جماعت اسلامی کی آج ملک گیر ہڑتال،دھرنوں کو مزید پھیلا سکتے :حافظ نعیم
غریب لوگوں کا ٹیکس فری نہیں کرتے ، چینی مافیا کیلئے ٹیکس صفر کردیا،تمام تاجرمارکیٹوں کے صدور نے ہڑتال کی حمایت کی انتظامی یونٹس کافیصلہ آئین اورعوامی رائے کے مطابق کیاجائے ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نورا کشتی نہ کریں:پریس کانفرنس
لاہور،کراچی(سٹاف رپوٹر،نیوزایجنسیاں)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پورے ملک میں جماعت اسلامی کی تحریک جاری ہے ، یہ تحریک گلی محلوں کی سطح پر آگے بڑھ رہی ہے ، آج پورے ملک میں ہڑتال ہوگی، آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کرونگا، اسلام آباد لانگ مارچ کی کال، اسلام آباد اور راولپنڈی میں دھرنے ، ملک بھر میں دھرنے پھیلانے کے آپشن موجود ہیں۔ ہم پرامن لوگ ہیں اور یہی چاہتے ہیں حکومت پاکستانیوں کی زندگی آسان کرے ، بھتہ لیوی کو ہر صورت میں ختم کرو ، کارکن مارکیٹوں میں رابطے کررہے ہیں، تمام تاجروں کی مارکیٹوں کے صدور نے ہڑتال کی حمایت کی ہے ۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہاکہ جس چیز کے بارے میں لوگوں کو شعور نہیں تھا، ہم نے آگاہی دی۔ پاکستان میں 5 ملین گاڑیاں ہیں جو چلتی ہیں، موٹر سائیکل لاکھوں میں ہیں، ایسے لوگوں پر حکومت نے لیوی بھتہ نافذ کیا ہوا ہے ۔ ایک طالب علم پٹرول ڈلوائے اور اس سے 35 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے ، کتنی بڑی زیادتی ہے ۔ بجلی میں کیپسٹی پیمنٹس اور فکسڈ چارجز ہیں، 1700 ارب روپے سے زائد چند آئی پی پیز کو ادا کیے گئے جو بجلی ہم نے استعمال نہیں کی۔
حکمران طبقے کی عیاشیوں پر اربوں روپے خرچ کررہے ہیں، غریب لوگوں کا ٹیکس فری نہیں کرتے لیکن چینی مافیا کے لیے ٹیکس صفر کردیا۔ جماعت اسلامی کی تحریک میں تمام اپوزیشن پارٹیاں ساتھ دیں۔دھرنے کا اثر ہے ، یہی حکومت بات تو کرنے آئی۔ ہمیں لوگ سراہا رہے ہیں، میڈیا کی اپنی پالیسی ہے وہ کس دھرنے کو کوور کرتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم کچھ لوگ ہیں جو نظریہ بیچتے ہیں، انہیں جماعت اسلامی سے پریشانی ہے ۔ 32 روپے ڈیزل کی قیمت میں کمی اسی دھرنے کے باعث ہوئی جبکہ 16 روپے بجلی کی قیمت کم ہوئی ہے ۔ ہم کراچی میں 15 سال لڑتے رہے ہیں۔ انتظامی یونٹس کے حوالے سے آئین میں جو بھی چیز ہے اس کے مطابق کریں، عوام کی رائے کے مطابق کریں۔ 7 سیٹیں پیپلز پارٹی کو دی گئیں، بلاول صاحب فارم تو لے آئیں۔ پوری کی پوری پی ڈی ایم کو دیکھیں، یہ سارے فارم 47 والے ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے صوبوں کے حوالے سے آئین کے مطابق قرارداد منظور کی ہوئی ہے ۔ سندھی مہاجر تقسیم پیدا نہ کریں، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نورا کشتی نہ کریں۔ اگر میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوتا تو میں میئر کراچی ہوتا۔دریں اثنا جماعت اسلامی کے مال روڈ لاہور دھرنے کے خاتمے کیلئے حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات آج متوقع ہیں ۔ جماعت اسلامی ذرائع کے مطابق حکومتی وفد کی سربراہی رانا ثناء اللہ کرینگے ۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ کے ساتھ انکے ٹیلیفونک رابطے ہوئے ہیں اور آج حکومتی وفد منصورہ آکر مذاکرات کا آغاز کرے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments