نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- افغانستان میں امن کیلئےنئی حکومت کےساتھ تعاون کیاجائے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- درست اقدام کےباعث دہشتگردی سے پاک افغانستان کاحصول ممکن ہوگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ماضی کی غلطیوں کودہرایا تو تمام فریق متاثرہوں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کا امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں مضمون
  • بریکنگ :- دہشتگردی کےخلاف جنگ اپنی بقا کے لیےلڑے ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بہترین فوج اورانٹیلی جنس آلات سےدہشتگردی کو شکست دی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- افغان حکومتیں اپنے شہریوں کی نظروں میں مقام پیدا نہ کرسکیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- یہی وجہ تھی کوئی بھی ناکام افغان حکومت کیلئےلڑنےکوتیارنہیں تھا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کیا افغان فورسزکےہتھیارڈالنےپرپاکستان کوموردالزام ٹھہرایاجاسکتا ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- حقیقت تسلیم کرنےکےبجائےافغان اورمغربی حکومتوں نے پاکستان پر الزام لگایا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پاکستان پرالزام لگانےکیلئےبھارت سےمل کرجعلی خبریں چلاتے رہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- الزامات کےباوجود پاکستان نے سرحد کی مشترکہ نگرانی کی پیشکش کی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- محدود وسائل کےباوجودافغان سرحد پرباڑلگائی،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- الزام تراشی ترک کرکےافغانستان کےمستقبل کی جانب دیکھناچاہیئے،وزیراعظم
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

یا بے ایمانی تیڈا ای آسرا!

اللہ کی بارگاہ میں پاکستان کی فوجی اور سول قیادت اس سوال کا کیا جواب دے گی کہ اللہ اور رحمتہ اللعالمینؐ کے نام پر متشکّل ہونے والے ملک میں مناصب دشمن کے مخبروں کو کیوں سونپے گئے؟
برطانوی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل نکولس کو کیا سوجھی؟ کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا کام پاک فوج نے تمام کیا۔ پیپلز پارٹی والے بتایا کرتے ہیں کہ سوات میں امن انہوں نے قائم کیا۔ ایم ایم اے کی حکومت نے دہشت گردوں کو پانچ برس تک پالا پوسا۔ زرداری صاحب آئے تو قاتلوں کو نمٹا دیا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ان کی سپاہ؟ عسکری تاریخ میں کم ہوا ہو گا کہ اس قدر شورش زدہ خطے کو نوے دن میں دہشت گردی سے پاک کر دیا گیا۔ پوری کی پوری آبادی گھروں کو لوٹ گئی۔ 
نون لیگ کہتی ہے کہ بلوچستان، کراچی اور وزیرستان کا کھویا ہوا امن اس نے لوٹا دیا۔ مگر یہ سحر سے شام اور کبھی شام سے رات گئے تک جنگی محاذوں پر مصروفِ عمل جنرل راحیل شریف؟ وہ چھ ہزار بانکے جوان اور افسر، اپنا آج جنہوں نے ہمارے کل پہ قربان کر دیا؟ کیا فصیح زبان ہے، سرائیکی۔ کوئی دیہاتی پکار اٹھے گا ''یا بے ایمانی تیڈا ای آسرا‘‘
کراچی عروس البلاد ہے، روشنیوں کا شہر ہے۔ فیضؔ نے کہا تھا: 
خیر ہو تیری لیلائوں کی، ان سب سے کہہ دو 
آج کی شب جب دیے جلائیں، اونچی رکھیں لو 
اے روشنیوں کے شہر!
شاعر تو خیال و خواب ہی میں رزم آرا ہوتے ہیں۔ شہید وہ ہیں، جو اپنے لہو سے واقعی لکھ دیتے ہیں۔کبھی نہ مٹنے والی کہانیاں، گردشِ لیل و نہار میں جن کا اجالا کبھی مدھم نہیں ہوتا۔ سورج ڈوب جاتا ہے مگر شہید کا لہو کبھی غروب نہیں ہوتا۔ حسین بن منصور آج بھی ایک لہکتا ہوا استعارہ ہے۔ ؎ 
موسم آیا تو نخلِ دار پہ میرؔ
سرِ منصور ہی کا بار آیا
پرسوں پرلے روز عرض کیا تھا کہ جو پنڈورا باکس بے باک مصطفی کمال نے کھول دیا ہے، اب وہ کبھی بند نہ ہو گا۔ عشرت العباد پہ ہر ایک کو حیرت تھی۔ چودہ سال سے براجمان ہے۔ جنرل پرویز مشرف بیت گئے۔ آصف علی زرداری گزر گئے۔ نواز شریف بیت جانے کو آئے ہیں۔ مگر زمیں جنبد‘ نہ جنبد گل محمد۔ راز کیا ہے؟ یا بے ایمانی تیڈا ہی آسرا؟
پھر اسی درویش حکمران ابرہام لنکن کی کہنہ و قدیم مگر آج بھی تازگی بھری آواز ہم سنتے ہیں: سب لوگوں کو کچھ دن کے لیے آپ بے وقوف بنا سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو ہمیشہ کے لیے۔ مگر سب کے سب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے احمق نہیں بنایا جا سکتا۔ 
دور دیس سے ایک مسافر صوفی کی زیارت کو آیا۔ حیران ہوا کہ خلق جس پہ ٹوٹی پڑتی ہے، چٹائی پر وہ آسودہ ہے۔ سوال کیا: آپ کا فرنیچر کہاں ہے؟ فقیر نے پوچھا: آپ کا کہاں ہے؟ بولا: میں تو مسافر ہوں۔ صوفی نے کہا: میں بھی مسافر ہوں۔ 
سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ پر خارجی نے خنجر کا وار کیا تو پکار کر آپ ؓ نے کہا ''فزت برب الکعبہ‘‘ ''رب کعبہ کی قسم، میں کامیاب ہو گیا‘‘۔ مسافرت تمام ہوئی اور منزل آ پہنچی۔ 
مفکرینِ کرام سمجھ نہیں پاتے۔ اس پر کیا تعجب مگر علمائِ کرام بھی سمجھ نہیں پاتے۔ عباسی عہد کے اوّلین دور میں چالیس شیوخ نے فتویٰ دیا تھا کہ حکمران کچھ بھی کر گزرے مواخذہ اس سے نہیں ہو گا۔ اِس دنیا نہ اُس دنیا میں۔ مورخین اور علمائِ حق نے انہیں بدمعاش مولوی کہا۔ نون لیگ کے میڈیا سیل کا منتخب کردہ ایک دانشور لاہور کے اخبار نویسوں کو مطلع کیا کرتا ہے کہ اللہ کا دراصل کوئی وجود نہیں۔ کبھی کسی نے اس سے یہ نہ پوچھا کہ یہ چاند ستارے، یہ پانی اور ہوا، یہ کروڑوں مخلوقات اور یہ اربوں نازک توازن، حیات جن پر قائم ہے، کس نے تخلیق کیے ہیں؟ خیر یہ تو وہ آزاد معاشرہ ہے، جس کے ایک ممتاز جریدے میں مضمون چھپا ''کیا حضرت عیسیٰؑ حقیقی کردار ہیں؟ اس کے مدیر کو میاں صاحب نے وزیرِ اعلیٰ بنا دیا۔ اخبار میں لکھا گیا: آغازِ کار ہی سے مسلمان علم دشمن ہیں۔ حضرت عمر فاروقِ اعظمؓ کے عہد میں سکندریہ کی لائبریری نذرِ آتش کر دی گئی تھی۔ جی ہاں! امن ہمیں زرداری صاحب نے بخشا ہے اور میاں محمد نواز شریف نے۔ بدامنی ان کی پیدا کردہ ہے، ہر روز، ہر شب جو کراچی، کوئٹہ، قبائلی پٹی کے خاک زاروں اور پھر سیاچن کے برف زار پر سرخ لہو سے اپنی شہادت رقم کرتے ہیں... یا بے ایمانی تیڈا ای آسرا!
جنرل پرویز مشرف کی سیاست اللہ کو پیاری ہوئی۔ اب وہ اس ٹی وی میزبان کا توشہ ہیں، جسے ڈھنگ کا کوئی موضوع نہ سوجھے‘ڈھنگ کے چار مہمان نہ مل سکیں۔ شیخ رشید کی طرح، جن کے گالی گلوچ پہ کبھی عمران خان آزردہ ہوتے اور آخر کو جن کی رفاقت پہ رویا کریں گے۔ دھیرے دھیرے، رفتہ رفتہ، بتدریج زرداری صاحب تاریخ کے کوڑے دان کا رزق ہو رہے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف کے کچھ دن باقی ہیں۔ چند ماہ نہ سہی، چند برس میں آخر وہ بھی اپنے ہم نفس سے جا ملیں گے۔ 
سرکارؐ نے ارشار کیا تھا اور اپنی آنکھوں سے ہم سب نے دیکھ لیا کہ لالچی کے پیٹ کو صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے۔ فرمایا: جوں جوں عمر بڑھتی ہے، ابنِ آدم میں زندگی اور زر کی ہوس بڑھتی ہے۔ فرمایا: سونے کی ایک وادی اگر ابنِ آدم کو مہیا ہو تو دوسری کی آرزو پالے گا۔ 
میاں محمد شہباز شریف اور ان کے قائد میاں محمد نواز شریف مدظلہ العالی نے ایک دھیلے کی کبھی کرپشن نہیں کی‘ اور حمزہ شہباز تو زاہدِ شب زندہ دار ہیں۔ کر ہی نہیں سکتے۔ گواہی کے لیے وہ دانشور موجود ہے، جو ثابت کر سکتا ہے کہ یہ زمین و آسمان، یہ سب باغ، یہ بہار، یہ جھرنے اور ندیاں، یہ دریا اور سمندر، حد نظر تک کھیتوں کی یہ ہریالی، کرّہء خاک سے سورج کا یہ فاصلہ اور سورج میں ہر آن ہوتے ہزاروں ایٹمی دھماکوں کا نظام پروردگار نے منظم و مرتّب نہیں کیا بلکہ اس کے فکری آبائواجداد نے۔ 
علّامہ صدیق اظہر مجھ سے ناخوش ہیں۔ میری ایک کوتاہی کے سبب۔ خیر انہیں میں منا لوں گا۔ یاد ایک سبب سے آئے۔ فلیٹیز ہوٹل لاہور کے گھومتے دروازے پر نواب زادہ نصراللہ خاں مرحوم سے آمنا سامنا ہوا۔ چھوٹتے ہی علّامہ صاحب بولے: آپ جانتے ہیں، نیاز فتح پوری غالبؔ کو مانتے نہیں تھے! طالبِ علم کو عجیب لگا کہ سرِ راہ اس طرح کی بحث کا آغاز ہو۔ عرض کیا: چھوڑیے صاحب، ایسے بھی ہیں، اللہ کو جو نہیں مانتے۔ نواب صاحب کا بے ساختہ وہ قہقہہ۔
احسان دانش، اس منفرد شاعر نے کہا تھا۔ ؎
آجائو گے حالات کی زد پہ جو کسی دن 
ہو جائے گا معلوم خدا ہے کہ نہیں ہے 
مانتے تو پہلے بھی تھے۔ اپنے مالک پہ ایمان اب کچھ اور گہرا ہوا۔ ہاتھ پائوں بول رہے ہیں۔ اپنے ہی خلاف بندے گواہی د ے رہے ہیں۔ اپنی فردِ جرم الطاف حسین نے خود پڑھی، اب عشرت العباد نے۔ میرے بھائی کامران خان، قہقہے نہیں بر سا رہے، الطا ف حسین رو رہے ہیں، دانت پیستے ہیں، عبرت کا نشان ہو گئے... ابھی کچھ سوا ہوں گے۔ تخلیق پاکستان میں زیادہ اہم کردار ادا کرنے والے مہاجروں کی جان کرخنداریوں سے چھوٹے گی۔ انشاء اللہ انہیں معزز لیڈر عطا ہوں گے۔
سوال وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف سے ہے۔ سوال جناب آصف علی زرداری اور جناب جنرل راحیل شریف سے۔ کیسے بھی ہیں، ناقص یا اجلے، اللہ پر تو آپ کا ایمان ہے نا؟ اس پر کہ ایک دن اسے حساب دینا ہے؟ اللہ کو آپ کیا جواب دیں گے کہ رحمتہ اللعالمینؐ کی دعا جس دیار کے مقدر میں لکھی گئی، آپ نے اس کے جلیل القدر مناصب دشمن کے مخبروں کو سونپ دیے؟
پسِ تحریر: جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ نون لیگ کی مسلسل مہم کے بعد نجم سیٹھی اور عشرت العباد تک نے گواہی دے دی کہ پاک سرزمین پارٹی کا اسٹیبلشمنٹ سے ہرگز ہرگز کوئی تعلق نہیں۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں