دہشتگردی کیخلاف جنگ میں شہادتوں پر ابہام مناسب نہیں

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں شہادتوں پر ابہام مناسب نہیں

کامیابی کیلئے سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد اور قومی اتفاق رائے ناگزیر

(تجزیہ:سلمان غنی)

حکومت کیخلاف شدید تحفظات کے حامل سیاستدان مولانا فضل الرحمن کی جانب سے شہادتوں کے عمل کو تنخواہوں کے حصول کا سلسلہ قرار دینے کے عمل نے انہیں اپنے سیاسی مخالفین کے ٹارگٹ کا ذریعہ بنا دیا ہے جو پاک سرزمین کے تحفظ کیلئے شہادت کے منصب پر فائز ہونے اور ملک کے لئے قربان ہونے کے جذبہ کو ان کی تنخواہوں سے جوڑنے کے عمل کو قربانیوں کی توہین قرار دیتے ہوئے یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن فرسٹریشن کا شکار ہیں مگر ان کا یہ ایجنڈا کارگر ہونے والا نہیں انکے نزدیک وطن عزیز پرجان نچھاور کرنے والے قوم کے ہیرو ہیں جنکی قوم تضحیک یا توہین نہیں کرنے گی شہادتوں کی آرزو وہ قومی طاقت ہے جس پر کبھی آنچ نہیں آ سکتی لہٰذا اس امر کا جائزہ لازم ہے کہ مولانا فضل الرحمن جیسا جہاندیدا سیاستدان شہادت جیسے عمل کو محض تنخواہوں کے حصول کے ذریعہ قرار دینے کے پر کیونکر مجبور ہوا اور کیا واقعتاً شہادت کا جذبہ کا تعلق محض تنخواہوں، مراعات کا حصول ہے اور کیا قوم و ملک کے لئے جذبہ کے اظہار کرنے والوں کی قربانیوں کو کنفیوژ بنانے کا عمل درست ہے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے عوامی اجتماع میں دئیے ریمارکس کو ان کا سیاسی ردعمل تو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں شہادتوں کے عمل کو ہر طرح کے مفادات و مراعات سے عاری ایسا عمل سمجھا جاتا ہے۔

جس کا مقصد اﷲ کے ہاں سرخرو ہونا ہوتا ہے اور جہاں تک ہماری افواج اور سکیورٹی فورسز میں اس جذبہ اور ولولہ کا سوال ہے تو یہ خالصتاً قومی جذبہ ہے جو ہماری اصل طاقت ہے لہٰذا مولانا فضل الرحمن سے شہادت کے عمل کو صرف ملازمت یا تنخواہ کے ساتھ جوڑنے کے عمل کے اثرات شہدا کے لواحقین انکے اہل خانہ اور قوم پر اچھے ظاہر نہیں ہوئے اور وہ فضل الرحمن کے اس ردعمل پر شدید تحفظات ظاہر کرتے نظر آ رہے ہیں جبکہ خود مولانا فضل الرحمن کے حامی یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ انکے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں کو تنخواہوں سہولیات اور تحفظ فراہم کرے جبکہ قربانی اپنی جگہ الگ اور قابل احترام عمل ہے سیاسی اعتبار سے ایسے بیانات اس وقت زیادہ توجہ کے حامل ہوتے ہیں جب ملک میں دہشتگردی کے رحجانات پر بحث کا سلسلہ جاری ہو اور جب ملک کے بارڈر اور مختلف علاقوں میں دہشتگردی کیخلاف جنگ ہو تو ایسی کیفیت میں کسی محب وطن سیاستدان کو یہ مناسب نہیں کہ وہ شہدا کے احترام اور شہادتوں کے عمل کے حوالہ سے ابہام پیدا کرے بلکہ ایسی صورتحال میں سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد اور قومی اتفاق رائے دہشت گردی کے خلاف کامیابی کیلئے ناگزیر ہے ،اس کیلئے عوامی بیانات میں احتیاط برتنا لازم ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...