نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدنےآرمی چیف کااستقبال کیا
  • بریکنگ :- آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرزکا دورہ
  • بریکنگ :- آرمی چیف کوداخلی سیکیورٹی اور افغانستان صورتحال پر بریفنگ
  • بریکنگ :- آرمی چیف کاادارے کی کارکردگی پراطمینان کااظہار،آئی ایس پی آر
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

روگ کٹے بیماروں کے

اخبارات کے ڈھیر میں تین خبریں کبھی باقاعدہ منہ چڑاتی نظر آتی ہیں تو کبھی تمسخر اڑاتی۔ پہلی خبر کچھ یوں ہے کہ احتساب کے ادارے کا ایگزیکٹو بورڈ آج کرپشن ریفرنسز اور انویسٹی گیشنز کا جائزہ لے گا۔ یہ خبر ہر اجلاس سے پہلے اسی طرح شائع ہوتی ہے۔ بظاہر تو یہ معمول کی خبر ہے لیکن جب بھی ایسی خبر نظر سے گزرتی ہے تو عجیب طرح کے ڈپریشن سے دوچار کر جاتی ہے۔ اجلاس پر اجلاس ہوئے چلے جا رہے ہیں۔ ریفرنسز بھی بن رہے ہیں۔ تحقیقات بھی جاری ہیں۔ ملکی خزانہ بھی صاف ہے۔ لوٹنے والوں کے ہاتھ بھی صاف ہیں۔ صفائی کے اس کھیل میں انصاف سرکار بھی کھل کر کھیل رہی ہے۔ کوئی کابینہ میں پناہ گزین ہے تو کوئی ایوانِ وزیراعظم کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتا ہے۔ سماجی انصاف اور کڑے احتساب جیسے بیانیوں کا حشر نشر عوام دیکھ ہی رہے ہیں۔
احتسابی عمل کے تسلسل میں حکومتی سنجیدگی اور تعاون کا بھید بھی روز بروز کھلتا چلا جا رہا ہے۔ مطلوبہ اہداف پورے نہ ہونے کا ذمہ دار کمزور استغاثہ اور ناقص تفتیش کو ٹھہرا کر نیب کی کارکردگی پر سوال اٹھانا تو بہت آسان ہے لیکن چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے 120 نیب عدالتوں کی منظوری کے باوجود عدالتوں کا قیام تاحال زیر التوا ہے جبکہ لاہور میں موجود پانچ عدالتوں میں سے صرف دو عدالتیں کام کر رہی ہیں جبکہ شہباز شریف، فواد حسن فواد، احد چیمہ اور سعد رفیق سمیت تمام ہائی پروفائل کیسز ان عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جو ججز کی تقرری کی منتظر ہیں۔ اگر ہائی پروفائل کیسز کی سماعت میں سنجیدگی کا یہ عالم ہے تو کہاں کا احتساب؟ احتساب کے نام پر مخالفین کو رگڑا لگانا ہو یا انہیں زیرِ عتاب رکھنا ہو‘ ماضی کی یہ سبھی روایات دورِ حاضر میں بھی جوں کی توں جاری ہیں لیکن سر چڑھے اور منظورِ نظر سرکاری بابوز ہوں یا وزیر‘ مشیر‘ سبھی کو کھلی چھوٹ ہے۔
احتساب کی بھول بھلیوں میں الجھا کر عوام کو ایک ایسے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے‘ جس کی سمت اور منزل کے بارے میں کچھ بھی کہنا ناامیدی اور بے یقینی کے تاثر کو تقویت دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے لیے حکومت کس قدر سنجیدہ اور مخلص ہے‘ اس کا اندازہ بی آر ٹی کیس سمیت ان اہم شخصیات کی موجوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ حکومتی ترجیحات کے پیش نظر تحقیق اور تفتیش پر اٹھنے والے سوالات کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ بے پناہ حکومتی وسائل کے باوجود مطلوبہ اہداف میں ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟ ان کیسوں پر اٹھنے والے بھاری اخراجات کا حساب کون دے گا؟ سرکاری خزانے پر بوجھ ڈال کر بنائے گئے ان مہنگے ترین کیسوں کے سبھی ملزمان سستے میں چھوٹتے چلے جا رہے ہیں۔ چلتے چلتے عرض کرتا چلوں کہ جس طرح غربت خیرات سے نہیں‘ انصاف سے ختم ہوتی ہے اسی طرح احتساب بھی اپنے پرائے کی تفریق ختم کیے بغیر ممکن نہیں۔ جب اہداف قد سے بڑے ہوں‘ نیت اور ارادوں پر قول و فعل کے تضادات کا شکنجہ ہو‘ دوہرا معیار نظام پر بھاری ہو اور حکمران طبقہ احتساب پر‘ تو ایسے میں اہداف کا حصول کیونکر ممکن ہو سکتا ہے؟
دوسری خبر بھی انصاف سرکار کے بیانیوں اورگورننس کی چولیں ہلاتی دکھائی دیتی ہے۔ دنیا میڈیا گروپ کے ذوالفقار علی مہتو کی تحقیقاتی رپورٹ ان ستائشی کلمات کو بھی آئینہ دکھا رہی ہے جو چند روز قبل وزیراعظم نے عثمان بزدار کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے ادا کیے تھے۔اس کارکردگی کو بھی سراہا گیا تھا جو تاحال سلیمانی ٹوپی پہنے عوام کی نظر سے اوجھل ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 56 ارب 46 کروڑ کی کرپشن جبکہ 268 ارب کا ریکارڈغائب ہونے کی آڈٹ رپورٹس منظر عام پر آ گئی ہیں۔ کہیں مردہ افراد کو پنشن جا رہی ہے تو کہیں اورنج ٹرین کا 181 ارب روپے کا ریکارڈ غائب ہے۔ کہیں بغیر اشتہار بھرتیاں کی گئی ہیں تو متعدد اضلاع میں صحت عامہ کے نام پر مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے ساتھ ساتھ ٹھیکوں میں بھی خزانے کو بڑے بڑے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ 2020-21ء کی تازہ ترین رپورٹیں انصاف سرکار کے لیے نہ صرف دردِ سر دکھائی دیتی ہیں بلکہ سرکار انہیں اسمبلی میں لے جانے سے بھی گریزاں نظر آتی ہے۔ اسی طرح نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن کی مد میں مالکان سے رقم وصول کرنے کے باوجود 17 لاکھ 77 ہزار 666 نمبر پلیٹیں تیار نہیں ہو سکی ہیں۔ عوام سے وصول کردہ نمبر پلیٹوں کی بھاری رقم ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی سہولت کاری کے بغیر ٹھیکیدار اکیلے کیسے ہضم کر سکتا ہے؟ محکمہ اطلاعات میں 93 کروڑ 70 لاکھ اور محکمۂ صحت میں 26 ارب روپے کے قابلِ اعتراض اخراجات کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر میں مجموعی طور 17 ارب روپے کے اخراجات پر سوالیہ نشان لگایا گیا ہے جبکہ 14 ارب 36 کروڑ کا ریکارڈ چھپا لیا گیا ہے۔ رمضان بازار کے انتظامات کی مد میں ٹھیکوں اور غیر قانونی بھرتیوں سے2 ارب 20 کروڑ روپے ادھر ادھر کیے گئے۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے بغیر اشتہارات بھرتیاں کیں جن کے تحت ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کے غیر قانونی اخراجات کیے گئے۔ صوبائی دارالحکومت میں بھی ایسا اندھیر مچایا گیا ہے کہ الامان والحفیظ۔ایسا اندھیر مچا ہوا ہے کہ بند آنکھ سے بھی سب کچھ صاف صاف دکھائی دے رہا ہے اور ہمارے وزیراعظم صاحب ہیں کہ تختِ پنجاب کی گورننس اور میرٹ کے مداح دکھائی دیتے ہیں‘ گویا جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔
منہ چڑاتی تیسری خبر یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں میںتمام آپریشن بند کر دیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ یقینا مریضوں تعداد میں کمی کا کوئی نیا فارمولا ایجاد کرنے کی غرض سے کیا گیا ہو گا۔کسی کا اپینڈیکس پھٹ گیا تو کسی کی آنکھیں پتے میں پتھری کی وجہ سے پتھرا گئیں۔ کوئی گردے کی جان لیوا تکلیف سے چیخیں مار رہا ہے تو کوئی جگر اور دیگر مہلک امراض کے ہاتھوں مجبور ہسپتالوں میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ کوئی کسی حادثے میں ہڈی تڑوا بیٹھا ہے تو کوئی بری طرح گھائل ہے۔ سبھی کو یہ کہہ کر لوٹا جا رہا ہے کہ ہیلتھ ایمرجنسی میں صرف کورونا سے متاثرہ مریضوں کو اٹینڈ کیا جا رہا ہے۔ ابھی آپ Pain Killer پر گزارہ کریں‘ جب حالات نارمل ہوں گے تو سرجری یا جو بھی علاج بنتا ہوگا‘ کردیں گے۔ کورونا کے پیش نظر ایمرجنسی تو قابل فہم ہے‘ لیکن دیگر امراض میں مبتلا چیختے‘ چلاتے اور درد سے کراہتے تشویشناک حالت سے دوچار مریضوں کو علاج سے انکار کی منطق ناقابلِ فہم اور قطعی غیر انسانی ہے۔
اک اک کر کے مر گئے سارے سب چیخیں خاموش ہوئیں
بستی کا رکھوالا سمجھا روگ کٹے بیماروں کے
یہ سبھی اقدامات یقینا مریضوں کے روگ کاٹنے کے لیے ہی کیے جا رہے ہوں گے۔ کورونا کے مریضوں کی وجہ سے آپریشن تھیٹر بند کرنا اور سرجری کا عمل معطل کر دینا کہاں کی مسیحائی ہے؟ صورتِ حال اس قدر بھیانک اور دردناک ہے کہ اس نے کیا حکام‘ کیا عوام سبھی کے حواس گم کر ڈالے ہیں۔ عوام کے حواس گم ہونا تو سمجھ میں آتا ہے کہ اَن دیکھی موت کا خطرہ اچھے اچھوں کے ہوش اڑا دیتا ہے لیکن ہمارے ہاں تو پوری سرکار کے طوطے اڑ چکے ہیں۔ انہیں بھی کچھ سجھائی نہیں دے رہا اور ان کی حالت اس مریض کی سی ہے‘ جو لگانے والی دوائی کھا رہا ہو اور کھانے والی دوائی لگائے چلا جا رہا ہو۔ ان کے دعوے اور اقدامات سن سن کر عوام کے کان پک چکے ہیں لیکن ان کی گورننس کا پھل ہے کہ پکنے میں ہی نہیں آ رہا۔ دیگر امراض میں مبتلا مریضوں پر ہسپتالوں کے دروازے بند کرنے کا کریڈٹ بھی انصاف سرکار کو ہی جاتا ہے۔
کس کس کا رونا روئیں‘ تخت پنجاب کی بدحواسیوں کا کہ وزیراعظم کے ستائشی بیانوں کا؟ ان کی گورننس اور میرٹ دیکھ کر وہ لطیفہ یاد آ گیا کہ باپ گھر میں داخل ہوا تو بیٹا لپک کر پاس آیا اور بولا: پاپا میرے پاس آپ کے لیے دو بڑی خبریں ہیں‘ ایک اچھی اور ایک بُری خبر۔ باپ نے تجسس سے کہا کہ پہلے اچھی خبر سنائو۔ بیٹے نے کہا کہ میں اچھے نمبروں سے پاس ہو گیا ہوں۔ باپ نے خوش ہوکر سر پہ ہاتھ پھیرا اور بولا: اب بُری خبر سنائو‘ جس پر بیٹے نے انتہائی سادگی سے کہا کہ پہلی خبر جھوٹی ہے!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں