اپیل میں مداخلت صرف غیر معمولی حالات میں ہو سکتی ہے ،سپریم کورٹ

اپیل میں مداخلت صرف غیر معمولی حالات میں ہو سکتی ہے ،سپریم کورٹ

اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی ملزم کی بریت کا فیصلہ دوہرے قرینہ بے گناہی کا حامل ہوتا ہے ، اس لیے اپیل میں ایسے فیصلے کو صرف اسی صورت کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے جب قانون یا شواہد کی واضح اور سنگین غلطی ثابت ہو۔

 عدالت نے اسی اصول کی بنیاد پر جعلی پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کیس میں ملزم الطاف یوسف کی بریت بحال کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ فوجداری نظامِ انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جرم ثابت ہونے تک ہر شخص بے گناہ تصور کیا جاتا ہے ، جبکہ استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ ملزم کے خلاف الزامات شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرے عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ ملزم کو جعلی سفری دستاویزات کے بارے میں علم تھا یا اس نے دھوکہ دہی اور جعلسازی میں جان بوجھ کر معاونت کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کی جانب سے صرف فضائی ٹکٹ جاری کرنا کسی مجرمانہ سازش یا فراڈ میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں بنتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں