادہ حقیقت پسندانہ آپشن
(تجزیہ: سلمان غنی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے مزید سخت شرائط نے یقیناً جاری مفاہمتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا ، تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ مذاکراتی عمل اپنے اختتام کو پہنچ چکا ، عالمی سفارت کاری کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ بڑے تنازعات میں فریقین اکثر سخت بیانات اور دباؤ کی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ رابطوں کے دروازے بھی کھلے رکھتے ہیں۔ مجموعی اشارے یہی ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران مکمل محاذ آرائی کے بجائے کسی نہ کسی شکل میں مذاکراتی راستہ برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ مزید شرائط کیوں عائد کر رہے ہیں؟، اس کی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ امریکی قیادت ایسا معاہدہ چاہتی ہے جسے وہ اپنی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کر سکے ، جبکہ دوسری جانب ایران اپنی خودمختاری، قومی وقار اور بنیادی مفادات پر سمجھوتے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو مذاکرات کو مشکل بناتا ہے ۔ٹرمپ کے سخت موقف کا ایک مقصد اسرائیل اور بعض عرب اتحادیوں کو یہ یقین دلانا بھی ہو سکتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے معاملے میں نرم رویہ اختیار نہیں کرے گا ۔
تہران کا خیال ہے کہ اس نے برسوں کی پابندیوں، دباؤ اور سفارتی تنہائی کے باوجود اپنے نظام کو برقرار رکھا ہے ، اس لیے وہ دباؤ کے تحت فیصلے کرنے کے بجائے مزاحمت کی پالیسی پر قائم رہنا چاہتا ہے ۔ جہاں تک پاکستان کے کردار کا تعلق ہے تو وہ اب بھی کشیدگی میں کمی اور رابطہ کاری کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ایرانی قیادت سے رابطے اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل سفارتی مشاورت اس بات کا اشارہ ہیں کہ پاکستان اب بھی مفاہمتی عمل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، البتہ کسی حتمی معاہدے کا انحصار بالآخر امریکا اور ایران کے اپنے فیصلوں پر ہوگا۔موجودہ حالات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بھی کھلی جنگ نہیں چاہتے ۔ اسی لیے آنے والے دنوں میں سخت بیانات اور سفارتی رابطے بیک وقت جاری رہنے کا امکان زیادہ ہے اور بالآخر دونوں فریقوں کو کسی نہ کسی قابلِ قبول درمیانی راستے کی تلاش کرنا ہوگی کیونکہ جنگ کے مقابلے میں مذاکرات اب بھی کم نقصان دہ اور زیادہ حقیقت پسندانہ آپشن نظر آتے ہیں۔