نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وفاقی کابینہ کومعاشی اشاریوں پربریفنگ دی جائےگی
  • بریکنگ :- کابینہ چیف ایگزیکٹوپاکستان سنگل ونڈوکمپنی کی تعیناتی کی منظوری دےگی
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس آج ہوگا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وفاقی کابینہ 15 نکاتی ایجنڈےپرغورکرےگی
  • بریکنگ :- وزیراعظم ہاؤس کوکمرشل استعمال کیلئےکھولنےکامعاملہ ایجنڈامیں شامل
  • بریکنگ :- کوروناسےبچاؤاورعلاج کیلئےدرکار 61آئٹمزکی ڈیوٹی چھوٹ میں توسیع کی منظوری دےگی
  • بریکنگ :- اسلام آبادمارگلہ روڈپرتجاوزات ہٹانےکی رپورٹ کابینہ کوپیش کی جائےگی
  • بریکنگ :- اسلحہ لائسنس جاری کرنےکااختیاروزارت داخلہ کودینےکی منظوری دی جائےگی
  • بریکنگ :- کابینہ ملزم مجاہدپرویزکوامریکاکےحوالےکرنےکےمعاملےپرغور کرےگی
  • بریکنگ :- آرٹیکل 51کےتحت صوبوں کیلئےمختص نشستوں کامعاملہ ایجنڈامیں شامل
  • بریکنگ :- اسلام آباد:کابینہ چیف ایگزیکٹو پیسکوکی تعیناتی کافیصلہ کرےگی
Coronavirus Updates
"DRA" (space) message & send to 7575

سندھ اور مرکز کے معاملات

اپنی اپنی رائے ہے‘ لیکن اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ پاکستان کا سب سے اہم اور نازک ترین سیاسی مسئلہ کون سا ہے تو میرا جواب ہو گا کہ صوبائی خود مختاری کی حدود پر تنازع پاکستان کا نمبر ون مسئلہ ہے۔ یہ ان مسائل میں سے ایک ہے‘ جن کی تاریخ پاکستان سے بھی پرانی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد متعدد بار دعویٰ کیا گیا کہ صوبائی خود مختاری کا مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔ 1956 کا آئین منظور ہوا تو تمام بڑی سیاسی پارٹیوں نے اس میں صوبائی خود مختاری کی حدود پر اطمینان کا اظہار کیا‘ حتیٰ کہ مشرقی پاکستان میں زیادہ صوبائی خود مختاری کے حق میں تحریک کی قیادت کرنے والی سیاسی جماعت عوامی لیگ کے سربراہ حسین شہید سہروردی نے بھی کہا کہ اس (1956) آئین کے تحت صوبائی خود مختاری کا مسئلہ 90 فیصد حل ہو گیا ہے۔
اس کے باوجود 1966 میں یعنی اس کے دس سال بعد شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات سامنے آ گئے۔ ان چھ نکات کے تحت پاکستان کیلئے جس آئینی ڈھانچے کی تجویز پیش کی گئی تھی‘ اس سے ملک کی فیڈریشن نہیں بلکہ ایک کنفیڈریشن کی شکل بنتی تھی۔ شیخ مجیب الرحمن گرفتار ہوئے اور ان پر ''اگرتلہ سازش‘‘ کے تحت ملک سے غداری کے الزام میں مقدمہ چلا۔ ابھی وہ جیل میں ہی تھے کہ ایوب خان کی آمریت کے خلاف 1968 میں عوامی تحریک شروع ہو گئی۔ اس تحریک کا آغاز مغربی پاکستان سے ہوا تھا‘ مگر بہت جلد یہ مشرقی حصے تک پھیل گئی۔ اس ملک گیر تحریک‘ جو بالآخر ایوب خان حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئی‘ کے چارٹر آف ڈیمانڈز میں صوبوں کی خود مختاری کا مطالبہ پہلے نمبر پر تھا۔ 1973 کے آئین کی متفقہ منظوری کے بعد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دعویٰ کیا تھاکہ صوبائی خود مختاری کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل کر دیا گیا ہے‘ مگر ایک سال بعد ہی بلوچستان میں مبینہ علیحدگی پسندوں کیخلاف آپریشن کرنا پڑا۔ آمرانہ حکومت عملی طور پر وفاقی نہیں‘ وحدانی ہوتی ہے کیونکہ تمام اختیارات چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے پاس ہوتے ہیں۔ 8ویں اور17ویں آئینی ترامیم اس حقیقت کی مظہر ہیں۔
2010 میں منظور کی جانے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم دراصل پاکستان میں وقفے وقفے سے طویل ادوار پر مشتمل آمرانہ حکومتوں کی مرکزیت پر مبنی گورننس کے خلاف جمہوری قوتوں کا ردِ عمل تھا۔ اس آئینی ترمیم کے بارے میں دو باتیں بڑی اہم اور قابلِ غور ہیں۔ ایک یہ کہ اسے پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں‘ جن میں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) بھی شامل ہیں‘ کی حمایت حاصل تھی اور دوسرے اس کے تحت صوبائی خود مختاری کی حدود کو وسیع کرنے کے علاوہ آئین کا پارلیمانی کریکٹر بھی بحال کیا گیا‘ یعنی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی خود مختاری اور پارلیمانی جمہوریت کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا۔ اس ترمیم کے تحت 16 کے قریب وزارتیں و محکمے اور 100 کے لگ بھگ کارپوریشنز مرکز سے صوبوں کو منتقل کی گئیں۔ آئین کی دفعہ 172 کی شق نمبر3کا اضافہ کرکے زیرِ زمین قدرتی وسائل مثلاً گیس پر صوبوں کے 50 فیصد حقِ ملکیت کو تسلیم کیا گیا۔ ترمیم کی منظوری سے ایک سال قبل 2009 میں قومی مالیاتی ایوارڈ (NFC)کے تحت ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی کل آمدنی میں سے صوبوں کا حصہ 57.7 فیصد تک بڑھا دیا گیا۔ اس طرح مالیات کے شعبے میں ہی نہیں بلکہ قانون سازی اور ایڈمنسٹریٹو شعبوں میں بھی اختیارات کے توازن کو صوبوں کے حق میں بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے باوجود مرکز اور صوبوں میں اختیارات کی تقسیم کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔
اس کی ایک تازہ مثال سندھ میں اپوزیشن پی پی پی اور مرکز میں حکمران پی ٹی آئی کی حکومت کے مابین بڑھتے ہوئے اختلافات اور الزام تراشیوں کا سلسلہ ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے وزیر اعظم عمران خان کے نام ایک خط میں الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ترقیاتی سکیموں اور فنڈز کی ایلوکیشن میں سندھ کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ اپنے دعوے کی سپورٹ میں انہوں نے گزشتہ تین سالہ دور میں سندھ کیلئے وفاق کی ترقیاتی سکیموں میں بتدریج کمی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی میں سندھ کیلئے صرف چھ سکیموں کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیشنل اکنامک کونسل میں فیصلے کرتے وقت سندھ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس کے علاوہ ان کا یہ بھی موقف ہے کہ صوبہ سندھ کو اس کے حصے کی گیس نہیں مل رہی اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت سندھ کو اپنے حصے کی ملنے والی رقم میں ہر سال کٹوتی کر لی جاتی ہے۔
وزیر اعظم کے نام لکھے گئے اس خط کے جواب میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے وزیرِ اعلیٰ سندھ کے الزامات کو غلط اور زمینی حقائق کے منافی قرار دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے سندھ میں وفاق کی طرف سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کیا۔ ان میں گزشتہ برس کراچی کیلئے 1.1 ٹریلین اور اپریل 2021 میں وزیر اعظم کی طرف سے سکھر کے دورے کے دوران 446 بلین روپے کے ترقیاتی پیکیج کا ذکر کیا۔ اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ان تمام پیکیجز کا وجود صرف کاغذوں پر ہے‘ آن گرائونڈ کسی پیکیج کے تحت کام شروع نہیں ہو۔ اس سلسلے میں انہوں نے کراچی پیکیج کا ذکر کیا‘ اور کہا کہ اس کے اعلان کو ایک سال ہونے کو ہے‘ لیکن کراچی کے عوام ابھی تک اس پیکیج کے تحت فنڈز کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے سندھ کیلئے اب تک جتنے بھی ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے‘ ان کیلئے مطلوبہ فنڈز کا انتظار ہنوز جاری ہے۔
وفاقی حکومت اور سندھ کی صوبائی حکومت کے مابین گزشتہ 34 ماہ سے جاری محاذ آرائی کا سبب اور بھی مسائل ہیں۔ ان میں کووڈ19 کے مینجمنٹ اور سندھ میں وفاق کے سینئر افسران کی تقرری‘ پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے مسائل بھی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان مسائل کے حل کے بارے میں آئینی دفعات بالکل واضح ہیں بلکہ اگر پاکستان اور بھارت میں وفاقی سٹرکچر کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان کے آئین میں بھارتی آئین کے مقابلے میں مرکز اور صوبوں کے اپنے اپنے دائرہ کار اور اختیارات کی تقسیم کو کہیں زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے‘ لیکن اصل مسئلہ مائنڈسیٹ کا ہے۔ دونوں ملکوں کے سیاسی نظام میں مرکزیت پر مبنی سوچ کو غلبہ حاصل ہے۔ حکومت کی طرف سے اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی کا مطالبہ اس کی مرکزیت پر مبنی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پنجاب اور سندھ کو سیاسی اقتدار کے دو ستون قرار دیا تھا۔ ان میں سے ایک یعنی پنجاب میں تو پی ٹی آئی کی حکومت ہے‘ مگر سندھ اپوزیشن پی پی پی کے پاس ہے۔ معدنی دولت کے نئے ذخائر خصوصاً تیل اور گیس کی دریافت سے سندھ کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس لئے سندھ میں برسرِ اقتدار پارٹی کا خیال ہے کہ وفاقی حکومت اٹھارہویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرکے دراصل سندھ کی دولت پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ یہ الزامات کہاں تک درست ہیں اور خدشات میں کتنی حقیقت ہے؟ اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہے مگر بظاہر وفاق کے رویے کی وجہ سے سندھ کی شکایات کو تقویت ملتی ہے‘ مثلاً صوبائی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرنا‘ وزیر اعظم کا سندھ کو مطلع کئے بغیر کراچی کا دورہ کرنا اور وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے بغیر واپس آ جانا‘ اور سب سے بڑھ کر ایسے بیانات جیسے حال ہی میں اسد عمر نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نزدیک سندھ کی حکومت اور سندھ کے عوام کا آپس میں کوئی تعلق نہیں اور وفاقی حکومت سندھ کی حکومت سے بالاتر صوبے میں ترقیاتی کام کرنے کا حق رکھتی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں