سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام پر تیسرے روز بھی گرما گرم بحث
کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی نے بدھ کو تیسرے روز بھی ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم سے متعلق پیپلز پارٹی کے سینئر پارلیمنٹیرین نثار احمد کھوڑو کی تحریک التوا پر بحث جاری رکھی جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے مفصل انداز میں اپنی رائے کا اظہار کیا ۔
اجلاس ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ کی وحدت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور سندھ کو کسی کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا جبکہ اپوزیشن ارکان نے کہا کہ وہ بھی سندھ کی تقسیم کے حق میں نہیں لیکن ساتھ ہی عوامی مسائل کا حل اور کرپشن کا خاتمہ بہت ضروری ہے ۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس خاصا طویل رہا جس میں ارکان نے بڑے جذباتی انداز میں تقاریر کیں۔ وزیر جامعات اسماعیل راہو نے کہا کہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ سندھ اسمبلی آج سندھ کی تقسیم پر بات کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ انتظامی یونٹ کی بات کررہے ہیں وہ بات واضح کریں کہ انتظامی یونٹس کیا ہوتے ہیں؟ کوئی بھی شکل دیں سندھ کی تقسیم قبول نہیں۔ صوبائی وزیر کھیل و زراعت سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ سندھ کی تاریخ اور آئین سے ناواقفیت کے باعث ایسی باتیں کی جا رہی ہیں، سندھ پر بات آئے گی تو سندھی مزاحمت کریں گے ۔ رانا شوکت کی تقریر کے دوران پیپلز پارٹی کے نادر مگسی نے احتجاج بھی کیا۔ ممتاز علی جکھرانی نے کہا کہ یہ آپ کی بد انتظامی ہے کہ وفاقی اسپتال نہیں سنبھالے جا رہے ، جو شخص 14 بچوں کا حساب نہیں دے سکتا وہ صوبے کی بات کر رہا ہے ۔اجلاس جمعرات کی دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments