لانگ مارچ کے دوران ناخوشگوار واقعہ کی ذمہ دار ایکشن کمیٹی ہوگی :آزاد کشمیر حکومت

لانگ  مارچ  کے  دوران  ناخوشگوار  واقعہ  کی  ذمہ  دار  ایکشن  کمیٹی  ہوگی :آزاد  کشمیر  حکومت

دھرنے کے باعث پونچھ ڈویژن میں خوراک، ادویات اشیاء کی ترسیل شدید متاثر ، راستے کھلوانے پر فائرنگ کی گئی انتخابات شیڈول کے مطابق ہونگے ،قانون کی حکمرانی ،عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنائیں گے :ترجمان کی پریس کانفرنس

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ترجمان حکومت آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے 15جولائی کے لانگ مارچ میں طلبہ و طالبات سے شرکت کی اپیل کی ہے ، کسی بھی ناخوشگوار وا قعہ کی تمام تر ذمہ داری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد ہوگی۔یہ بات انہوں نے  ترجمان آزاد جموں و کشمیر حکومت اور ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ترجمان نے کہا کہ حکومتِ آزاد کشمیر اور حکومتِ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، مفاہمت اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دی، 4 اکتوبر 2025ء کے معاہدے کے تحت کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات وسیع تر عوامی مفاد میں منظور کئے گئے ،کمیٹی بنیادی حقوق کے مطالبات سے ہٹ کر ریاست مخالف مقاصد کی جانب مائل ہوئی، انہوں نے کہا کہ 36 روز سے جاری دھرنے کے باعث پونچھ ڈویژن میں خوراک، ادویات اور ضروری اشیاء کی ترسیل شدید متاثر ہوئی، شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے عام شہریوں کی آمدورفت مکمل طور پر معطل کی گئی، کئی علاقوں میں غذائی قلت اور اشیائے ضروریہ کی کمی کی صورتحال پیدا ہوگئی، حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ بند راستے کھلوائے ، بند شاہراہیں کھلوانے کی ہر کوشش کے دوران کالعدم کمیٹی کی جانب سے مزاحمت اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

شجاع آباد میں راستہ بحال کرنے والی ٹیم پر ملحقہ علاقوں اور جنگلات سے شدید فائرنگ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے ، ارجہ جنڈالہ میں بند راستہ کھلوانے کے دوران ڈوزر پر فائرنگ سے آپریٹر زخمی ہوا، زخمی ڈوزر آپریٹر کو منتقل کرتے وقت سکیورٹی فورسز پر بھی فائرنگ کی گئی، اشیائے خوردونوش لے جانے والے ٹرکوں پر حملے ، لوٹ مار اور ڈیزل نکالنے کے واقعات کسی پرامن احتجاج کی عکاسی نہیں کرتے ۔ترجمان نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، خواتین اور بچوں کو ان کی مرضی کے خلاف دھرنے میں رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، خواتین اور بچوں کے ہاتھوں میں قرآنِ مجید اور سفید جھنڈے دے کر آگے لانے کی منصوبہ بندی قابلِ مذمت ہے ، قرآنِ مجید کو کسی بھی تصادم یا محاذ آرائی میں استعمال کرنا مذہبی تقدس اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے ،15 جولائی کے لانگ مارچ میں طلبہ کو یونیفارم میں مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے فرنٹ لائن پر کھڑا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ، کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد ہوگی، قانون کی عمل داری یقینی بنانا اور معصوم شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے ،عام انتخابات مقررہ انتخابی شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے ، حکومت اور ریاستی ادارے ہر قیمت پر امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنائیں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں