Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

بازگشت

وہ مہربان ہے، ہاں‘ وہ بہت مہربان ہے جو مٹی کو سبز گیہوں اور مسکراتی سرسوں کے کھیت عطا کرتا ہے۔ تاریکی اور جہالت کی ماری بستیوں کو وہ فقیر اور چراغ بخش دیتا ہے... مگر اس کے بندے، مگر اس کے نا شکر گزار بندے۔
موٹر وے پر بہار کا موسم اچانک طلوع ہو گیا۔ تین ہفتے تک دھند کا عذاب سہنے کے بعد صبح لاہور سے اسلام آباد کا قصد کیا۔ جی ٹی روڈ کا ارادہ تھا کہ راہ میں گوجر خان پڑتا ہے۔ مال روڈ سے موٹر وے کا راستہ لیا کہ اژدہام سے بچ کر نکل جائیں۔ کالا شاہ کاکو سے شیر شاہ سوری کی شاہراہ پر چلے جائیں گے۔ راوی کا پل عبور کرنے کے بعد دونوں طرف پھیلی ہوئی ہریالی نے واپس جانے کی اجازت نہ دی۔ سڑک کے دونوں کناروں پر لہلہاتے تہہ در تہہ اشجار اور سرما کی مہربان دھوپ۔ موسم کی سفاکی روشنی میں تحلیل ہو گئی۔ خیال کی دنیا میں پھر چراغ جل اٹھے۔
جنوری یا فروری، کبھی معمول تھا کہ سال میں کم از کم ایک بار صبح سات بجے لاہور ریلوے سٹیشن پہنچ جاتا۔ کھڑکی کے ساتھ والی نشست۔ شہر کی حدود میں گاڑی کی رفتار کم ہوتی۔ اتنی کم کہ سورج کی کرنیں نمودار ہو جاتیں۔ کچھ دیر میں نور جہاں کے مقبرے کا گنبد ملگجی فضا میں نمودار ہوتا اور صدیوں پہلے کی کہانی کہنے لگتا۔ 
شاہجہاں نے باپ کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ آگرہ سے لشکر روانہ ہوا اور لاہور کے پہلو سے ہوتا ہوا جہلم کے قریب جا پہنچا۔ گرمیاں بتانے کے لیے جہانگیر سری نگر میں تھا۔ بادہ نوشی کے بعد چینی کی پیالی میں وہ افیون گھول کر پیا کرتا۔ نور جہاں اس کے آس پاس گھومتی رہتی۔ ''ایک جام اور دو کباب کے بدلے سلطنت ہم نے ملکہ کے حوالے کر دی ہے‘‘ اس نے کہا تھا: شب بسری کے لیے مگر ہندو رقاصائیں اس کی منتظر ہوتیں۔ دربار میں نور جہاں کا سکہ رواں تھا۔ موہنی صورت کا نہیں بلکہ خداداد ذہانت 
کا۔ اس کا اور اس کے خاندان کا‘ زیر اثر ایرانی عمائدین کا۔ اکبر کے عہد میں کچھ دن بحث ہوتی رہی کہ ترکی کا تو سوال ہی نہیں‘ گوجری اور فارسی میں سے سرکاری زبان کا انتخاب کیا جائے۔ قرعۂ فال فارسی کے نام نکلا۔ خلد آشیانی ہمایوںکے ساتھ ایران سے آنے والے سرداروں کا پلہ اس طرح بھی بھاری ہو گیا کہ باقیوں کے لیے فارسی مادری زباں بہرحال نہ تھی۔ سنی گھڑ سواروں اور شیعہ سرداروں میں اختلافات کا آغاز یہیں سے ہوا۔ اس کا ایک باب مجدد الف ثانی اور پھر کئی دوسرے‘ شاہ عبدالرحیم سے لے کر شاہ ولی اللہ، سید احمد شہید اور دیو بند میں لکھے گئے۔ نور جہاں کا باپ خزانے کا نگراں تھا اور سگا بھائی بنگال کا گورنر۔ مغل فوج کے بہترین سالار مہابت خان سے ملکہ ناخوش ہوئی تو بنگال بھجوا دیا۔ اکسانے والوں نے پشتون سالار کو اکسانے کی کوشش کی۔ اس کا جواب یہ تھا: مغلوں اور ایرانیوں کی نہیں، یہ مسلمانوں کی حکومت ہے اور اس کے خلاف بغاوت گناہ عظیم۔
بادشاہ ہراساں ہوا تو ملکہ نے تجویز کیا کہ مہابت خان کو شہزادے کے مقابل میدان میں اُتارا جائے۔ پھر اس کی مہر کے ساتھ جنرل کو لکھا: ہندوستان میں آپ کے سوا کوئی نہیں جو اس بغاوت کو فرو کر سکے۔ جنرل مہابت خان کا جواب مختصر اور دو ٹوک تھا: ''کیا میں کوئی کتا ہوں جسے بھلا دیا جائے اور دس برس کے بعد یاد کر لیا جائے؟‘‘
اس کے باوجود وہ سری نگر پہنچا اور ایسی برق رفتاری کے ساتھ کہ مؤرخ ہمیشہ حیرت کا اظہار کرتے رہے۔ شہر کے باہر دریا کنارے نور جہاں استقبال کے لیے موجود تھی، فقط ایک کنیز کے ساتھ۔ احتراماً‘ فولادی اعصاب کا آدمی گھوڑ ے سے اتر آیا‘ لیکن پھر ضبط نہ کر سکا۔ اس نے کہا: گستاخی معاف ملکۂ عالیہ، مغل سلطنت کو آپ نے خطرے میں ڈال دیا۔ پھر پلٹ کر اس نے محافظ دستے کو دیکھا اور ڈانٹ کرکہا: ''تم نے قطار کیسے توڑ دی؟‘‘ سپاہی اس پر جان چھڑکتے تھے۔ ان کے لیے وہ باپ کی مانند تھا۔
حالت جنگ میں بادشاہ کا انتقال ہو گیا۔ شاہجہاں نے مہابت خان کو سپہ سالاری کی پیش کش کی۔ جنرل نے مگر انکار کر دیا۔ جنگوں نے نہیں‘ درباری سازشوں نے اسے تھکا دیا تھا۔ اس نے اپنا آرام بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
یہی فیصلہ ملکہ عالیہ نے کیا۔ اپنی چہیتی بیٹی لاڈلی بیگم کے ساتھ وہ لاہور بِراجیں۔ خاموشی کے ساتھ باقی زندگی دریا کنارے بسر کر دی۔ لاہور تب عالم اسلام کا سب سے بڑا شہر تھا۔ راوی کی موجوں پر بجرے خرام کرتے۔ شہنشاہ اکبر کو بھٹی راجپوتوں کی بسائی اس بستی نے مبہوت کر دیا تھا۔ پندرہ برس وہ یہیں قیام فرما رہے۔ 
حیرت گل سے آبِ جو ٹھٹکا
بہے بہتیرا‘ پر بہا بھی جائے
معزول ملکہ کو اسی شہر نے قرار کے آخری برس عطا کیے۔ ترکوں کی روایت وگرنہ مختلف تھی۔ معتوب قتل کر دیے جاتے۔ خواتین کے باب بادشاہ بہت ہی مہذب آدمی تھا۔ سوتیلی ماں کو عافیت بخشی۔ شریک حیات کے مرقد پہ کرۂ ارض کی سب سے جلیل عمارت تعمیر کی، تاج محل۔ بہ ایں ہمہ حسرت کا ایک چراغ نور جہاں کے جی میں جلتا ہی رہا۔ رہ رہ کر بیتے ایام کی شوکت اسے یاد آتی۔ دلفگار کرتی۔ یہی گداز ایک شعر میں ڈھلا۔
بر مزار ما غریباں نے چراغے نے گلے 
نے پرِ پروانہ سوزد، نے صدائے بلبلے
(غریب الوطن کی قبر پر کوئی چراغ ہے اور نہ پھول۔ پروانے کے پر جلتے ہیں نہ بلبل کی صد آتی ہے)
یادوں کے ہجوم میں ریل گاڑی دریائے چناب کو عبور کرتی ہوئی جہلم جا پہنچتی۔ حسن کو سادگی میں پُرکاری اور میدانوں میں ناہمواری کی ضرورت ہوتی ہے۔ زمانے گزر گئے مگر پوٹھوہار کا جمال ابھی دریافت ہونا باقی ہے۔ جہلم کے کنارے، جسے کبھی دریائے بھٹ (بٹ) کہا جاتا، اسی نام کا نیارا شہر اس جمال کی ایک جھلک دکھاتا ہے۔ پونے دو سو برس ہوتے ہیں، اس دیار میں دور دور تک جنگل لہلہایا کرتے۔ ریل کا اجرا ہوا تو سارے شجر قتل کر دیے گئے۔ پٹڑی کے درمیان بچھائے جانے والے تختے تراش لیے گئے۔ دشت ویرانہ ہو گیا مگر آدمی جیتے رہے۔ 
دریائے جہلم کا پل پار کرنے کے بعد پے بہ پے وہ مناظر نمودار ہوتے کہ ایسی دل کشی کم از کم اس مسافر نے کہیں اور نہ پائی۔ جا بہ جا بکھرے ہوئے گیہوں کے ہرے کچور زمردیں کھیت۔ ان کے درمیان ہنستی مسکراتی سرسوں کے قطعات۔ گوجر خان ابھی کچھ دور ہوتا۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کا دیار۔ پھر گزرے زمانوں کی یادیں ایک حزنیہ گیت کی طرح بیتاب کرنے لگتیں۔ ایک ناتمام زندگی کی بازگشت۔ پھر وہ زمانے جو اب کتابوں میں رقم ہیں۔ محمد بن قاسم سے التمش اور التمش سے محمد علی جناح تک وہ شہ سوار جو چلے گئے اور اب کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے۔
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم 
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
ادھر ایک پہر کی مسافت پر اجودھن نام کا ایک پتن تھا۔ فقیر نے بستی بسائی تو نگر کا نام پاک پتن ہو گیا۔ تاریخ نے اسے گنج شکر کے نام سے یاد رکھا ہے۔ کبھی ملتان سے دلی کا راستہ یہی تھا۔ کبھی ایک بادشاہ اور ایک لشکر نے یہاں دل ہار دیا تھا۔ بلبن دارالحکومت سے ملتان روانہ ہوا‘ تو سپاہ نے فقیر کی زیارت کیے بغیر آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ سلطان کو اس روز معلوم ہوا کہ دنیا کے اصل بادشاہ کون ہیں پھر نظام الدین نام کا ایک نوجوان اس وقت یہاں آیا جب درویش کے سر میں چاندی اترنے لگی تھی۔ پھر خواجہ نظام الدین اولیا ہو گئے‘ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرفراز ہو گئے۔ سنگ خارا کو پارس نے سونا کر دیا۔ 
اٹھ فریدا ستیا جھاڑو دے مسیت
توں ستا رب جاگدا تیری ڈاڈھے نال پریت
( اے فرید اٹھ بیٹھ اور مسجد میں جھاڑو دے۔ تو سو کیسے سکتا ہے کہ تیرا مالک جاگتا ہے۔ کیسی عظیم ہستی سے تو نے محبت کی جسارت کی)۔
لیجئے اب عصر حاضر کے عارف کا دیار آ پہنچا۔ خواجہ مہر علی شاہ یاد آتے ہیں اور تہی دامن کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔ یہی متاع ہے‘ بس اپنی یہی متاع۔ عبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم باوضو رہنا۔ احمد رفیق کے دادا خواجہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے۔ کیا عجب ہے کہ آخر شب کوئی دعا ارزاں ہوئی ہو۔ 
وہ مہربان ہے، ہاں‘ وہ بہت مہربان ہے جو مٹی کو سبز گیہوں اور مسکراتی سرسوں کے کھیت عطا کرتا ہے۔ تاریکی اور جہالت کی ماری بستیوں کو وہ فقیر اور چراغ بخش دیتا ہے... مگر اس کے بندے، مگر اس کے ناشکر گزار بندے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں