لانگ مارچ یادھرنا ، تمام جماعتوں کو ایک مؤقف پر لانا مشکل
مولانا کسی تحریک کا حصہ بننے سے قبل اپنی شرائط اور جماعتی مفادات کو یقینی بنائیں گے
( تجزیہ :سلمان غنی )
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان متحدہ اپوزیشن بنانے پر اتفاق کو سیاسی محاذ پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ۔ دونوں رہنماؤں نے حکومتی طرزِ عمل اور پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی کے متقاضی ہیں۔ ابتدائی نشست کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ پارلیمانی اجلاس اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر بھی غور جاری ہے ۔اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت مخالف متحدہ اپوزیشن حقیقت میں تشکیل پا سکے گی، اس کی قیادت کون کرے گا اور اس کی جدوجہد پارلیمان تک محدود رہے گی یا باقاعدہ حریک کی شکل اختیار کرے گی۔ اس کے ساتھ حکومتی حکمت عملی بھی اہم ہوگی۔موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے متحدہ اپوزیشن کی تشکیل کی کوششیں جاری رہی ہیں، تاہم مولانا فضل الرحمن کے تحریک انصاف سے بعض تحفظات کے باعث یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اب سیاسی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے ۔ تحریک انصاف حکومت کے خلاف احتجاج کی تیاری کر رہی ہے جبکہ بعض اہم آئینی ترامیم کے لیے حکومت کو بھی اپوزیشن کی ضرورت ہے ، جس کے باعث اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے سیاسی حلقوں کی رائے ہے کہ وہ معاملات کو سوچ سمجھ کر اور جماعتی مفاد کو سامنے رکھ کر آگے بڑھاتے ہیں۔ حکومت سے ان کے تحفظات کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ 8 فروری کے انتخابات کے بعد حکومت میں تشکیل کے مرحلے پر ان کے کردار کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔ اب مولانا حکومت اور مقتدر حلقوں کے حوالے سے بھی تحفظات رکھتے ہیں اور ایسے اپوزیشن اتحاد کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں جس میں ان کا کردار فیصلہ کن ہو۔حالیہ ملاقات میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ پی ٹی آئی بھی متحدہ اپوزیشن کی تشکیل میں دلچسپی رکھتی ہے ، تاہم مولانا فضل الرحمن کی شرائط اس اتحاد کی راہ میں اہم عامل ہوں گی۔ پی ٹی آئی مولانا کی سیاسی قوت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ، لیکن قیادت اور دیگر معاملات پر سمجھوتا کرنا اس کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں انتخابی تعاون اور نشستوں کی ایڈجسٹمنٹ بھی آئندہ مذاکرات کا اہم موضوع بن سکتی ہے ۔موجودہ صورتحال میں متحدہ اپوزیشن کا پارلیمانی سطح پر تعاون ممکن دکھائی دیتا ہے ، تاہم بڑے احتجاج، لانگ مارچ یا دھرنے کے لیے تمام جماعتوں کو ایک مؤقف پر لانا مشکل ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن بھی کسی ایسی تحریک کا حصہ بننے سے قبل اپنی سیاسی شرائط اور جماعتی مفادات کو یقینی بنانا چاہیں گے۔
حکومت بھی مولانا فضل الرحمن کے تحفظات کے باوجود ان سے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی اور انہیں مکمل طور پر اپوزیشن کی صف میں دیکھنا نہیں چاہے گی۔ مولانا سیاسی ڈیڈلاک کے بجائے مذاکرات اور رابطوں کو ترجیح دیتے ہیں اور مختلف سیاسی قوتوں سے ملاقاتیں بھی کرتے رہتے ہیں۔تحریک انصاف کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو عدالتی ریلیف ملنے کے بعد کارکنوں میں امید پیدا ہوئی تھی، تاہم بعد ازاں علاج کے لیے ہسپتال منتقلی اور دوبارہ جیل واپسی سے پارٹی میں مایوسی بڑھی۔ اب پی ٹی آئی احتجاج کے لیے دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کرے گی۔دوسری جانب پیپلزپارٹی سیاسی جماعتوں سے روابط بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے ، تاہم موجودہ حکومتی بندوبست سے علیحدگی اختیار کرنے کے امکانات کم ہیں۔ بالخصوص سندھ کی سیاسی صورتحال اور نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی اپنے مفادات کو ترجیح دے گی۔یوں متحدہ اپوزیشن کی تشکیل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے ۔ اس اتحاد کی حقیقی سیاسی اہمیت کا تعین اس کی قیادت، مشترکہ ایجنڈے اور احتجاج یا پارلیمانی سیاست کے طریقہ کار پر اتفاق کے بعد ہی ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments