غزہ سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کا منصوبہ تیار:اسرائیل
امریکی منظوری اور مناسب ممالک کا تعین ضروری :اسرائیلی وزیر دفاع نیتن یاہو کا دورہ غزہ ،مقبوضہ علاقے سے اسرائیلی فوج نکالنے سے انکار
یروشلم،غزہ (اے ایف پی) اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کا منصوبہ تیار ہے تاہم اس پر عملدرآمد کیلئے امریکا کی منظوری اور انہیں منتقل کرنے کیلئے مناسب ممالک کا تعین ضروری ہے ۔ کاٹز نے کہا کہ حکومت فلسطینیوں کو سمندر، فضائی راستے یا کسی بھی ممکنہ طریقے سے منتقل کرنے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا ٹرمپ نے فلسطینیوں کی منتقلی کا منصوبہ ختم نہیں کیا بلکہ اسے فی الحال موخر کیا ہے ۔ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے آغاز پر غزہ کے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو علاقہ چھوڑنے اور غزہ کو تفریحی مقام بنانے کی تجویز دی تھی، جس کی عالمی سطح پر شدید مخالفت ہوئی۔ فلسطینیوں نے بھی اسے 1948 کی نکبہ سے تشبیہ دیتے ہوئے مسترد کیا۔ کاٹز نے دعویٰ کیا کہ غزہ کے 80 فیصد افراد علاقہ چھوڑنا چاہتے ہیں، تاہم حماس انہیں روک رہی ہے ۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بدھ کو غزہ میں اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کی اور کہا ہے کہ فوج علاقے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اکتوبر 2025 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے بعد نیتن یاہو کا غزہ کا یہ پہلا دورہ ہے ۔ نام نہاد یلو لائن کے قریب گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ کے 60 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے اور حماس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح اور غزہ کو غیر عسکری بنانا اسرائیل کا مقصد ہے ۔ جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ میں اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب دو بارودی ڈرون بھیجے ، جس کے جواب میں نبطیہ کے علاقے میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments