ٹیکس کا اطلاق فرضی نہیں حقیقی آمدن پر ہونا چاہیے: وفاقی آئینی عدالت
غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس صوبائی معاملہ، فنانس بل سے شامل کرنا آئینی طور پر درست نہیں:انکم ٹیکس سیکشن 7Eکا تفصیلی فیصلہ مستقل فرائض والے ملازمین کو برسوں کنٹریکٹ پر رکھنا معاشی استحصال، انتظامی من مانی:پختونخوا حکومت کی سی پی ایل اے مسترد
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر، اے پی پی)وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس قانون کے سیکشن 7E کو کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، 92 صفحات پرمشتمل فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ٹیکس کا نفاذ آئینی حدود اور بنیادی حقوق کے تابع ہے ، ٹیکس کسی بھی عوامی مقصد کیلئے نافذ کیا جا سکتا ہے اور نافذ شدہ ٹیکس کا بوجھ اجتماعی طور پر عوام اٹھاتے ہیں، ٹیکس کے نفاذ کا دارومدار اس بات پر نہیں کہ اس سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے بلکہ عدالت کو ٹیکس کے آئینی جواز کا جائزہ لینا ہوتا ہے نہ کہ اس کے مقاصد کا۔ کوئی بھی قانون اگر بنیادی حقوق کے منافی ہو یا قانون سازی کے اختیار سے تجاوز کرے تو اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے ۔ عدالت کے مطابق سیکشن 7E دراصل غیر منقولہ جائیداد سے آمدن پر نہیں بلکہ اس کی ملکیت پر ٹیکس عائد کرتا ہے ۔ صرف فرضی آمدن پر ٹیکس عائد کرنا آئینی حقوق کے خلاف ہے اور ٹیکس کا اطلاق حقیقی آمدن پر ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار صرف ان شعبوں میں حاصل ہے جو آئین کے تحت وفاق کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں جبکہ غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس کا معاملہ صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہ گیا کہ مالیاتی قوانین کا ماضی سے اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ سیکشن 7E کا مقصد صرف ریونیو میں اضافہ نہیں بلکہ غیر منقولہ جائیداد رکھنے کی حوصلہ شکنی بھی تھا تاہم اسے فنانس بل کے ذریعے شامل کرنا آئینی طور پر درست نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ مخصوص طبقوں کو دی گئی رعایتوں کی ٹھوس اور واضح وجہ بیان نہیں کی گئی جو آئینی اصولوں کے منافی ہے ۔ واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 7 مئی کو انکم ٹیکس قانون کے سیکشن 7E کو کالعدم قرار دیا تھا۔ علاوہ ازیں وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ مستقل نوعیت کے فرائض انجام دینے والے ملازمین کو برسوں تک کنٹریکٹ بنیادوں پر برقرار رکھنا معاشی استحصال اور انتظامی من مانی کے مترادف ہے جبکہ ایسے ملازمین کی ریگولرائزیشن کا معاملہ صرف سروس قوانین تک محدود نہیں بلکہ آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق سے بھی جڑا ہے۔
جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل بینچ نے خیبرپختونخوا حکومت کی دائر سی پی ایل اے نمبر 632-پی/2018 مسترد کرتے ہوئے سابق فاٹا کے دو ڈسپنسرز کی بحالی اور ریگولرائزیشن کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے آرچرڈ سکیم کے 12 کنال پلاٹ سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے اور مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔ مزید برآں وفاقی آئینی عدالت نے پی ٹی سی ایل پنشنرز سے متعلق تمام مقدمات یکجا کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔