ریاض ایئرپورٹ پر حملہ سعودیہ اور اتحادیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی
حوثیوں کے جارحانہ عزائم کے خلاف مسلم ممالک کا مشترکہ دفاعی محاذ ممکن ہے
(تجزیہ:سلمان غنی)
سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ، پاکستان سمیت مسلم ممالک کے ردعمل سے پیغام تو واضح ہے کہ وہ ان جارحانہ عزائم کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ کیا مسلم ممالک کی سعودی عرب سے یکجہتی حوثیوں کے جارحانہ عزائم کا علاج کرپائے گی ، علاقائی امور کے ماہرین یکسو ہیں کہ حوثیوں کا علاج کسی ایک فریق کیلئے ممکن نہیں، اس کیلئے کثیر الجہتی پالیسی اختیار کرنا پڑے گی ،اگر حوثی سعودی عرب یا خلیجی ممالک کے ہوائی اڈوں اور شہری آبادیوں کو نشانہ بناتے ہیں تو یہ علاقائی امن اور بین الاقوامی جہاز رانی کیلئے سنگین خطرہ بن سکتا ہے ۔ جہاں تک اس میں پاکستان کے کسی کردار کا تعلق ہے تو وزیراعظم شہباز شریف کے بیان سے تو ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستان پوری یکسوئی اور سنجیدگی سے سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ،مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں مکہ دفاعی معاہدہ کو خطہ میں امن و استحکام کامظہر قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے اور دفاع کیا جائے گا۔
ماہرین یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ حوثیوں کا مسئلہ محض فوجی طاقت سے حل نہیں ہو سکتا،حوثی مہنگے فوجی اثاثوں کی بجائے کم لاگت والے ڈرون اور میزائلوں سے اہم شہری ڈھانچے کو نشانہ بناتے نظر آ رہے ہیں اور ان کا مقصد سعودی عرب پر دباؤ ڈالنا اوراسے اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کرنا ہے ۔ بلاشبہ سعودی عرب کے پاس جدید فوجی ٹیکنالوجی کی واضح برتری ہے لیکن مذکورہ برتری میدان جنگ میں فیصلہ کن کامیابی میں تبدیل نہیں ہو پا رہی، پاکستان کا بنیادی مقصد سعودی عرب کا دفاع ہے ،پاکستان براہ راست کسی کارروائی سے اس لئے بھی احتراز برت رہا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ ایسی صورتحال میں نہیں جانا چاہتا جو امریکا ایران جنگ میں اس کے ثالثی کردار پر اثرانداز ہو۔ جہاں تک اس صورتحال میں مکہ دفاعی معاہدہ کا سوال ہے تو یہ معاہدہ اپنے پہلے حقیقی امتحان سے گزر رہا ہے ، سعودیہ اور حوثیوں کے درمیان جاری تناؤ کی صورتحال میں ایک بات تو واضح ہے کہ فریقین اس میں فیصلہ کن فتح حاصل نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے یمن ایک طویل جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے ، یہ لڑائی باب المندب کے کنٹرول کیلئے نہیں ہے ،یہ تنازع ایران، سعودی عرب کی کشیدگی اور لیبیا ،لبنان، غزہ کے محاذوں سے جڑا ہوا ہے جس سے مشرق وسطٰی میں جنگ بندی مشکل نظر آ رہی ہے ، پاکستان اور ترکیہ دونوں میدان جنگ میں اپنی فوجیں بھیجنے پر آمادہ نہیں، البتہ سعودی عرب کی ہر قسم کی مدد کیلئے تیار نظر آ رہے ہیں، پاکستان کیلئے یہ صورتحال اس لئے تشویش کا باعث ہے کہ وہ بحری راستے جہاں سے پاکستان کی 80 فیصد درآمدات اور برآمدات گزرتی ہیں اس جنگ سے متاثر ہیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments