نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوئٹہ:کسٹمزحکام کی پنجگورمیں کارروائی
  • بریکنگ :- کارروائی کےدوران 15ہزارلٹرایرانی ڈیزل برآمد،ترجمان
  • بریکنگ :- 12 ہزار 495 لٹرخوردنی تیل بھی برآمد،ترجمان کسٹمز
  • بریکنگ :- برآمدڈیزل اورخوردنی تیل کی قیمت لاکھوں روپےہے،ترجمان
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

"Let a thousand flowers bloom" چینی مفکر نے کہا تھا اور دوسرے کا قول یہ ہے: بادشاہ یا بھکاری، لکھنے والا اپنے مقام کا تعین خود کرتا ہے۔
کیا کور کمانڈر کانفرنس کا انتباہ صرف ''را‘‘ کے نام ہے؟ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے مگر شاید پاکستان میں بھارت اور مغرب کے زیرِ اثر گروہوں کے لیے بھی، اس میں ایک پیغام پوشیدہ ہے۔ دو ماہ ہوتے ہیں، لاہور کا ایک اخبار نویس مشورے میں مصروف تھا: کیوں نہ پاک اسرائیل فرینڈشپ ایسوسی ایشن بنائی جائے۔ جس ادارے پہ اس کے آب و دانہ کا انحصار ہے، اس کے بارے میں باور یہ کیا جاتا ہے کہ در پردہ اسے بھارتیوں کی پشت پناہی میسر ہے۔ امدادی رقوم اگرچہ سکینڈے نیویا سے آتی ہیں۔ اس کمزور سے آدمی کو یہ خیال کیوں سوجھا؟
ایک معروف صحافی جارج سورس کی قائم کردہ این جی او چلاتا ہے۔ اپنے میدان میں کوئی معرکہ وہ سر نہ کر سکا مگر یہاں اس نے ایک معجزہ کر دکھایا۔ سالِ گزشتہ وزیرِ اعظم امریکہ تشریف لے گئے تو اس نے یہودی سرمایہ کار کے ساتھ ان کی ملاقات کو ممکن بنایا۔ جارج پہ الزام ہے کہ چند سال قبل اس نے مشرقِ بعید کی معیشتوں کو تباہ کر دیا تھا۔ مہاتیر محمد تب اقتدار میں تھے۔ وہ برہم تھے اور انہوں نے آئی ایم ایف کی طرف سے امداد کی پیشکش ٹھکرا دی تھی۔ ان کاخیال یہ تھا کہ یہ چال چلی ہی اس لیے گئی کہ دوسرے ممالک کے علاوہ ان کے وطن کو مغرب کا نخچیر بنانے کی کوشش کی جائے ؎
بے وقار آزادی ہم غریب ملکوں کی
سر پہ تاجِ رکھا ہے، بیڑیاں ہیں پائوں میں
اقتدار سے الگ ہونے کے بعد عمران خان کی دعوت پر مہاتیر اسلام آباد تشریف لائے۔ پنج ستارہ ہوٹل میں منتخب اور ممتاز شہریوں سے انہوں نے خطاب کیا۔کہا: اگر دوسرے ممالک کو ایٹم بم بنانے کا حق ہے تو پاکستان کو کیوں نہیں۔ مغربی اخبارات میں ان کے خطاب کا صرف یہی حصہ چھپا۔ تقریر تمام ہوئی تو گندمی رنگ کی، بوٹا سے قد کی ایک جواں سال خاتون اٹھی اور اس نے کہا: قرآنِ کریم میں اگر کچھ خامیاں ہیں تو ہم انہیں دور کیوں نہیں کر لیتے۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ ملائیشیا کے مدبّر کا لہجہ استوار رہا۔ اس نے کہا: خامیاں ہم میں ہیں، قرآنِ کریم میں نہیں۔ اس تقریب کا ریکارڈ موجود ہے۔ مشہور اخبار نویس طلعت حسین سٹیج سیکرٹری تھے۔
یہ کون لوگ ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟ تین طرح کے شہری ہمارے وطن میں ہیں۔ ترقی پسند، سویت یونین کا انہدام مکمل ہونے کے بعد جن میں سے بعض اچھل کر مغرب کی گود میں جا بیٹھے۔ وہ این جی اوز چلاتے ہیں۔ ہمیں وہ جاہل سمجھتے اور ہماری فکری رہنمائی پہ مصر رہتے ہیں۔
ان کی اپنی تائید تین چار فیصد سے زیادہ نہیں۔ ثانیاً مذہبی انتہا پسند۔ سیاسی طور پر وہ کئی جماعتوں میں بٹے ہیں۔ طالبان ان کا عسکری محاذ ہیں۔ ان میں سے اکثر تحریکِ پاکستان کے مخالف تھے، خاص طور پر مدارس چلانے والے، طالبان کے حامی۔ بھارت کے لیے مذکورہ دونوں گروہ نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ملّا ملحد اتحاد۔ ان میں سے ایک مشہور مولوی صاحب کے بارے میں جنرل پرویز مشرف نے اپنی کابینہ کو بتایا تھا کہ بھارت سے وہ نقد روپیہ لاتے رہے۔ کرنل قذافی اور صدام حسین سے بھی۔ ان دنوں وہ ایک عرب ملک کے لیے متحرک ہیں اور ان کے حامی فتویٰ فروش بھی۔ وہی، جن کا مسئلہ دین نہیں بلکہ ان کا فرقہ ہے۔ طالبان کے ہاتھوں بے گناہوں کے قتلِ عام پر وہ زیادہ سے زیادہ اپنی قوم کی اشک شوئی کر سکتے ہیں مگر اپنے سرپرستوں کے لیے کفن باندھ کر میدان میں اترنے کا اعلان کر تے ہیں۔
لگ بھگ پندرہ برس ہوتے ہیں، ڈان گروپ کے جریدے ہیرالڈ نے ایک سروے شائع کیا: 98 فیصد پاکستانی شرعی قوانین کا اطلاق چاہتے ہیں۔ ادارتی نوٹ میں کہا گیا کہ اگر یہ سروے انہوں نے خود نہ کیا ہوتا تو کبھی نہ چھاپتے۔
یہ 98 فیصد رائے دہندگان کون تھے؟ مذہبی جماعتوں کے حامی؟ جی نہیں، 1947ء میں قائد اعظم کو 76.5 فیصد ووٹ ملے تھے اور انہوں نے یہ کہا تھا: قرآن پاکستان کا دستور ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اب ان کی تعداد زیادہ ہے اور اس کے باوجود زیادہ کہ مذہبی انتہا پسندوں نے مساجد، مارکیٹوں اور مزارات میں پچاس ہزار سے زیادہ معصوم شہری شہید کر ڈالے۔ ریاستِ پاکستان کے مخالفین میں ان کے علاوہ وہ بے یقین شامل ہیں، جو الحاد کی تحریکوں سے متاثر ہوئے۔ اب انہیں امریکہ اور یورپی یونین کی چھتری میسر آ گئی ہے۔ ان میں احساسِ کمتری کے مارے مرعوبین بھی ہیں۔ علّامہ اقبال نے کہا تھا:
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
پہنچے تو براہِ راست نہیں، بھارتی امداد انہیں بالواسطہ پہنچتی ہے۔ ہر طرح کے مفاد پرست ان کی صفوں میں پناہ گزین ہیں۔ انہی میں سے ایک نے کہا تھا کہ دہرے ایجنٹ بہت ہوتے ہیں، میں تہرا ہوں۔ وہ جنرل محمد ضیاء الحق، میاں محمد نواز شریف، محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے ساتھ رہا۔ اب وہ امریکی شہری ہے۔ امریکی اخبار میں اسی نے لکھا تھا کہ عالمی طاقت پاکستان کو اسلحہ دینے سے گریز کرے۔ طالبان نہیں، وہ بھارت کے خلاف استعمال ہو گا۔ مغربی ممالک پاکستان میں موجود اس کے بھائی بندوںکو ایک سو ارب روپے سالانہ عطا کرتے ہیں۔ این جی اوز کو، جن کے بجٹ کا ایک حصہ فلاحی سرگرمیوں اور ایک خود منتظمین پہ صرف ہوتا ہے... پچاس فیصد تک!
چند ماہ قبل اس ناچیز نے لکھا کہ لاہور کی چار این جی اوز کو امسال اربوں روپے زاید ملے۔ کیا یہ تعجب خیز بات نہیں کہ کسی سرکاری ادارے نے رابطہ کرنے کی ضرورت تک محسوس نہ کی۔ باور کیا جاتا ہے کہ ان میں سے چند این جی اوز مغرب کے لیے جاسوسی کرتی ہیں۔ کیا یہ بات وزیرِ اعظم کے علم میں ہے؟ کیا عمران خان اور زرداری صاحب جانتے ہیں؟ کیا اپنے پارٹی اجلاسوں میں، انہوں نے کبھی اس مسئلے پر غور کرنے کی زحمت گوارا کی؟ بالکل برعکس، مشکوک لوگوںمیں سے چند خود ان جماعتوں میں موجود ہیں۔ ''را‘‘ کی پھیلائی ہوئی کسی بھی افواہ کو فروغ دینے میں انہیں ہرگز کوئی تامل نہیں ہوتا۔ خاص طور پر وہ اخبار نویس اور دانشور، جو خود این جی اوز چلاتے ہیں۔ صحافت اور این جی او؟
لاہوری اخبار نویس نے پاک اسرائیل فرینڈشپ ایسو سی ایشن بنانے کا خواب کیوں دیکھا؟ اس لیے کہ پاکستان میں قومی مفادات سے انحراف کی کوئی سزا نہیں۔ اگر میں صحیح سمجھ سکا تو کور کمانڈر کانفرنس کا پیغام یہ ہے کہ وقت بدلنے والا ہے۔ فیشن یہ ہے کہ پاکستان کو مغرب کے نقطہء نظر سے دیکھا جائے، مغرب کو پاکستان کے نقطہء نظر سے نہیں۔ ہر زمانے میں بہت سے لوگ فیشن کی طرف مائل ہوا کرتے ہیں اور سوچے سمجھے بغیر۔ عربی کا محاورہ یہ ہے: العوام کالانعام۔ عام لوگ جانوروں کی طرح ہوتے ہیں۔ حبِ وطن کا جذبہ اگر بہت طاقتور نہ ہوتا تو معلوم نہیں، یہ لوگ کیا کرتے۔
ذکر اختلاف کا نہیں۔ اختلاف ایک نعمت ہے۔ آزادی کے بغیر کوئی معاشرہ پنپ نہیں سکتا۔ جبر دولے شاہ کے چوہے پیدا کرتا ہے۔ پروردگار نے زندگی کو تنوع میں پیدا کیا۔ اسی میں وہ ثمر بار ہوتی ہے۔ اللہ کے آخری رسولؐ کا فرمان یہ ہے: میری امت کا اختلاف ایک رحمت ہے۔
فرمایا: اعما ل کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔ حسنِ نیت سے کیا گیا شدید ترین اختلاف بھی آخری تجزیے میں مفید اور مثبت ہو گا۔ "Let a thousand flowers bloom" چینی مفکر نے کہا تھا اور دوسرے کا قول یہ ہے: بادشاہ یا بھکاری، لکھنے والا اپنے مقام اور مرتبے کا تعین خود کرتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں