نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 30 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 29 ہزار 192 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 68 ہزار 624 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر1353مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 11.92 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید8 ہزار 183 کیس رپورٹ،این سی اوسی
Coronavirus Updates

سخن گسترانہ بات

عبیدالرحمن ایڈووکیٹ کی یادداشتوں پر مبنی ایک اور کتاب ہمارے سامنے ہے۔ چونکہ ''احوالِ واقعی‘‘ اور حلقہ اربابِ ذوق شمالی امریکہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور اس کے بنیادی ارکان میں ابوالحسن نغمی اور عابدہ وقار کے ساتھ میرا نام بھی شامل ہے‘ اس لئے لامحالہ اس حلقے کے بانی مبانی کفایت اللہ رحمانی کی ذات اور صفات پر مصنف کے مختصر نوٹ پر نگاہ جاتی ہے‘ جس کے آخر میں وہ لکھتے ہیں: ''اردو نہ صرف ان کی مادری زبان تھی بلکہ اردو ان کا اوڑھنا بچھونا تھی‘‘۔ وہ مانتے ہیں کہ ان سے سہو ہو گیا۔ رحمانی مرحوم لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی مادری زبان اردو نہیں پنجابی تھی لیکن اردو بولنے والوں سے وہ اردو میں بات کرتے اور اردو میں ہی لکھتے تھے۔
کفایت اللہ رحمانی کی مادری زبان کے بارے میں عبیدالرحمن صاحب سے جو نادانستہ غلطی ہوئی وہ دراصل ایک وسیع تر معاملے پر روشنی ڈالتی ہے۔ حافظ محمود شیرانی اپنی تحقیقی کتاب ''پنجاب میں اردو‘‘ میں یہ نقطہ نگاہ اختیار کرتے ہیں کہ اردو پنجاب میں پیدا ہوئی تھی‘ یہی وجہ ہے کہ پنجابی اہلِ قلم‘ ذواللسان ہیں۔ گھر میں وہ پنجابی بولتے ہیں مگر گھر سے باہر جب قلم اٹھاتے ہیں‘ تو اردو میں لکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں اقبال اور فیض سے لے کر منٹو اور بیدی تک ہزاروں پنجابی اہلِ قلم کی مثال دی جا سکتی ہے‘ جو قارئین کے ایک وسیع تر حلقے کے متلاشی تھے۔ اردو بلاشبہ پاکستان کی قومی زبان ہے‘ لیکن اسے یہ درجہ آئین میں اندراج (آرٹیکل251) کی بدولت نہیں‘ بلکہ قبول عام کی سند حاصل ہونے سے ملا ہے۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے ٹرسٹ اور پی پی ایل کے اخبارات اور رسائل پر قبضہ کیا‘ رائٹرز گلڈ بنوایا اور قومی یک جہتی کے لئے کئی اور پاپڑ بیلے مگر ملک کا مشرقی بازو پھر بھی الگ ہو گیا۔ اگر وہ نجی شعبے میں ریڈیو اور ٹیلی وژن کے قیام کی اجازت دے دیتے تو شاید یک جہتی کا سوال ہمیشہ کے لئے حل ہو جاتا۔ آج جب ہم پنجابی‘ سندھی‘ بلوچی اور خیبر پختونخوا کے ایک سو سے زیادہ رپورٹروں کو اپنے اپنے لہجے میں اردو بولتے ہوئے سنتے ہیں‘ تو اس امید کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔
عبید صاحب نے عملی زندگی وکالت اور سیاست میں بسر کی اور ریٹائر ہونے کے بعد امریکہ میں وارد ہوئے۔ غالباً حلقے کی فرمائش پر انہوں نے اردو میں لکھنا شروع کیا۔ ان کے رشحات قلم اردو ادب میں بیش بہا اضافے کا سبب بنے ہیں کیونکہ واقعا ت ہوں یا شخصیات یہ کلمات ان کی ذاتی تحقیق اور مشاہدے پر مبنی ہیں۔ ان کی کتاب پڑھ کر میری معلومات میں وسعت آئی ہے۔ مثال کے طور پر واجد علی شاہ کو ہمیشہ ''رنگیلے پیا‘‘ ''جانِ عالم‘‘ اور اندر سبھا کا مصنف اور اداکار سمجھا گیا‘ مگر عبیدالرحمن ثابت کرتے ہیں کہ اودھ کے گیارہویں اور آخری نواب کو کلکتہ میں نظر بند کرنے کی غرض سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے بتدریج بدنام کیا وگرنہ ''وہ تو ہر صبح گھوڑے پر سوار ہو کر چھائونی جاتے اور پریڈ کی نہ صرف نگرانی کرتے بلکہ خود بھی شامل ہوتے۔ انہوں نے ڈسپلن اور فوجی کارکردگی کے لئے ضابطے بنائے تھے۔ اگر کوئی فرد‘ شاہ سے لے کر ادنیٰ سپاہی تک‘ وقت پر نہ پہنچتا تو اس پر جرمانہ کیا جاتا‘‘۔ ''فوجی پریڈ میں شاہ کا شامل ہونا کمپنی ریذیڈنٹ کو پسند نہ آیا‘‘۔
کراچی یونیورسٹی المنائی ایسوسی ایشن کے سابق صدر جناب زاہد بابر‘ عبید صاحب کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ وہ کتاب میں شامل ایک تعارف میں لکھتے ہیں: ''لکھنو سے ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہوئے۔ وہ سونے کا چمچہ منہ میں لئے پیدا نہیں ہوئے‘ بلکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی سخت محنت‘ خدمتِ خلق اور پاکستان کی بہتری کے لئے وقف کر دی‘ نام کمایا‘ شہرت پائی‘ جیل بھی گئے مگر اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ عبید صاحب‘ ان کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ تصویر ہیں‘ جنہیں معلوم تھا کہ ان کا گھر کبھی پاکستان میں نہیں آئے گا‘ پھر بھی وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے تھے‘ اور اپنے سکولوں اور کالجوں کو سبز ہلالی جھنڈیوں سے آراستہ کرتے تھے۔ وہ ''تحریک آزادی کی یادیں‘‘ تازہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ''اسی سال کالج کی مرکزی عمارت پر مسلم لیگ کے پرچم کی رسم‘ پرچم کشائی راجا محمود آباد کے ہاتھوں کی گئی۔ راجا صاحب کی تصویر آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ تصور تو یہ تھا کہ بڑے ٹھاٹھ باٹھ کی شخصیت ہو گی۔ بڑے کر و فر سے آمد آمد ہو گی اور راجوں نوابوں کے مخصوص انداز ہوں گے‘ لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے کھدر کے کرتے اور ٹخنوں سے اونچے پاجامے میں ملبوس معمولی سے چپل اور سر پر سیاہ قراقلی پہنے ایک ایسی درویش صفت شخصیت کو دیکھا جو کہنے کو تو راجا محمود آباد تھے‘ لیکن نظر قلندر آ رہے تھے‘‘۔ عبید صاحب ذکر کر رہے تھے لکھنو کا اور مراد ان کی آل انڈیا مسلم لیگ سے تھی۔ میں نے کنونشن مسلم لیگ کے قیام پر راجا صاحب کو لاہور میں دیکھا‘ جس کے بعد وہ انگلستان چلے گئے تھے‘ اسی طرح جیسے حسرت موہانی‘ وزیر اعظم لیاقت علی خان سے ملنے کی کوشش میں ناکام ہو کر اپنی گٹھڑی سنبھالتے ہوئے لکھنو لوٹ گئے تھے۔ یہ لیگ کے مخلص راہنماؤں کا اعجاز ہے کہ پارٹی کا سایہ ہر وقت پاکستان پر رہتا ہے۔ ایوب خان کے دور میں دو مسلم لیگیں تھیں آج ( 2015ء میں) چار ہیں۔ اگلے الیکشن سے پہلے ان میں کمی نہیں ایک دو کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
مضمون میں آگے چل کر عبید صاحب لکھتے ہیں:'' 1946ء میں میٹرک کے فارم بورڈ کو بھیجے جانے تھے۔ میں نے فارم لیا اور اس پر اپنا نام لکھا 'عبیدالرحمن پاکستانی‘۔ اس فارم کو عبدالحئی صاحب نے پڑھا۔ میری طلبی ہوئی۔ انہوں نے نہایت شفقت سے سمجھایا کہ یہ فارم الٰہ آباد بورڈ کو بھیجے جا رہے ہیں۔ ہم سب پاکستانی ہی ہیں‘ لیکن اس کے اظہار کی کیا ضرورت ہے؟ جانتے ہو کہ یہ تعصب اور دشمنی کی فضا ہے‘‘۔ اس اقتباس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بہار‘ بنگال‘ آسام اور پنجاب میں بھی پاکستان کے لئے ایسے ہی جذبات تھے۔
جگر مراد آبادی‘ پروفیسر غفور احمد‘ حسن علی شیخ‘ مسٹر جسٹس ظہورالحق‘ ستیہ پال آنند اور دوسرے اکابر‘ جن کے بارے میں عبید صاحب نے قلم اٹھایا ہے اپنے اپنے شعبے میں یکتا مانے جاتے ہیں‘ مگر یہ کتاب‘ زبانی تاریخ (اورل ہسٹری) ہے۔ کتابوں‘ رسالوں اور انٹرنیٹ پر ان میں سے بیشتر شخصیات کے احوال بکھرے ہوئے ہیں‘ مگر عبید صاحب نے پرسنل ٹچ دے کر انہیں زندہ جاوید کر دیا ہے۔ وہ سندیلہ میں پیدا ہوئے تھے جو لکھنو کے مضافات میں واقع ہے۔ کاش وہ یا اتر پردیش کا کوئی اور ادیب ان شاعروں پر قلم اٹھائے‘ جنہوں نے ہندوستان کے اس سب سے بڑے صوبے کے سینکڑوں گمنام دیہات کو دنیا کے نقشے پر اجاگر کیا۔ 
''پان ایک عادت‘ ایک تہذیب‘‘ یْو پی کی اصطلاح کے مطابق ''خاصے‘‘ کی چیز ہے۔ یادش بخیر جب عبید صاحب نے انجمن ادب اردو میں یہ مضمون پڑھا تو ساتھ والی میز پر چاندی کا ایک پاندان اور دوسرے متعلقہ لوازمات پڑے تھے۔ ایک صحافی اگر اپنی رپورٹ لکھتا‘ تو یہ بھی بتاتا کہ مدراس یونیورسٹی کی ایک تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں منہ کے سرطان کی بڑی وجہ یہ عادت یا بقول مصنف لت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ''تاریخ میرا موضوع نہیں‘‘۔ زبانی تاریخ تو ہے جس کا ایک بڑا نمونہ ''پون صدی پہلے کے رمضان‘‘ ہے جس میں لکھنو والوں کی طرح رمضان کو جمع کے صیغے میں رکھا گیا ہے۔ ان مضامین اور کراچی سے شائع ہونے والی اس 152 صفحات کی کتاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان ساٹھ ستر سال میں ناگزیر طور پر سب کچھ بدل گیا ہے۔ (حلقہ ارباب ذوق‘ شمالی امریکہ میں پڑھا گیا۔ اس ماہانہ ادبی اجتماع میں مقامی شعرا کے علاوہ نیو یارک سے خالد عرفان‘ صبیحہ صبا اور زینت یٰسین‘ بالٹی مور سے باقر زیدی‘ نسیم فروغ اور صادق باجوہ اور دبئی سے ڈاکٹر ثروت زہرہ نے اپنا کلام سنایا) 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں