نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان 24ستمبرکواقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےخطاب کریں گے
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےورچوئل خطاب کریں گے
  • بریکنگ :- اجلاس کامحورافغانستان،ماحولیاتی تبدیلی اورکوروناوائرس ہوگا،منیراکرم
  • بریکنگ :- وزیراعظم مقبوضہ کشمیرکی سنگین صورتحال پربات کریں گے،پاکستانی مندوب
  • بریکنگ :- وزیراعظم افغانستان کےموجودہ حالات پربات کریں گے،منیراکرم
  • بریکنگ :- پاکستان مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کامعاملہ اٹھائے گا،منیراکرم
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

کارگل آپریشن‘ ایک عینی شاہد کا نقطۂ نظر

یہ اقتباسات، حال ہی میں شائع ہونے والی جنرل عبد المجید ملک کی خودنوشت ''ہم بھی وہاں موجود تھے‘‘، سے لیے گئے ہیں ۔
''عسکری نقطۂ نظر سے کارگل کی پہاڑیوں کی بہت اہمیت ہے۔ ان کی بلندی تقریباً 16000فٹ تک جاتی ہے ۔ اور یہ چوٹیاں اس لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہیں کہ ان پر سے اس بڑی سڑک کی کڑی نگرانی کی جا سکتی ہے ، جو بھارت کی سپلائی لائن ہے او رجو لدّاخ اور لیہہ کو سری نگر سے ملاتی ہے ۔ جو فوج بھی ان چوٹیوں پر قابض ہو ، وہ اس بڑی سڑک پر ٹریفک کو کسی وقت بھی بند کر سکتی ہے ۔ یہ چوٹیاں پہلے پاکستان کے قبضے میں تھیں مگر 1971ء کی لڑائی میں یہ بھارت کے قبضے میں چلی گئیں۔ یہ چوٹیاں چونکہ بہت بلند ہیں او رسردیوں میں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے بہت نیچے چلا جاتاہے‘ اس لیے بھارتی فوجی موسمِ سرما میں ان کو خالی کر جاتے ۔
1998-99ء میں بھی موسمِ سرما کے آغاز پر بھارت نے یہ چوٹیاں خالی کر دیں ۔ جی ایچ کیو میں یہ پلان تیار کیا گیا کہ ان چوٹیوں پر قبضہ کر لیا جائے ۔ اس پلان کے پسِ پردہ یہ فکر کارفرما تھی کہ جب پاکستانی فوج کارگل کی ان چوٹیوں پر قابض ہو جائے گی تو اس کے بعد بھارت پرکشمیر کے حل کے لیے دبائو ڈالا جا سکے گا ۔ اس ساری پلاننگ کے محرک چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف، جنرل محمود کمانڈر 10کور اور میجر جنرل جاوید حسن کمانڈر ناردرن ایریاز تھے۔ اس کے علاوہ جنرل محمد عزیز جو اس وقت چیف آف جنرل سٹاف تھے ا ور جنرل توقیر ضیاء جو ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن تھے ، وہ بھی اس منصوبہ سازی میں شریک تھے۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے جب ایکشن لیا گیا تو بقول آرمی ہائی کمان کشمیر کی آزادی کے لیے سرگرم مجاہدین نے ان چوٹیوں پر قبضہ کر لیا ۔ پاک آرمی نے اس آپریشن کو ''آپریشن بدر‘‘ کانام دیا۔ یہ واقعہ فروری 1999ء کا ہے ۔
بھارت کو کافی عرصہ تک اس قبضے کا علم نہ ہو سکا۔ یہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نا اہلی ثابت ہوئی ۔ برف پگھلی تو ان چوٹیوں کی جانب ایک سرحدی گڈریا اپنے مویشی لے کر آیا تو اس نے واپس جا کر بھارتی افواج کو اطلاع کی کہ ان چوٹیوں پر تو پاکستانی آن بیٹھے ہیں ۔ اس کے بعد بھارت نے وسیع پیمانے پر یہ واویلا کرنا شروع کر دیا کہ پاکستان نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمارے علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔ مارچ ،اپریل تک بین الاقوامی سطح پر پاکستان پر الزام عائد ہونا شروع ہو گیا ۔ اس سارے عرصے میں پاکستان کا موقف یہی تھا کہ کارگل کی چوٹیوں پر قبضہ کرنے والے دراصل کشمیری مجاہدین ہیں ۔
آخر کار ہندوستان نے کارگل پر بڑے پرزور انداز میں جوابی کارروائی کرنا شروع کر دی ۔ کارگل کی چوٹیوں تک رسائی کے لیے پاکستان اور ہندوستان دونوں میں صورتِ حال یکسر مختلف تھی ۔ ہندوستانی جانب پر تو پکی سڑکیں اور پل وغیرہ موجود تھے ، جہاں سے آرمی آپریشن کے لیے رسد پہنچانا اور ہندوستانی فوجی دستوں کے لیے نقل و حرکت کرنا آسان تھا مگر پاکستان کی طرف کارگل تک رسائی کے تمام راستے نہایت دشوار تھے ، کوئی پکی سڑک نہیں تھی اور اکثر راستوں پر فوجی رسد کی ترسیل صرف اور صرف خچروں اور گدھوں کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی تھی ۔
کارگل آپریشن کے بارے میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت میں مختلف آرا پائی جاتی تھیں ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف اور آرمی ہائی کمان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو اس سارے آپریشن سے باخبر رکھا اور مختلف اوقات میں بریفنگ دی مگر نواز شریف کا کہنا ہے کہ کارگل کے بارے میں 17مئی 1999ء کو جس دن پہلی بریفنگ ہوئی ، ان کو اس بارے میں اس دن معلوم ہوا۔
پاکستان کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اس عرصے میں 12ڈویژن کی کمان کر رہے تھے ، جس کی ذمہ داری کشمیر کا دفاع ہے ۔ 12ڈویژن کی آپریشنل بائونڈری اور شمالی علاقہ جات (جہاں کارگل آپریشن کیا جا رہا تھا) کی بائونڈری آپس میں ایک دوسرے سے متصل تھیں ۔ اس لحاظ سے یہ بھی لازم تھا کہ 12ڈویژن کے کمانڈر کو اس آپریشن کی پیشگی اطلاع دی جاتی تاکہ کشمیر فرنٹ پر اگر کسی اور جگہ ہندوستانی افواج کی دخل اندازی ہوتی تو اس کے دفاع کے لیے یہ پوری طرح تیار ہوتے مگر جی او سی 12ڈویژن کو بھی اس آپریشن کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی ۔ میرے علم میں ہے کہ بعد میں جب اشفاق پرویز کیانی کوکارگل آپریشن کی اطلاع ملی تو وہ اس کے پوری طرح مخالف تھے ۔
میرے خیال میں حقیقت یہ ہے کہ چونکہ لائن آف کنٹرول شملہ معاہدے کے تحت ایک قسم کی بین الاقوامی حد بندی لائن ہے ؛لہٰذا لائن کو کراس کرنا جنگ کی صورتِ حال پیدا کرنے کے مترادف تھا ۔ اس لائن کو کراس کرنے کے لیے جنرل پرویز مشرف کے لیے لازم تھا کہ وہ کابینہ سے منظوری لیتے مگر چونکہ انہوںنے ایسا نہیں کیا اس لیے اس واقعے کی تمام تر ذمہ د اری بھی ان پر ہی عائد ہوتی ہے ۔
اپریل اور مئی 1999ء میں جب حالات کافی سنگین ہو گئے تو آرمی کمان نے فیصلہ کیا کہ حکومت کو باقاعدہ طریقے سے ساری پوزیشن کے بارے میں بریفنگ دی جائے ۔ 17مئی کو آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر میں میٹنگ ہوئی ، جس میں فوج کی طرف سے جنرل پرویز مشرف، جنرل محمود، جنرل عزیز ،جنرل جاوید حسن، جنرل توقیر ضیاء اور بریگیڈئیر (اب جنرل) ندیم شامل تھے ۔ حکومت کی طرف سے وزیرِ اعظم نواز شریف اس میٹنگ کی صدارت کر رہے تھے ۔ ان کے ساتھ سرتاج عزیز(وزیرِ خارجہ ) ، سیکرٹری ڈیفنس جنرل افتخار علی خان (چوہدری نثار علی خان کے بھائی ) شامل تھے اور میں بھی بحیثیت وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر موجود تھا۔ وزارتِ خارجہ کی طرف سے شمشاد احمد سیکرٹری اور مسٹر فاطمی ایڈیشنل سیکرٹری بھی موجود تھے ۔ راجہ ظفر الحق اور چوہدری شجاعت اگرچہ اس میٹنگ میں قدرے تاخیرسے شامل ہوئے؛ تاہم وہ بھی اس ساری بحث میں موجود تھے ۔
اس سارے علاقے کے نقشے لگا کر پاکستانی فوجی دستوں اور چوکیوں کی پوزیشنیں واضح کی گئیں ۔ کارگل کے نقشے سے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن نے پہلے بریفنگ دی اور پھر اسی بریفنگ میں کور کمانڈر جنرل محمود بھی شامل ہو گئے ۔ جب وزرا کی طرف سے اپنی رائے دینے کا وقت آیا تو سب سے پہلے سرتاج عزیز نے اپنے انداز میں اس آپریشن کی مخالفت کی اور کہا کہ سفارتی سطح پر وزارتِ خاجہ کے لیے اس آپریشن کا دفاع ناممکن ہوگا۔ لیفٹیننٹ جنرل افتخار علی خاں نے کہاکہ خدانخواستہ اگر یہ جنگ اور پھیل گئی تو ہمارے پاس اس طرح کے فوجی وسائل نہیں کہ ہم اس جنگ کے متحمل ہو سکیں ۔
جب میری باری آئی تو میں نے فوج کے سینئر افسران سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں نے 1971ء کی لڑائی میں 11ڈویژن کی کمان کی اور اس کے بعد 12ڈویژن کی کمان بھی کی، جس کے دوران لیپا ویلی آپریشن ہوا۔ میں ڈائریکٹر ملٹری آپریشن اور چیف آف جنرل سٹاف رہا ہوں اور اس علاقے سے اچھی طرح واقف ہو ں ۔ اب جب کہ میرے پاس امورِ کشمیر کی وزارت ہے ، جس میں کارگل سمیت سارا ناردرن ایریا شامل ہے ۔ا س لیے میں اس علاقے ، اس آپریشن اور اس کے اثرات کو سمجھتاہوں ۔ میں نے کہا کہ یہ آپریشن پاکستان کے لیے دیر پا فوائد کا حامل نہیں بلکہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔
میری اس بات پر جنرل مشرف نے خود اپنی سٹک لے کر بڑے پرجوش انداز سے نقشے پر اپنی پوزیشنیں مضبوط ہونے کے بارے میں بریفنگ دینا شروع کر دی۔ میں نے ہندوستانی سائیڈ پر مضبوط لائن آف کمیو نی کیشن کا تذکرہ بھی کیا اور کہاکہ ہندوستان توپخانے کو اکٹھا کر کے اور ائیر فورس کے ذریعے آپ کو اڑا سکتاہے اور بعد میں درپیش آنے والے حالات نے یہ ثابت کر دیا کہ میری پیش گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی‘‘۔
(جاری)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں