"ACH" (space) message & send to 7575

پاکستانی آٹو مارکیٹ اور الیکٹرک گاڑیاں

قارئین کے پُرزور اصرار پر الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے کچھ مزید معلومات پیش خدمت ہیں۔ الیکٹرک گاڑیاں کتنی تیزی سے پاکستانی مارکیٹ میں اپنی جگہ بناتی ہیں اس کا انحصار کئی چیزوں پر ہو گا‘ مثلاً یہ کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کس کروٹ بیٹھتی ہیں۔ اگر تو آئندہ چند برسوں یا ایک عشرے میں تیل کے نئے ذخائر عالمی سطح پر دریافت ہوتے رہے‘ امریکہ کی طرح جدید شیل ٹیکنالوجی کی مدد سے تیل کی پیداوار کو تین گنا کیا جاتا رہا تو سپلائی زیادہ ہونے سے خام تیل کی قیمتوں میں کمی آ جائے گی۔ قیمتیں کم ہونے سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب بھی کم ہو جائے گی کیونکہ روایتی گاڑیاں بہرحال بڑی تعداد میں اور کہیں کم قیمت پر دستیاب رہیں گی۔ ان کے فیول سٹیشنز بھی ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور الیکٹرک گاڑیوں کی طرح انہیں گھنٹوں چارج بھی نہیں کرنا پڑتا اس لئے یہ کہنا کہ الیکٹرک گاڑیاں آئیں گی اور چھا جائیں گی درست معلوم نہیں ہوتا۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ اور بھی مشکل ہے کیونکہ غربت‘ بیروزگاری اور مہنگائی کے باعث لوگوں کی قوت خرید کم ہو چکی ہے اور ہر کوئی الیکٹرک گاڑی افورڈ نہیں کر سکتا۔ پٹرول اگر انتہائی سستا ہو گیا تو ہر دوسرا شخص پرانی گاڑی بھی خریدنے پر آمادہ ہو جائے گا‘ چاہے وہ فی لیٹر چھ سات کلومیٹر ہی چلتی ہو۔ مثال کے طور پر اگر پٹرول پچاس روپے فی لیٹر کے لگ بھگ آ جائے تو کیا ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی طلب باقی رہے گی؟ امریکہ جیسے ملک میں بھی تیل کی گھٹتی بڑھتی قیمتوں نے الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت پر اثر ڈالا ہے۔ کئی کمپنیاں ایسی ہیں جو تیل کی قیمت کم ہونے پر الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار بھی کم کر دیتی ہیں کیونکہ ان کی طلب کم ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے اور جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو یہ الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار بڑھا دیتی ہیں۔
الیکٹرک وہیکل پالیسی کی کامیابی اور برقی گاڑیوں کی فروخت سے جڑا دوسرا معاملہ بیٹریوں کا ہے۔ ہائبرڈ گاڑیوں میں انجن بیٹری اور تیل دونوں کی طاقت استعمال کرتا ہے جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کا انجن ساری کی ساری طاقت بیٹریوں سے حاصل کرتا ہے۔ اس لئے الیکٹرک گاڑیوں میں بیٹریاں بہت زیادہ تعداد میں اور طاقتور لگائی جاتی ہیں تاکہ گاڑی میں سوار چار افراد کے ساتھ ساتھ خود گاڑی کے بارہ تیرہ سو کلو وزن کو بھی سڑک پر چلا سکے۔ فی الوقت بیٹریوں کی لاگت اتنی زیادہ ہے کہ ایک نئی بیٹری کی قیمت میں دس پندرہ سال پرانی پٹرول گاڑی آ جاتی ہے۔ بیٹری کی اپنی ایک مخصوص لائف بھی ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے سیل کمزور پڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک لاکھ کلومیٹر چلنے کے بعد گاڑیوں کے سیل کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ الیکٹرک وہیکل پالیسی میں بیٹریوں کی پیداوار کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے۔ ایک غیرملکی کمپنی نے اس سیکٹر میں خاصی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ الیکٹرک گاڑیاں اگرچہ ماحول دوست ہوتی ہیں لیکن جو بیٹریاں خراب یا پرانی ہو جاتی ہیں انہیں ٹھکانے لگانے پر بھی غور کیا جانا چاہیے وگرنہ ماحول کو بچانے کے جس مقصد کیلئے یہ پالیسی اپنائی جا رہی ہے وہ مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ بیٹریوں کا معیار برقرار رکھنا بھی اس لئے ضروری ہے کہ غیرمعیاری بیٹریاں نہ صرف صارف کا پیسہ اور وقت برباد کریں گی بلکہ گاڑی کے انجن پر بھی برا اثر پڑے گا۔ جب اس طرح کا کوئی منصوبہ سامنے آتا ہے تو ہر چیز کی نقل کرنے والا مافیا بھی متحرک ہو جاتا ہے۔ اس وقت بھی جو لوکل گاڑیاں ملک میں اسمبل ہو رہی ہیں ان کے ستر فیصد پارٹس ملک میں تیار ہو رہے ہیں؛ تاہم ان میں ایک نمبر کوالٹی سے لے کر پانچ نمبر کوالٹی کے پارٹس شامل ہیں۔ گاہک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سستا پرزہ ڈلوائے؛ تاہم ایسا پرزہ اتنا ہی جلد خراب بھی ہو جاتا ہے۔ صارفین کی اس طلب کو پورا کرنے کے لئے بہت ہلکے پرزہ جات تیار کئے جا رہے ہیں۔ اگر بیٹریوں کے معاملے میں بھی یہی صورتحال بن گئی تو اس سارے عمل کا مقصد ختم ہو جائے گا کیونکہ گھٹیا معیار کی بیٹری گاڑی کو اتنے زیادہ کلومیٹر تک نہیں چلا پائے گی جتنا کہ معیاری بیٹری۔ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے معیار پر کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا۔ الیکٹرک گاڑیوں میں بیٹری کی حیثیت انسانی دماغ یا دل کی ہے۔ اس لئے صرف اعلیٰ معیار دینے والی کمپنیوں کو ہی بیٹری کی پیداوار کی اجازت دی جانی چاہیے۔ اسی طرح سمگل شدہ بیٹریوں پر بھی کنٹرول کرنا پڑے گا کیونکہ افغانستان چمن بارڈر سے اب بھی سالم گاڑیاں چوری چھپے آ رہی ہیں۔ بیٹریاں بھی آنا شروع ہو گئیں تو مقامی صنعت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ 
تیسرا معاملہ الیکٹرک گاڑی کی قیمت کا ہے۔ اس وقت جو الیکٹرک گاڑیاں دنیا میں فروخت ہو رہی ہیں ان میں ای لون مسک کی کمپنی ٹیسلا سب سے آگے ہے؛ تاہم اس گاڑی کی قیمت کروڑوں میں ہے۔ اب پاکستان کی بات کریں تو ایک شخص جو پانچ کروڑ روپے کی گاڑی افورڈ کر سکتا ہے اس کے لئے مہینے کا پچاس ہزار کا پٹرول افورڈ کرنا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ اس لئے وہ الیکٹرک گاڑی کیوں خریدے گا جبکہ اسے بار بار چارج بھی کرنا پڑتا ہے؟ اس وقت جو سستی ترین نئی الیکٹرک گاڑی دستیاب ہے وہ سات ہزار ڈالر یا پاکستانی ساڑھے دس لاکھ روپے کی ہے لیکن اس کی شکل رکشہ سے ملتی ہے۔ یہ ایک مرتبہ چارج کرنے سے ساٹھ کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہے اور اس میں صرف دو افراد کی گنجائش ہے۔ اس سے اوپر جائیں تو رینالٹ کی اٹھارہ ہزار ڈالر یا پاکستانی اٹھائیس لاکھ روپے کی گاڑی ہے جو تین سو کلومیٹر فاصلہ طے کر سکتی ہے۔ پاکستان میں جو الیکٹرک گاڑی پذیرائی حاصل کر سکتی ہے اس کی قیمت دس سے پندرہ لاکھ روپے کے اندر ہونی چاہیے۔ اس سے جتنا اوپر جاتے جائیں گے بات لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوتی جائے گی۔
چوتھا نکتہ گاڑیوں کے چارجنگ سٹیشنز سے متعلق ہے۔ گاڑیوں کی چارجنگ بجلی سے ہونی ہے اور بجلی ملک میں پہلے ہی مہنگی ہو رہی ہے۔ یہ بھی دیکھنے کی بات ہے‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ الیکٹرک گاڑی رکھنا صارفین کیلئے پٹرول گاڑی سے بھی مہنگا پڑ جائے۔ سستی اور مسلسل بجلی ہی اس پراجیکٹ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ملک میں خاصا حل ہو چکا ہے۔ ایک خبر کے مطابق آئندہ پانچ سے دس برسوں میں ملک میں بجلی کی پیداوار اتنی بڑھا دی جائے گی جس سے بجلی پچاس فیصد سستی ہو جائے گی۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ الیکٹرک گاڑیوں کیلئے بھی خوش آئند ہو گا کیونکہ پاکستان میں ان گاڑیوں کو جگہ بنانے میں اتنا وقت تو لگ ہی جائے گا۔ اسی طرح جگہ جگہ چارجنگ سٹیشنز بننے ہیں لیکن اس حوالے سے ابھی سارا کام کاغذوں پر ہے۔ آج بھی شروع کیا جائے تو پانچ سال تک اس کی ابتدائی شکل سامنے آئے گی۔ چارجنگ سٹیشنز میں تیز ترین چارجنگ کی صلاحیت بھی ہوتی ہے لیکن اس کا انحصار گاڑی کے ماڈل اور بیٹری پر ہوتا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج جو درپیش ہو گا وہ گاڑی کو جلد چارج کرنے کے حوالے سے ہو گا کیونکہ ہمارے ہاں لوگ ہر کام میں جلدی کے عادی ہیں۔ سڑکوں پر ہی دیکھ لیں‘ ہر کوئی جلدی میں اپنی منزل پر پہنچنا چاہتا ہے اور اس کیلئے ہر طرح کا قانون بھی توڑنے کو اپنا حق سمجھتا ہے وہاں یہ سمجھنا کہ لوگ آٹھ گھنٹے گاڑی کو چارج کروانے کیلئے انتظار کر لیں گے خاصا مشکل ہے۔ پھر یہ کہ گاڑی کی فٹنس کو برقرار رکھے بغیر بہتر مائلیج نہیں مل سکتی۔ یہاں تو لوگ دو دو مہینے تک ٹائروں کی ہوا تک چیک نہیں کرواتے۔ کہیں سے کوئی کھڑکے کی آواز آ رہی ہے تو اس وقت تک گاڑی چلاتے رہتے ہیں جب تک دھماکے سے کوئی چیز ٹوٹنے سے وہ سڑک کے عین درمیان کھڑی نہیں ہو جاتی۔
بہرحال الیکٹرک گاڑیاں جلد یا بدیر روایتی گاڑیوں کی جگہ لینے والی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں زیادہ دیر لگے گی۔ اس دوران اگر کوئی اور ٹیکنالوجی ایجاد ہو جاتی ہے جیسے ہمارے ہاں ایک صاحب نے خالص پانی سے گاڑی چلانے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا‘ اس طرح کی کوئی ٹھوس ٹیکنالوجی سامنے آتی ہے جو الیکٹرک گاڑیوں سے بھی سستی ہو تو دنیا کا رخ اس کی طرف ہو جائے گا کیونکہ یہ ٹیکنالوجی اور اینٹرپرینورشپ کا دور ہے۔ پوری دنیا میں متبادل‘ کم قیمت اور دیرپا اشیا اور خدمات کی تیاری پر کام ہو رہا ہے اس لئے کسی بھی ٹیکنالوجی کو حتمی اور کسی بھی ایجاد کو آخری ایجاد نہیں قرار دیا جا سکتا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں