نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی اتحادیوں سےملاقات
  • بریکنگ :- صوبائی وزراطارق مگسی،ضیالانگواورسلیم کھوسہ موجود
  • بریکنگ :- کوئٹہ:ملاقات میں رکن اسمبلی مسعودلونی،گہرام بگٹی بھی موجود
  • بریکنگ :- سینیٹرسرفرازبگٹی،دنیش کمار،رکن قومی اسمبلی اسرارترین بھی موجود
  • بریکنگ :- کوئٹہ:ملاقات میں موجودہ صوبائی سیاسی صورتحال پرمشاورت
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

خوش آمدید‘ ریحام خان

چودہ سو برس ہوتے ہیں‘ اللہ کے آخری رسولؐ نے مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیا تھا۔ خطبہ حجۃ الوداع میں آپؐ نے ارشاد کیا تھا: عربی کو عجمی پر اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں‘ مگر تقویٰ سے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے۔ 
ایک سے ایک عجیب مخلوق اس میدان میں ہے۔ محترمہ ریحام خان کے سیاست میں حصہ لینے پر کسی کو کیا اعتراض؟ یہ بات البتہ سمجھ میں نہ آ سکی کہ اس قدر تمہید اور تکلف کی ضرورت کیا تھی؟ بار بار عمران خان اعلان کرتے رہے کہ خاندانی سیاست کے وہ سخت خلاف ہیں۔ ایک معاشرہ اپنے مزاج اور روایات سے باآسانی نجات نہیںپا سکتا۔ عادات سے انحراف سہل نہیں ہوتا۔ غلبے کی آرزو بہت طاقتور انسانی جبلت ہے۔ بنی آدم کی روح میں‘ اقتدار کی تمنا ایسی شدید ہے کہ جلیل القدر صوفیا کے سوا کم ہی کوئی اس پر قابو پا سکا۔ اب اندازہ اور ادراک ہوتا ہے کہ خان صاحب جب موروثی اندازِ سیاست پر برہم ہوتے تو اس کا بنیادی مقصد اپنے حریفوں کا تضاد آشکار کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اخلاقی اور علمی اصول نہیں‘ بجائے خود ایک سیاسی حربہ ہی واقع ہوا تھا۔ 
شادی کے بعد پہلی بار کپتان نے تفصیل کے ساتھ بات کی تو اپنی رائے عرض کردی تھی۔ دھرنا تو رہا ایک طرف‘ وزیراعظم کی برطرفی تو الگ۔ اوّل دن سے یہ ناچیز ایجی ٹیشن کے خلاف تھا۔ بار بار گزارش کی اور اب بھی اس پر قائم ہوں کہ تحریک انصاف کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی تنظیم ہے۔ اوّل اوّل یہ محض اس آدمی کا فین کلب تھا‘ ایک یورپی ادارے کے مطابق‘ جو دنیا کی چار سب سے زیادہ پرکشش شخصیات میں سے ایک ہے۔ حفیظ اللہ خان نے ایک بار ہنستے ہوئے مجھے بتایا کہ انگلینڈ میں ہونے والے ایک سروے میں خان سب سے زیادہ خوش پوش شخصیات میں شامل 
ہے۔ خوش پوش؟ پرلے درجے کا وہ لاپرواہ تھا‘ تاآنکہ دوستوں نے احساس دلایا‘ تاآنکہ ریحام خان اس کی زندگی میں داخل ہوئیں۔ اس کی پشاوری چپل پرانی ہو جاتی اور ایڑی کے دھاگے لٹک رہے ہوتے۔ کوٹ کندھے سے ادھڑا ہوا نظر آتا۔ میرے ڈرائیور منظور حسین سے اس کی گاڑھی چھنتی تھی۔ کرکٹ سے اس کا شغف غیرمعمولی تھا اور وہ خان سے سوال پر سوال کیا کرتا۔ خان کے سامنے کبھی کبھار میں اس سے پوچھتا: تمہارا لباس اچھا ہے یا خان کا؟ شرما کر وہ جواب دیتا۔ میرا ہی اچھا ہے۔ 
جمائما خان سے علیحدگی کے بعد بار بار میں نے اس پر زور دیا کہ وہ شادی کر لے۔ ایک جمی جڑی اور مرتب زندگی اس کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ ایک دن وہ چڑ گیا اور بولا: جس کے تم ایسے دوست ہوں‘ دشمن کی اسے کوئی ضرورت نہیں۔ مدتوں بعد آزادی مجھے ملی ہے۔ مجبوراً میں نے چپ سادھ لی۔ جوانی کی عادات اگر راسخ ہو جائیں تو وہ بلّی کی طرح ہوتی ہیں‘ جو اچانک حملہ کرے۔ ایک عشرے کے بعد چہار طرف پھیلتے افسانوں میں آخر کار اس نے موزوں فیصلہ کیا۔ 
سرما کی اس شام‘ آتش دان کے سامنے جب وہ کہانی کہہ چکا۔ دھرنوں کی اور شادی کی داستان‘ تو میں نے اس سے یہ کہا: ایک بات بالکل واضح ہے۔ خاتون غیرمعمولی ذہنی اور جسمانی توانائی کی حامل ہیں۔ نچلّا بیٹھ رہنا اس کے لیے مشکل ہوگا۔ عمران خان فائونڈیشن‘ نمل یونیورسٹی یا کوئی اور منصوبہ‘ انتخاب خود اسی کو کرنا چاہیے۔ دو تین دن کے بعد اس نے اطلاع دی کہ اس تبصرے پر وہ شاد ہے۔ شاد یا ناشاد ہونے کا نہیں‘ سوال انتخاب کا تھا۔ ترجیحات کے تعین کا۔ 
اظہار ذات کی تمنا بہت بے چین کرتی ہے۔ سیاست میں اب وہ آ چکیں اور مہین سا جو پردہ حائل ہے بہت دن وہ حائل نہ رہے گا۔ ہری پور کے جلسۂ عام میں یہ اعلان ''ایک تحفہ تم ہمیں دو گے اور جواب میں ایک ہم‘‘ بالکل واضح مفہوم رکھتا ہے۔ اس پر یہ ارشاد: خان نے تمہاری خدمت میں اگر کوتاہی کی تو گھر میں اسے مزاحمت کا سامنا کرنا ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ میں سیاست کے میدان میں‘ کبھی نہ واپس جانے کے لیے آئی ہوں۔ پوری طرح پُراعتماد ہوں کہ اپنے شوہر پر میں اثرانداز ہو سکتی ہوں۔ ہر وہ بات اس سے منوا سکتی ہوں جو منوانی چاہیے۔ ایک اور پیغام بھی اس میں پوشیدہ ہے: دوسروں سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں۔ کپتان سے کسی کو بات کرنی ہو تو مجھ سے کر لیا کرے۔ ہری پور کی انتخابی مہم میں شرکت‘ ایک مستقل پالیسی کا اظہار ہے۔ بالکل واضح ہے کہ چیئرمین کے بعد اب وہ پارٹی کی سب سے زیادہ اہم شخصیت ہیں۔ جہانگیر ترین‘ شاہ محمود اور پرویز خٹک سے کہیں زیادہ۔ تحریک انصاف شعبہ خواتین کی سربراہ کوئی بھی ہو حکم اب ریحام خان کا چلے گا۔ (ویسے کون ہے؟) 
عمران خان ایک بہت آرزو مند (Ambitious) آدمی ہیں‘ ریحام خان ان سے بھی زیادہ۔ مشکلات اور مصائب سے وہ گزری ہیں۔ کم سنی کی شادی اور علیحدگی۔ دیارِ غیر میں ڈھنگ سے بچوں کی پرورش۔ سپر ڈال دینے کی بجائے‘ مقابلہ کرنے کا عزم۔ مشکلات کی ایسی مسافت‘ اعتماد میں اضافہ کرتی ہے۔ صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور زمانے کی اونچ نیچ کا ادراک بھی۔ مردم شناسی بھی‘ معاملہ فہمی بھی۔ یقینی طور پر سیاست کو وہ اپنے شوہر سے زیادہ سمجھتی ہیں‘ جو یک رخے آدمی ہیں اور ہر ایک پہ اعتبار کر لیتے ہیں۔ اس اخبار نویس پر بھی‘ شریف خاندان نے جسے آنجناب کی نگرانی کا فرض سونپا ہے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ کپتان کا مزاج سیاست سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مشیروں کے انتخاب میں ہر بار اس نے حماقت کا مظاہرہ کیا۔ ریحام خان کا معاملہ مختلف ہے۔ آسانی سے وہ دھوکہ کھانے والی نہیں۔ اظہار کریں یا نہ کریں‘ اپنے عزائم کے بارے میں ذاتی طور پر وہ بالکل واضح ہیں۔ جن لوگوں کا خیال یہ ہے کہ خاتون اوّل بن جانا محترمہ کی منزل ہے‘ وہ ان کے خواب کو سمجھ نہیں سکے۔ اس سے کہیں زیادہ اور کہیں آگے۔ عمران اگر وزیراعظم بن گئے تو پارٹی ریحام خان کے ہاتھ میں ہوگی۔ سوچ سمجھ کر ہاتھ ڈالنے والی شخصیت وہ رکھتی ہیں اور تھام لیں تو گرفت ڈھیلی کرنے کا سوال ہی نہیں۔ بادشاہ کو مصاحب نے تمباکو پیتے پایا تو یہ کہا تھا۔ 
حقہ جو ہے حضور معلّٰی کے ہاتھ میں 
گویا کہ کہکشاں ہے ثریا کے ہاتھ میں 
تکلّف کیا اور تامّل کیا۔ ڈٹ کر انہیں کہنا چاہیے کہ وہ سیاست میں حصہ لیں گی‘ مگر پارٹی کا عہدہ نہیں۔ اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں۔ فقط شعبہ خواتین کی سربراہی وہ کیوں سنبھالیں جب کہ ان کا کردار ہمہ گیر ہوگا۔ میرا مشاہدہ اگرچہ محدود ہے مگر میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک اچھی منتظم ہیں۔ عملی سیاست میں چند دن گزارنے کے بعد ہی وہ شاد اور پراعتماد ہیں۔ مسرت ان کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔ ہر آدمی کے اندر ایک بچہ ہمک رہا ہوتا ہے۔ اپنا کھلونا پا کر وہ خوش ہوتا ہے۔ ریحام خان کو ان کا کھلونا مل گیا بلکہ بہت سے کھلونے۔ عمران خان کی شریک حیات اور ہم سفر ہی نہیں‘ وارث بھی اب وہی ہیں۔ بہت تیزی سے شوہر کے دل و دماغ پر انہوں نے قبضہ کیا ہے اور اس کی وجوہات ہیں۔ وہ عرق ریزی سے منصوبہ بندی کرنے والی ہیں اور ہوش مند واقع ہوئی ہیں۔ ایک بھرے پرے خاندان سے ان کا تعلق ہے؛ چنانچہ اجتماعی زندگی کے تقاضوں کا کچھ شعور بھی۔ 
ایک بات کا البتہ صدمہ ہوا۔ اپنے پشتون پس منظر پہ محترمہ کو اصرار بہت ہے۔ نسلی تفاخر ایک تباہ کن چیز ہے۔ کوئی قوم اور قبیلہ بجائے خود اچھا ہوتا ہے اور نہ برا۔ کردار ایک شخصی چیز ہے۔ آخری تجزیے میں اچھے یا برے کردار کا تعین نسل اور خاندان سے نہیں ہوتا۔ یوں بھی لیڈر وہ شخص ہوتا ہے‘ جو کسی معاشرے کی تقسیم اور تعصبات سے بالا ہو۔ 
چودہ سو برس ہوتے ہیں‘ اللہ کے آخری رسولؐ نے مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیا تھا۔ خطبہ حجۃ الوداع میں آپؐ نے ارشاد کیا تھا: عربی کو عجمی پر اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں‘ مگر تقویٰ سے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں