نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- یواےای،سعودی عرب اورچین اگرمددنہ کرتےتوڈیفالٹ کرجاتے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- نوازشریف جھوٹ بول کرباہرچلےگئے،ان کےبیٹےباہرہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- برطانوی وزیراعظم ان گھروں میں نہیں رہ سکتاجن میں ان کےبچےرہ رہےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- نوازشریف کےبیٹےاربوں کےگھرمیں رہتےہیں،نہیں بتاتےکہ پیسہ کہاں سےآیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- آج ڈالر 152 پرآگیاہےجو 160 سےاوپرچلاگیاتھا،عمران خان
  • بریکنگ :- 21 فیصدموٹرسائیکل اور 20 فیصدگاڑیوں کی سیل میں اضافہ ہوا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- عدالتیں آزادہیں،اگرآپ بےقصورہیں توپاکستان آئیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اگرنوازشریف نےچوری نہیں کی توعدالتوں کاسامناکیوں نہیں کرتے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اس بارشریف خاندان کواین آراونہیں ملےگا، وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- مریم نوازکےنام پرلندن میں 4 بڑےبڑے محل ہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- اقتدارمیں رہوں نہ رہوں ان کوکسی صورت نہیں چھوڑوں گا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہمیں پاکستان کی تاریخ کاسب سےبڑاخسارہ ملا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زرمبادلہ کےذخائر 10 ارب ڈالرسےگر چکےتھے،وزیراعظم
"DRA" (space) message & send to 7575

پی ڈی ایم‘ پی پی پی اور ملکی سیاست

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی پچھلی ایک سربراہی کانفرنس میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی تقریر اور سینیٹ میں سید یوسف رضا گیلانی کے بطور قائدِ حزبِ اختلاف انتخاب کے نتیجے میں جو اہم سوالات زیرِ بحث ہیں‘ وہ یہ ہیں: پی ڈی ایم کا مستقبل کیا ہو گا؟ پی پی پی نے پی ڈی ایم میں شامل دیگر سیاسی اتحادیوں کی مدد کے بجائے حکومت کے حامی آزاد سینیٹرز کی مدد سے ایوانِ بالا میں اپوزیشن کی قیادت پر قبضہ کرنے میں جو کامیابی حاصل کی ہے‘ اس سے اس پارٹی کو طویل المیعاد بنیادوں پر سیاسی فائدہ ہو گا یا نقصان؟ اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی آئندہ کی حکومت عملی کیا ہو گی؟
جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے تو بہت سے تبصرہ نگاروں کے مطابق یہ اتحاد‘ جس کی بنیاد گزشتہ سال ستمبر میں رکھی گئی تھی‘ عملاً ختم ہو چکا ہے کیونکہ اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں یعنی پی پی پی اور پی ایم ایل این کے مابین ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی‘ الزام تراشی اور طعنے بازی جاری ہے‘ اور ان الزامات کی وجہ سے اس سیاسی اتحاد کا متحرک رہنا نا ممکن ہے؛ اگرچہ اتحاد میں شامل جماعتیں اس بات پر مصر ہیں کہ پی پی پی کے اس اقدام کے باوجود پی ڈی ایم قائم رہے گی اور آئین کی بالا دستی اور جمہور کی فتح کے لئے یہ اتحاد سرگرم رہے گا۔ سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کے انتخاب نے اگرچہ عملاً دو بڑی جماعتوں یعنی پی پی پی اور پی ایم ایل این کی راہیں جدا کر دی ہیں اور اس سے پی ڈی ایم کے اتحاد اور یکجہتی کو جو نقصان پہنچا ہے‘ غیر جانبدار مبصرین ہی نہیں بلکہ پی ڈی ایم کی باقی 9 رکن جماعتیں بھی اس کا برملا اظہار کر رہی ہیں؛ تاہم دونوں بڑی جماعتیں اس سیاسی اتحاد کے حتمی طور پر شیرازہ بکھیرنے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہیں۔ اسی لئے پی پی پی نے نہ صرف پی ڈی ایم کا بدستور رکن رہنے کا ارادہ ظاہر کیا بلکہ اتحاد کے سربراہی اجلاس کے جلد انعقاد کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ پی ایم ایل این بھی پی پی پی کو باہر رکھ کر اس اتحاد کے رسمی خاتمے کا الزام اپنے سر نہیں لے سکتی۔ اسی لئے سابق وزیر اعظم اور نون لیگ کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے حال ہی میں ایک اخباری انٹرویو میں پی پی پی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کو خارج از امکان قرار دیا‘ اور امید ظاہر کی ہے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد نہ صرف برقرار رہے گا بلکہ پی پی پی کو ساتھ لے کر آئندہ سرگرمیاں بھی جاری رکھی جا سکتی ہیں‘ مگر نون لیگ کے ایک اور سینئر رہنما رانا ثنااللہ کے مطابق ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے‘ اگر پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کے سامنے ان چھ سینیٹرز (دو فاٹا اور چار بلوچستان عوامی پارٹی) کو آزاد ثابت کرے‘ ورنہ ان کی مدد سے یوسف رضا گیلانی کی جیت پر معذرت کرے اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کا دوبارہ چنائو ہو۔ رانا ثنااللہ کا موقف ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل باقی نو جماعتیں چاہتی ہیں کہ سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف صحیح ( Genuine) اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کی حمایت سے مقرر ہوں نہ کہ حکمران پارٹی سے تعلق رکھنے والے یا حکومت کے حامی سینیٹرز کی مدد سے‘ کیونکہ اس صورت میں حکومت اور اپوزیشن میں کوئی فرق نہیں رہے گا‘ لیکن یہ امر واضح ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے اقدام پر کسی طور معذرت نہیں کرے گی بلکہ اس کا بھرپور دفاع کرے گی اور اس صورت میں جیسا کہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے‘ پی پی پی اور پی ڈی ایم کی راہیں جدا ہو جائیں گی۔
اگر نوبت یہاں تک پہنچتی ہے اور پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے جدا ہوتی ہے یا الگ کر دی جاتی ہے تو یہ صرف پی ڈی ایم کیلئے ہی ایک دھچکا نہیں ہو گا بلکہ ملک میں جمہور کی بالا دستی پر مبنی سیاسی نظام کے قیام کی جدوجہد کا بہت بڑا زیاں بھی ہو گا کیونکہ پی ڈی ایم بے شک مختلف سماجی اور سیاسی پس منظر اور نظریات پر مبنی جماعتوں کا اتحاد ہے‘ لیکن پاکستان میں پہلی مرتبہ سویلین بالادستی کی حمایت میں ملک کے تمام حصوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں نے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا تھا۔ اس پلیٹ فارم سے حکومت کے خلاف جلسوں اور جلوسوں کی شکل میں جو تحریک چلائی گئی‘ اس نے پاکستان کے ہر صوبے میں عوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا‘ لیکن آئندہ کی حکمتِ عملی خصوصاً اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معاملے پر پی پی پی کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے پی ڈی ایم کو اب ایک ایسے بحران کا سامنا ہے جس سے اس کی بقا مشکوک ہوتی جا رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی پی پی نے اپنی الگ راہ خوب سوچ سمجھ کر اپنائی ہے‘ مگر سوال یہ ہے کہ اس کے پیشِ نظر کیا اغراض و مقاصد ہیں؟ دوسرے الفاظ میں پی ڈی ایم کی دس میں سے نو جماعتوں کے موقف کے برعکس اقدام خصوصاً سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کے چنائو میں حکومت کے حامی سینیٹرز کی مدد حاصل کرنے سے پی پی پی کو مستقبل میں کیا سیاسی فائدے حاصل ہو سکتے ہیں؟ مسلم لیگ ن کے رہنمائوں خصوصاً مریم نواز اور رانا ثنااللہ کے مطابق پی پی پی نے بہت گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ دوسری طرف حکومت اور اس کے ہمنوا حلقے پی پی پی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے جمہوری سیاست کے عین مطابق سمجھتے ہیں۔ ان دونوں نقطہ ہائے نظر سے قطع نظر اگر ہم گزشتہ تین دہائیوں پر محیط عرصے کے دوران اہم اور نازک مواقع پر پی پی پی کی قیادت کے فیصلوں یا رویوں کا جائزہ لیں تو کہنا پڑے گا کہ اس نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ 1993 میں صدر غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم نواز شریف کے مابین چپقلش پیدا ہوئی تو بلوچستان سمیت چھوٹے صوبوں کے سیاسی رہنمائوں نے اسے آٹھویں آئینی ترمیم سے مسلح صدر اور ایگزیکٹو پاورز سے محروم وزیر اعظم کے مابین لڑائی سمجھ کر پارلیمنٹ یعنی وزیراعظم کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ تب پیپلز پارٹی میں بھی بعض رہنما ایسے تھے جو پارلیمانی نظام کو مضبوط کرنے کیلئے غلام اسحاق خان کے مقابلے میں نواز شریف کی حمایت کرنا چاہتے تھے‘ مگر پارٹی کی چوٹی کی قیادت نے اپنا وزن صدر کے پلڑے میں ڈال دیا۔ اس کے عوض 1993 کے عام انتخابات میں پی پی پی کو مسلم لیگ نون کے مقابلے میں کامیابی اور اس کے بعد مرکز میں حکومت تو مل گئی‘ مگر 1997 کے انتخابات میں میاں نواز شریف کو دو تہائی اکثریت کا عوامی مینڈیٹ ملنا اس بات کی دلیل تھاکہ عوام کی نظروں میں 1993 کے انتخابات میں میاں نواز شریف کو اقتدار سے دور کرنے کیلئے مداخلت کی گئی تھی۔ پیپلز پارٹی کی نظریاتی وابستگی اور سیاسی بصیرت کا ایک اور اہم امتحان اس وقت ہوا جب 1988 میں بینظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں گورنر بلوچستان جنرل (ر) موسیٰ خان نے نومنتخب صوبائی اسمبلی تحلیل کر دی تھی اور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے یہ اسمبلی بحال کر دی تھی۔ 1988 اور 1993 کے ان واقعات میں پیپلز پارٹی کے کردار کی وجہ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے‘ پنجاب میں‘ جسے ذوالفقار علی بھٹو طاقت کا اڈا کہتے تھے‘ پیپلز پارٹی کے پائوں ایسے اکھڑے کہ ابھی تک پھر سے جمائے نہیں جا سکے ہیں۔ گیلانی صاحب کو حکومتی سینیٹرز کی حمایت سے ایوانِ بالا میں لیڈر آف دی اپوزیشن بنوا کر پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے ساتھ جو کچھ کیا ہے‘ اس کا اسے لمبے عرصے تک خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور اس کی ایک صورت پنجاب میں اس کا مزید کمزور ہونا ہو سکتی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں