نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اپوزیشن لیڈرکیخلاف منی لانڈرنگ سمیت متعددکیس چل رہےہیں،اعظم سواتی
  • بریکنگ :- چیف الیکشن کمشنرکےحوالےسےبہت سی باتیں صیغہ رازمیں ہیں،اعظم سواتی
  • بریکنگ :- آپ کاتقررکس طرح کیاگیاوہ رازپردےمیں ہیں،اعظم سواتی
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کوآزادادارہ بنائیں گے،وفاقی وزیراعظم سواتی
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کاپاس نہ ہوتاتوکبھی آپ کاتقررنہ کرتے،اعظم سواتی
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن اپوزیشن کی زبان بول رہاہے،وزیرریلوےاعظم سواتی
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

حمیّت بجا اور بالکل بجا۔ غیر ت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں مگر حضور حکمت بھی ایک چیز ہوتی ہے۔ 
دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی۔ لاہور کے المناک واقعہ کے بعد ممتاز قادری کے چہلم میں شریک شرکاء کو اوّل تو اسلام آباد سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ اگر نہیں تو مظاہرہ پر امن ہوتا۔ ایک مبارک جذبہ دور دراز سے انہیں لایا تھا ؎ 
فروغِ اسمِ محمدؐ ہو بستیوں میں منیرؔ
قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیدا ہو 
اس جذبے کے تقاضے بھلا دئیے گئے۔ سرکار ؐ کا قرینہ خیر خواہی اور انس و الفت کا قرینہ ہے ۔ جلائو گھیرائو اور توڑ پھوڑ کا کیا مطلب۔ بظاہر ایسا لگتاہے کہ اسلام آباد کا قصد ایک بے ساختہ ردّعمل کا مظہر تھا۔ لیڈروں نے راولپنڈی میں اجتماعِ عام کے بعد منتشر ہونے کا وعدہ کیا تھا۔ وعدے کی پاسداری لازم تھی ۔ قال اللہ اور قال الرسولؐ کا آموختہ پڑھنے والے علمائِ کرام کو یہ بات یاد رہنی چاہیے تھی ۔ کتاب میں لکھا ہے : اوفوا العہد ان العہد کان مسئولا۔ وعدہ پورا کیا کرو۔ وعدوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ملک دہشت گردی کا شکار۔ فرقہ پرستی پہلے ہی برپا تھی ۔ اللہ رحم کرے، اب وہ ایک نئی جہت اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ بریلوی مکتبِ فکر کی کوئی نمائندہ جماعت موجود ہے اور نہ کوئی ممتاز رہنما۔ اسی لیے مظاہرین آزاد پائے گئے۔
سیاست میں اب یہ شعار ہے کہ وعدہ کر لیا جائے اور پھر رسان سے انکار کر دیا جائے۔ دارالحکومت میں 15اگست 2014ء سے شروع ہونے والے دھرنے کے ہنگام ایم کیو ایم نے علامہ طاہر القادری اور جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق نے حکومت کوضمانت دی تھی کہ مظاہرین زیرو پوائنٹ سے آگے نہ بڑھیں گے ۔ اسی لیے انہیں شہر میں جانے دیا گیا۔ اس پیمان کی بازگشت باقی تھی کہ یہ لوگ رکاوٹیں ہٹا کر بلیو ایریا اور شاہراہِ دستور تک جا پہنچے۔ 
اس دھرنے کی حقیقی داستان ابھی نہیں لکھی گئی۔ یاد ہے کہ میں راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں داخل تھا۔ اپنے ذرائع سے میں نے ایک بنیادی سوال کیا: چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا اندازِ فکر کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ ملوث نہیں مگر کچھ اہم لوگ سازش میں شریک ہیں تو معاملہ آشکار ہوگیا۔ یہ بیک وقت وزیرِ اعظم نواز شریف کو معزول کرنے اور پاکستانی فوج کو نقصان پہنچانے کی کوشش تھی۔ حکومت خطا کار تھی۔ دھاندلی کے الزامات سے نمٹنے کے لیے اخلاقی اور قانونی اعتبار سے کوئی موزوں اور معقول راستہ اس نے اختیار نہ کیا تھا۔ پیپلزپارٹی اور نون لیگ انتخابی دھاندلی میں ملوث تھیں؛ اگرچہ اس بڑے پیمانے پر نہیں، عمران خان کو جس کا اب بھی یقین ہے۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل مگر ان کی ساز باز سے ہوئی۔ ایاز صادق تب جیتے تھے نہ اب جیتے ہیں۔ کراچی میں ایم کیو ایم نے انتخابی نظام کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی تھیں۔ بلوچستان اور دیہی سندھ میں شکایات زیادہ تھیں۔ پختونخوا میں کم کہ کوئی فریق کمزور نہ تھا۔ پنجاب میں نون لیگ نے بعض حربے آزمائے۔ اس کے باوجود حقیقت یہ تھی کہ دھاندلی اگر نہ ہوتی تو تب بھی عمران خان کی حکومت کسی طرح نہ بن سکتی۔ گیارہ ماہ پارٹی الیکشن میں انہوں نے ضائع کیے۔ ٹکٹیں میرٹ پر نہ دی گئیں بلکہ خرید و فروخت تک ہوئی۔ اکثر پولنگ سٹیشنوں پر 
ان کے ایجنٹ موجود نہ تھے۔ جیتنے والے امیدواروں کی تلاش ان کی ترجیح نہ تھی؛ اگرچہ ہر طرح کے لوگوں کو قبول کر لیا گیا۔ آخری دنوں میں شریف خاندان نے ہر اس امیدوار کو ٹکٹ دے دیا جو ظفر مند ہو سکتا۔ بعض میڈیا گروپوں سے مدد لی گئی۔ بروقت سروے کرائے گئے۔ الیکشن کمیشن نے فوج کو عملاً دھاندلی روکنے کی اجازت نہ دی تو اس کی قیادت لا تعلق ہو گئی وگرنہ قاف لیگ پانچ سات اور تحریکِ انصاف مزید دس پندرہ سیٹیں جیت لیتی۔ اس پسِ منظر میں انتخابی عمل کی تحقیقات کا مطالبہ جائز تھا مگر بزور حکومت کو گرانے کا جواز نہیں۔قومی سلامتی کے لیے خطرات بڑھ جاتے۔ سینیٹر سراج الحق کو اس کا ادراک تھا؛ چنانچہ دھرنے میں وہ شامل نہ ہوئے۔ رحمٰن ملک ایسے آدمی سے مل کر ثالث ہو گئے۔ قومی سلامتی کے تقاضوں کی مگر انہیں پروا نہ تھی۔ ایم کیو ایم سے تو خیر کیا توقع تھی، عمران خان نے وعدہ توڑا تو اپنا فرض سراج الحق نے پورا نہ کیا۔
اسلام آباد کے موجودہ دھرنے میں ایک مذہبی مکتبِ فکر کے جذباتی رہنمائوں سے کیا شکایت۔ ان میں سے ایک کی چند دن پہلے کی تقریر سوشل میڈیا پر سنی جا سکتی ہے، جس میں ہر اس شخص کو غلیظ گالیاں انہوں نے دی ہیں ، جس سے وہ بدگمان ہیں ۔ سوشل میڈیا میں فرقہ ورانہ شدّتِ اظہار کے ساتھ ایک تکلیف دہ بحث جاری ہے۔ میڈیا کو دجالی اور بے غیر ت قرار دیا جا رہا ہے اور ان کو بھی جو خاموش ہیں۔ ملحدوں کے سوا کون ہے جو رحمۃ للعالمینؐ سے محبت نہیں کرتا۔ ہماری جان ان کے نام پر قربان ہو تو اس سے بڑی سعادت کیا ہے۔ ہم محتاط ہیں، لا تعلق نہیں۔ لا تعلق کوئی صاحبِ ایمان کیسے ہو سکتاہے، خواہ کتنا ہی بے عمل ہو۔ احتیاط کا ایک سبب ہے: قرآنِ کریم یہ قرار دیتاہے کہ فساد اور فتنہ قتل سے بڑے گنا ہ ہیں۔ عدالت اورشریف حکومت نے ممتاز قادری کی پھانسی کا فیصلہ کرتے ہوئے عوامی جذبات کو ملحوظ نہ رکھا۔ عدالت کہہ سکتی ہے کہ جذبات سے اسے کیا واسطہ۔ شریف حکومت مگر مقتول کے خاندان سے مصالحت کر اسکتی تھی۔ پھانسی کو عمر قید میں بدل سکتی تھی۔ شکوہ یہیں تک بجا ہے مگر ہنگامہ آرائی؟ اوراس وقت جب بھارت پاکستان کے درپے ہے۔ اس حال میں درپے ہے کہ اقتصادی راہداری کے پسِ منظر میں امریکہ، یورپی یونین اور افغانستان کی خاموش تائید بھی انہیں حاصل ہے۔ ایران نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور بعض دوسرے دوست ممالک نے بھی۔ 
ایرانی صدر حسن روحانی سے پوچھا گیا تھا کہ کیا کل بھوشن یادیو کے بارے میں بات ہوئی؟ اس کے بارے میں واقعی نہ ہوئی تھی مگر ''را‘‘ کے بارے میں۔ سپہ سالار نے صاف صاف کہا تھا کہ ایران کی سر زمین پاکستان کے خلاف برتی جا رہی ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔ منتخب سول حکومت اس پر خاموش 
ہے۔ اور بھی زیادہ تعجب کہ میڈیا بھی اس پر بات نہیں کرتا۔ ضربِ عضب کی طرح ، پنجاب میں پیر کے دن سے فوجی کارروائی اس حال میں شروع ہوئی کہ سول حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ خلقِ خدا اس پر شاد ہے، حکومت نے مجبوری ہی میں تائید کا فیصلہ کیا۔ فوج کو شکایت رہی کہ سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اپیکس کمیٹی کی روداد عام ہو جاتی۔ بعض اضلاع میں اقدام کا فیصلہ ہوا تو رانا ثناء اللہ نے طشت ازبام کر دیا۔ گزشتہ ماہ آئی جی پنجاب اور سیکرٹری داخلہ پنجاب کو جی ایچ کیو طلب کر کے احتجاج کیا گیا۔ سول ادارے ناکام ہو چکے اور وزیرِ اعظم کو حالات کی سنگینی کا ادراک نہیں۔''را‘‘ کے افسر کی گرفتاری پر نون لیگ کے وزیرِ اعظم ، وزرائِ اعلیٰ اور وزرائِ کرام خاموش ہیں۔ 
سرتا پا ہم ایک جذباتی قوم ہیں۔ جب زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، اسی وقت زیادہ غیر محتاط ہوتے ہیں۔ مشرقی پاکستان اسی طرح الگ ہو ا تھا۔ اپنے نظریات کو شائستگی سے پیش کرنے اور حکمت کے ساتھ انہیں فروغ دینے کی بجائے ہم حکومتیں اکھاڑ نے پر تل جاتے ہیں۔ اس وقت جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، حکومت نے دھرنے کو بزور ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت در حقیقت کیا چاہتی ہے۔ اس کا اندازہ کارروائی کے اندازسے ہو گا۔اللہ کرے کہ کوئی جان نہ جائے ۔ رہ رہ کر خیال آتاہے، ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہنگامہ آرائی سے خود ریاست اور قوم کو نقصان پہنچ سکتاہے۔ حمیّت بجا اور بالکل بجا۔ غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں مگر حضور حکمت بھی ایک چیز ہوتی ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں