راولپنڈی ڈویژن : ترقیاتی سکیموں کا مجموعی تخمینہ 1.20کھرب روپے ، 12.45 ارب ائندہ ماہ جاری
اے ڈی پی 2026-27کے تحت رنگ روڈفیزون کیلئے 3 ارب ،فیز ٹوٹھلیاں تا جی ٹی روڈ فیزبیلٹی ،ڈیزائننگ کیلئے 50 لاکھ مختص دادوچھا ڈیم سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ، سپلائی سسٹم کا تخمینہ 49ارب 10کروڑ ،ابتدائی کاموں ،پی سی ٹو کیلئے 6کروڑ رکھے گئے راولپنڈی شہر میں پینے کے پانی اور سیوریج کیلئے 40کروڑ ،صدیقِ اکبر صاف پانی پروگرام کے تحت کلسٹر فائیوکیلئے 80 کروڑ مختص
راولپنڈی(زاہداعوان )حکومتِ پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال2026-27 کے تحت راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع راولپنڈی، مری، جہلم، اٹک، چکوال اور تلہ گنگ میں ہائوسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے شعبوں میں ترقیاتی سکیموں کا مجموعی تخمینہ 1 کھرب 20 ارب 33 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد لگایا گیا ہے ، جس میں سے جولائی 2026 میں مختلف جاری و نئی سکیموں کے لیے مجموعی طور پر 12 ارب 45 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی رقم جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے ۔ اس سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت راولپنڈی کے سب سے بڑے اور اہم ترین انفراسٹرکچر منصوبے راولپنڈی رنگ روڈفیزون کے لیے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں 3 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے ، جبکہ 38.3 کلومیٹر طویل اس مین کیریج وے (بانٹھ تا ٹھلیاں)کا مجموعی تخمینہ لاگت 46 ارب 63 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد ہے اور اس پر اب تک تقریباََ 29 ارب 93 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی راولپنڈی رنگ روڈ فیز ٹوٹھلیاں تا جی ٹی روڈ کے فیزبیلٹی مطالعہ اور تفصیلی ڈیزائننگ کے لیے بھی 50 لاکھ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
واسا راولپنڈی کے تحت ایک اور تاریخی اور متبادل پانی کا بڑا منصوبہ دادوچھا ڈیم پر مبنی سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور واٹر سپلائی سسٹم ، جو کہ فی الحال غیر منظور شدہ ہے ،لیکن اس کا کل تخمینہ 49 ارب 10 کروڑ روپے لگایا گیا ہے اور اس کے ابتدائی کاموں کے لیے 5 کروڑ روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے ، جبکہ اسی منصوبے کے پی سی ٹوفیزبیلٹی اور ڈیزائننگ کے لیے مزید 1 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ راولپنڈی شہر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ویسٹرن سائیڈ واسا راولپنڈی کے سیوریج، ڈرینیج اور سٹارم واٹر ڈرین سسٹم کی ری ماڈلنگ اور بہتری کے لیے 20 کروڑ روپے جبکہ واٹر سپلائی سسٹم کی ری ماڈلنگ کے لیے بھی 20 کروڑ روپے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔عوامی فلاح و بہبود کے دیگر منصوبوں پر نظر ڈالی جائے تو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے صدیقِ اکبر صاف پانی پروگرام کے تحت کلسٹر V(جس میں تلہ گنگ، چکوال، جہلم، راولپنڈی اور اٹک شامل ہیں)کے لیے 80 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جس کی کل لاگت 7 ارب 36 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد ہے ، جبکہ پوٹھوہار ریجن میں چھوٹے ڈیموں کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام کے لیے 80 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ مری ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مری کے سیاحوں اور مقامی آبادی کو پانی کی مستقل فراہمی کے لیے دو بڑی سکیمیں رکھی گئی ہیں، جن میں دھار جاوا واٹر سپلائی سکیم کے لیے سٹینڈ بائی پمپنگ انتظامات کی فراہمی اور ڈونگا گلی واٹر سپلائی سکیم کی بحالی شامل ہے ، ان دونوں منصوبوں کے لیے بالترتیب 99 لاکھ 70 ہزار روپے اور 1 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
جہلم شہر کے شمالی زون، جنوبی زون اور جھنگ سٹی کے زون 1 اور 2 میں سیوریج، سٹارم واٹر ڈرینیج، گلیوں کی پختگی اور دیگر الائیڈ انفراسٹرکچر کی بہتری کے تین الگ الگ بڑے منصوبوں کے لیے 30 ، 30 کروڑ روپے (مجموعی طور پر 90 کروڑ روپے )کی رقم فراہم کی جائے گی۔ واسا راولپنڈی کے دیگر منصوبوں میں راول جھیل اور اس کے کیچمنٹ ایریاز(فیزI)کے گرد چار سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس اور سیوریج لائنوں کی تعمیر، یو سی لکھن، موری غزان اور دھمیال میں واٹر سپلائی سکیم(جس کے لیے 5 کروڑ روپے مختص ہیں)، آئی جے پی روڈ کے قریب یو سیز 4 تا 8 کے لیے 10 ٹیوب ویلوں کی انسٹالیشن، اور ڈھوک حسو، فوجی کالونی، صفدر آباد، خیابانِ سرسید اور پیرودھائی کی مختلف یونین کونسلز میں آر سی سی سیور یج پائپ بچھانے کے منصوبے شامل ہیں جس کے لیے بھی 5 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ دیہی واٹر سپلائی سکیموں کے زمرے میں تحصیل پنڈ دادن خان(جہلم)کی نارومی دھن واٹر سپلائی سکیم کی ریگولیشن اور دیکھ بھال کے لیے 14 کروڑ 55 لاکھ روپے کی بڑی رقم مختص کی گئی ہے ، جب کہ پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں واٹر سپلائی اور سینی ٹیشن انفراسٹرکچر کی اپ لفٹنگ کے پروگرام کے لیے 1 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ ان تمام ترقیاتی سکیموں کی تکمیل سے راولپنڈی ڈویژن میں نہ صرف ٹریفک کے مسائل حل ہوں گے بلکہ پینے کے صاف پانی کی دستیابی، نکاسیِ آب اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔