نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ہم اس معاہدے پر عمل بھی کروائیں گے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:صوبائی فنانس کمیشن کے قیام پر رضامندہیں،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- میئر اور ٹاؤن چیئرمین کمیشن کے ممبر ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- سندھ حکومت تعلیمی ادارے اور اسپتال بلدیہ کو واپس کرنے پر تیار،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- آکٹرائے اور موٹر وہیکل ٹیکس میں سےبھی بلدیہ کراچی کو حصہ ملے گا،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی: میئر کراچی واٹر بورڈ کے چیئرمین ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- بلدیہ کو خود مختار بنانے کیلئےمالی وسائل دینےپر سندھ حکومت تیار، ناصر حسین
  • بریکنگ :- کراچی: بلدیاتی قانون پر جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے مذاکرات کامیاب
  • بریکنگ :- سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کےدرمیان تحریری معاہدہ
  • بریکنگ :- جماعت اسلامی کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان،کارکنان گھروں کو روانہ
  • بریکنگ :- کراچی: آج کے اعلان کیے گئے دھرنے بھی ختم کر دیئے ہیں،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آپ کو تاریخی جدوجہد کرنے پرمبارکباد پیش کرتا ہوں،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آپ نے ساڑھے تین کروڑ عوام ہی نہیں پورے ملک کو حیران کردیا،حافظ نعیم
  • بریکنگ :- ہم استقامت کے ساتھ 29 دن دھرنے پر بیٹھے رہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ حکومت اور جماعت اسلامی نے مل کر ایک مسودہ بنایا ہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:2021 کا ترمیمی بل اب ختم ہو جائےگا،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آج میڈیا کے سامنے وزیر بلدیات نے ہمارے مطالبات تسلیم کیے،حافظ نعیم الرحمان
Coronavirus Updates

اگر قائد اعظم حکم دیتے

پاکستان کی آزادی کی تحریک اور اس کے لیڈر محمد علی جناح کے بارے میں امریکی تصور حال ہی میں اجاگر ہوا ہے۔ اس کے لئے ہمیں پروفیسر بیٹی ملر انٹر برگر Miller Unterberger Bettyکا شکر گزار ہونا چاہیے جو 89 سال کی عمر پاکر 15مئی 2012ء کو ٹیکسس میں اپنے گھر پر انتقال کر گئیں۔وہ اے اینڈ ایم (ایگریکلچر اور مکینیکل) ٹیکسس یونیورسٹی میں پہلی خاتون استاد تھیں جو طلبا کو بین الاقوامی تعلقات کا درس دیتی تھیں اور 2004ء میں جامعہ سے ریٹائر ہونے تک وہ سفارتی مؤرخوں کی انجمن کی صدر بھی تھیں۔بیٹی ملر گلاسگو سکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئیں مگر ان کی تعلیم امریکہ میں مکمل ہوئی۔وہ سیراکیوز یونیورسٹی(نیو یارک) اور ریڈ کلف کالج (کیلے فورنیا) میں پڑھتی رہیں۔ لڑکیوں کایہ کالج‘ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی ماد رعلمی بھی تھا۔ 
پہلے پہل میں نے انہیں دسمبر1976ء میں دیکھا تھا۔ وہ قائد اعظم پر ایک مضمون پڑھنے کے لئے واشنگٹن آئی تھیں۔ اس وقت امریکی اپنے یوم آزادی کا دو سو سالہ جشن سمیٹ رہے تھے اور پاکستانی‘ جناح کی سوویں سالگرہ منا رہے تھے۔محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے‘ جب امریکی ‘ اعلان آزادی کا سو سالہ جشن منا چکے تھے اور کرسمس منا رہے تھے۔اس لحاظ سے لگتا ہے کہ جمہوریت‘ بابائے قوم اور اہل پاکستان کا روزِ ازل سے ہی مقدر تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ جب1949ء کے وسط میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ‘ دونوں جانب سے بیک وقت اوّلین غیر ملکی دوروں کے دعوت نامے ملے تو انہوں نے واشنگٹن کو ماسکو پر ترجیح دی۔ان دنوں داخلی ہوائی سفر عام نہیں ہو ا تھا۔لیاقت علی خان نے کراچی سے نیو یا رک تک تو ہوائی جہاز میں سفر کیا مگر نیو یارک سے واشنگٹن ریل گاڑی میں آئے اور صدر ہیری ٹرومن اور ان کے وزیر خارجہ ڈین ایچیسن سے بات چیت کی۔
ہمارے سفارت خانے نے قائد اعظم کی یاد میں ایک جلسے کا اہتمام کیا تھا جس کی صدارت امریکہ کے نائب صدر نیلسن راک فیلر کر رہے تھے۔ اگرچہ اس وقت تک ہیکٹر بولیتھو (Hector Bolitho 1897-1974ء) اور بعض پاکستانی اہلِ قلم بانیٔ پاکستان کی ذات اور صفات پر لکھ چکے تھے مگرپروفیسر انٹر برگر نے گلہ کیا کہ جناح کو کوئی سوانح نگار نہیں ملا اور ان کا مضمون سن کر راک فیلر بولے: ''میرے خیال میں پاکستانی قوم کے باپ کو ابھی ابھی ایک امریکی سوانح نویس مل گیا ہے۔‘‘ پروفیسر انٹر برگر کے خیالات کی خوشبو پاکستان پہنچی تو جلد ہی انہیں انٹر نیشنل جناح سنٹر کی جانب سے بلاوا آگیا اور تحریکِ پاکستان پر ایک تقریر انہوں نے اسلام آباد میں کی اور غالباً پہلی بار عام پاکستانیوں کو معلوم ہوا کہ سب سے پہلے امریکہ نے ان کی آزادی کو تسلیم کیا تھا اورکراچی میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں‘ بر طانوی لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے قطع نظر‘ اگر کسی ملک کا نمائندہ موجود تھا تو وہ امریکہ تھا۔
وفات سے چند مہینے پہلے وہ واشنگٹن آئیں تو میں نے ان سے ایک انٹرویو کیا‘ '' نائب صدر راک فیلر نے کئی سال پہلے آپ کو جو کام سونپا تھا کیا آپ نے اس کی تکمیل کے لئے کچھ کیا؟‘‘ انہوں نے اپنی عدیم الفرصتی کو جواز بنایا اور پھر بولیں: ''ہم نے سٹینلی والپرٹ کی ذات میں جناح کا جو سوانح نگار اہل پاکستان کے سپرد کیا ہے وہ ان پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔‘‘ تاہم وہ آخری سانس تک امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر غور کرتی رہیں اور ان کے کئی شاگردوں نے ان تعلقات کے مختلف پہلوئوں پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
س: دوسری جنگ عظیم سے پہلے جناح کے بارے میں امریکی تصور کیا تھا ؟
ج: حال ہی میں صیغہ راز سے باہر آنے والی سرکاری دستاویزات پر تحقیق سے ظاہر ہوا کہ برطانوی ہند میں متعدد امریکی اہلکار جناح کو جانتے تھے اور کچھ سرکردہ امریکی صحافیوں نے ان سے انٹر ویو بھی کیا تھا۔اس وقت تک بیشتر امریکی یہ سمجھتے تھے کہ انڈین نیشنل کانگرس‘ ان کے اپنے قانون ساز ادارے کی طرح رائے عامہ کے ہر پہلو کی نمائندہ ہے۔انڈین نیشنل کانگرس کے پروپیگنڈا نے اس غلط تاثر کو ہوا دی ۔ جناح اور مسلم لیگ دونوں نے کانگرس کے موقف میں امریکیوں کی اس دلچسپی کا نوٹس لیا مگر ان کا کوئی موثر ترجمان امریکہ میں نہیں تھا اس لئے یہ نوٹس بھی رائیگاں گیا۔
س: آپ کے خیال میں کب امریکیوں کو احساس ہوا کہ محمد علی جناح‘ ہندوستانی مسلمانوں کے اصل لیڈر ہیں؟
ج: امریکی پریس میں جناح کا اوّلین ذکر بارہ نومبر 1930ء کو ہوا جب انہیں پہلی گول میز کانفرنس کے 58 مندوبین میں سے ایک منتخب کیا گیا۔یہ کانفرنس سینٹ جیمز پیلس لندن میں ہوئی۔یہی وہ فورم تھا جس میں مسلم قیادت نے جداگانہ انتخاب اور سول سروسز میں کوٹے کا مطالبہ کانگرس کے سامنے رکھا۔اس موقع پر جناح نے جو تقریر کی وہ من و عن نیو یارک ٹائمز میں شائع ہو ئی۔جب میٹنگ آگے بڑھی تو خاتون صحافی بیٹرس بارن بی نے اخبار میں ایک فیچر لکھا جس میں دنیا کے دو عظیم مذاہب کا موروثی نزاع‘ جو اس کانفرنس کی ترقی میں مانع تھا‘ تفصیل سے بیان کیا گیا تھا۔ جب ہندو مسلم نزاع توڑنے کی آخری کوشش کی گئی تو بقول نیو یارک ٹائمز‘ جناح کو انتہا پسندوں کے ہار ماننے کی امید نہیں تھی۔ اخبار نے اس بات پر '' افسوس‘‘ کا ا ظہار کیا کہ جناح اور ہندو لیڈر تیج بہادر سپرو نے‘ جو اپنی اپنی قوموں کے اعتدال پسند راہنما سمجھے جاتے تھے‘ ایک 27 رکنی کمیٹی میں کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اخبار نے کہا کہ اگر معا ملہ ‘ ان دو لیڈروں پر چھوڑ دیا جاتا تو مذہبی آویزش ختم ہو جاتی۔
س: 1939ء میں دوسری عالمی لڑائی چھڑنے کے بعد کانگرس نے فاش ازم اور نازی ازم سے جنگ میں امداد کرنے سے انکار کر دیا اور ہندوستان کی آزادی پر زور دیا۔اس نازک مرحلے پر مسلم لیگ کے کردار کے بارے میں آپ کا نقطہ نگاہ کیا ہے؟
ج: کانگرس کے تمام ارکان‘ جو کسی سرکاری یا نیم سرکاری منصب پر فائز تھے‘ مستعفی ہوگئے اور مسلمانوں نے ہندو کے مظالم سے نجات پانے پر یوم شکرانہ منایا۔ لڑائی کے سارے عرصے میں کانگرس کی بیشتر قیادت جیل میں تھی۔جناح نے مسلم لیگ کو اس مناقشے سے دور رکھا اور اپنی پارٹی کو ہندوستانی مسلمانوں میں زیادہ طاقت ور بنانے پر توجہ دی۔
س: قرارداد لاہور پر جسے قرارداد پاکستان بھی کہا جاتا ہے امریکیوں کا رد عمل کیسا تھا؟
ج: امریکن قونصل جنرل مقیم کلکتہ نے لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کا‘ جس میں شیر بنگال اے کے فضل الحق نے یہ قرارداد پیش کی‘ کوئی خاص تجزیہ پیش نہیں کیا مگر نیو یارک ٹائمز نے جناح کے خطبہ صدارت کے کئی اقتباسات شائع کئے۔اخبار نے جناح کے اس نظریے پر بطور خا ص زور دیا کہ جمہوریت اچھی چیز ہے مگر ہندوئوں اور مسلمانوں کو ایک جمہوری نظام کے تابع کرنا رام راجیہ کے مترادف ہو گا۔
س: جب امریکی فوجیں ‘ برطانیہ کی امداد کے لئے ہندوستان میں اتریں تو موہن داس کرم چند گاندھی نے اپنا معروف نعرہ '' ہندوستان چھوڑ دو‘‘ دہرایا۔ اس بارے میں روزویلٹ انتظامیہ کا زاویہ نظر کیا تھا؟
ج: سرکاری اہلکار جان پیٹن ڈیویز نے سیکرٹری آف سٹیٹ کے نام ایک طویل بحری تار میں جناح کے بارے میں لکھا کہ ان کو کوئی لالچ نہیں دیا جا سکتا وہ اچھے کاریگر اور منتظم ہیں مگر ان میں گرم جوشی اور مقناطیسیت کم ہے۔مسلم لیگ کا لائحہ عمل پاکستان ہے اس سے کم کوئی شے اسے مرغوب نہیں۔ڈیویز نے کہا: جناح باور کرتے ہیں کہ کانگرس مسلمانوں سے اچھا سودا (فیئر ڈیل) نہیں کرے گی۔ایک ہفتہ بعد بمبئی میں جناح سے بات چیت کی رپورٹ میں ڈیویز نے کہا: جناح اور کانگرسی لیڈروں میں ایک افتراق پایا جاتا ہے۔ 21 دسمبر 1942ء کو جناح سے ایک اور میٹنگ کے بعد اس نے کہا کہ ابتدا میں پاکستان کا مطالبہ‘ لین دین کے لئے کیا گیا تھا۔
س: سرکاری اہلکار سے زیادہ معروضیت تو صحافی سنو کی تحریروں میں تھی؟
ج: آپ ایسا کہہ سکتے ہیں۔ایڈگر سنو نے لکھا کہ جنگ کے دوران ہندوستانی سپاہ کو ناراض نہ کرنا برطانوی پالیسی تھا کیونکہ جیسا کہ اس نے کہا‘ انگریزوں کو یقین تھا کہ مسلمان‘ ان کی سب سے بڑی پریشانی ہیں۔ آرمی میں وہ انہیں پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔اگر برطانیہ نے ہندوستان کو کانگرس یعنی ہندوکے حوالے کیا تو قائد اعظم کی ہدایت پر مسلمان فوجی ‘ بغاوت کر دیں گے۔جیسا کہ رازوں کے افشا سے ظاہر ہوا ہے امریکی انٹیلی جنس بھی اس نظریے کی تائید کرتی تھی۔پھر جون 1943ء میں وسیع پیمانے پر سول نافرمانی کا خطرہ تھا۔ صدر روزویلٹ نے ولیم فلپس کو ہندوستان بھیجا۔وہ جناح کی شخصیت سے متاثر ہوا مگر اس نے مسلم لیڈرکی علیحدگی پسندی کی داد نہ دی۔
س: 1945-46ء کے عام انتخابات میں جناح کی مسلم لیگ کی کامیابی نے تحریک پاکستان کے امریکی تصور میں کوئی تبدیلی پیدا کی؟
ج: ہاں‘ اس کے بعد سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے جناح اور پاکستان کے مستقبل کے بارے نئے پالیسی بیانات پر غور شروع کیا۔ برطانوی کابینہ نے ہندوستان کا جو نقشہ کھینچا تھا‘ جواہر لعل نہرو اور کانگرس پارٹی نے اسے منظور کرنے سے انکار کر دیا‘ تب بتدریج امریکہ میں یہ احساس پیدا ہوا کہ جناح کے خواب کی تعبیر ہی ہندوستانی جمود توڑے گی۔جب برطانیہ ‘ ملک کی تقسیم پر انڈین نیشنل کانگرس اور مسلم لیگ کو آمادہ کرنے میں کامیاب ہوا تو امریکی حکومت اور پریس نے اطمینان کا سانس لیا۔محکمہ خارجہ نے آزادی کے حتمی اعلان کی تعریف کی اور ''سب گروپوں‘‘ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔امریکی اخبارات اور رسائل نے پاکستان کو واحد حل کہہ کر قبول کیا اور امریکی حکومت نے 10جون 1947ء کو ایک پریس ریلیز کے ذریعے واضح کیا کہ آئندہ کا آئینی ڈھانچہ صرف ہندوستان کی '' قومیں‘‘ طے کریں گی اور وہ ہر ہندوستانی '' کمیونٹیز اور عقیدے ‘‘سے دوستانہ تعلقات جاری رکھنے کا آرزومند ہوگی؛ تاہم اگلے ہی دن سیکرٹری آف سٹیٹ جارج مارشل (وجہ شہرت مارشل پلان) نے برطانوی حکومت کے نام ایک تار میں امید ظاہر کی کہ جب پاکستان کی نئی ریاست قائم ہو گی تو امریکہ اس کے ساتھ'' نہایت دوستانہ ‘‘ تعلقات استوار کرے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں