ڈیپوٹیشن ملازم کی معطلی، اصل ادارے سے اجازت ضروری نہیں:ہائیکورٹ
معطلی حتمی سزا نہیں، محکمانہ انکوائری مکمل ہونے تک عارضی اقدام :جسٹس عثمان غنی راشد بہاولپور چڑیا گھر میں تعینات ملازم کی درخواست خارج ،14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری
لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے ڈیپوٹیشن پر تعینات ملازم کی معطلی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ڈیپوٹیشن پر کام کرنے والے ملازم کو 90 روز کے لیے معطل کرنے سے قبل اصل ادارے سے اجازت لینا ضروری نہیں، تاہم متعلقہ ادارے کو معطلی کی وجوہات سے آگاہ کرنا ہوگا۔جسٹس محمد عثمان غنی راشد چیمہ نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد سے ڈیپوٹیشن پر بہاولپور چڑیا گھر میں تعینات ملازم شہباز انور کی درخواست خارج کرتے ہوئے 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ پیڈا ایکٹ کی دفعات 6 اور 15 کے تحت ڈیپوٹیشن پر تعینات ملازم کو معطل کرنے کے لیے پہلے اصل ادارے سے اجازت لینا ضروری نہیں۔ عدالت کے مطابق قانون میں استعمال ہونے والی اصطلاح ‘‘فورتھ وِد’’ سے مراد ہر حال میں اسی لمحے اطلاع دینا نہیں بلکہ بلاوجہ تاخیر کے بغیر مناسب وقت میں اطلاع دینا ہے ۔درخواست گزار پر الزام تھا کہ اس نے مختلف اقسام کے 330 چوزوں کی ہلاکت کی اطلاع متعلقہ افسر کو نہیں دی۔ اس معاملے پر اس سے وضاحت طلب کی گئی، جس کے بعد 16 اگست 2026 کو اسے 90 روز کے لیے معطل کر دیا گیا۔ ملازم نے اپنی معطلی کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ معطلی کوئی حتمی سزا نہیں بلکہ عارضی اقدام ہے ۔ معطلی کے دوران ملازم ملازمت میں برقرار رہتا ہے اور محکمانہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد بے قصور ثابت ہونے کی صورت میں اسے بحال کیا جا سکتا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے صرف معطلی کے عبوری حکم کو چیلنج کیا ہے جبکہ اس کے خلاف محکمانہ انکوائری ابھی مکمل نہیں ہوئی، اس لیے درخواست قبل از وقت ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments