نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان آج رات جنرل اسمبلی سےورچوئل خطاب کریں گے
  • بریکنگ :- وزیراعظم افغانستان اورمسئلہ کشمیرپربات کریں گے
  • بریکنگ :- وزیراعظم افغانستان سےمتعلق پاکستانی پالیسی واضح کریں گے
  • بریکنگ :- مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کامعاملہ اٹھائیں گے
  • بریکنگ :- وزیراعظم کوروناکےخلاف پاکستانی اقدامات سےبھی آگاہ کریں گے
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

مگر خائن ہی کیوں؟

ایسے لوگ بھی ہو گزرے ہیں کہ اب بھی ان کی یاد سے چراغ جل اٹھتے ہیں۔ ویسے نہ سہی‘ ویسے نہ سہی‘ ہمارے مقدّر میں مگر خائن ہی کیوں؟... بجا کہ قحط الرجّال ہے‘ مگر ایسا بھی کیا قحط الرجّال؟
نامور تابعی‘ سلمہ بن دینارؒ بیان کرتے ہیں: دروازے پر ہی مل گئے مگر میں انہیں پہچان نہ سکا۔ انہوں نے پہچانا اور کہا ''آئیے ابو حازم‘‘۔ میں نے پوچھا: کیا آپ عمر بن عبدالعزیزؓ ہیں؟ کہا: بے شک میں ہی عمر ہوں۔ عرض کیا: آپ کو کیا ہوا‘ آپ کا چہرہ بشرہ‘ ہمیشہ چمکتا دمکتا ہوا کرتا۔ آپ کا جسم تو دبلا ہو گیا‘ آپ کی تو جلد سوکھ گئی ہے۔ عمرؓ رو پڑے اور کہا: اگر میرے مرنے کے تین دن بعد‘ قبر میں آپ مجھے دیکھیں۔ جب میری آنکھیں‘ رخساروں اور ابروئوں کی ہڈیوں کے اندر دھنس گئی ہوں گی۔ پھر بولے: ابو حازم‘ کیا وہ حدیث یاد ہے‘ جو مدینۃ النبی میں تم نے مجھے سنائی تھی۔ میں نے انہیں سنائی: ''میں نے ابو ہریرہؓ کو کہتے سنا ہے کہ: میں نے رسول اکرمؐ کو فرماتے سنا‘ ایک دشوار گزار گھاٹی تمہارے سامنے آئے گی۔ اسے وہی آدمی عبور کر سکے گا جس نے اپنے جسم کو دبلا کر رکھا ہو‘‘۔
عمرؓ نے آپ کا قول مبارک سنا تو روئے‘ اتنا روئے کہ مجھے ان کا جگر پھٹ جانے کا اندیشہ لاحق ہوا۔ پھر آنسو پونچھے اور یہ کہا: ''ابو حازم‘ اب بھی مجھے یقین نہیں کہ وہاں سے گزر جائوں گا‘‘۔
ابن عبدالحکیم کی ''سیرت عمر بن عبدالعزیزؓ‘‘ میں لکھا ہے: جب ان کا آخری وقت آیا تو مسلمہ بن عبدالملک حاضر تھے۔ انہوں نے کہا: اپنے بچوں کو آپ نے محروم رکھا۔ مجھے یا کسی اور کو آپ وصیت کر دیجئے کہ کچھ مال انہیں دے دیا جائے۔ فرمایا: ''مجھے اٹھا کر بٹھائو‘‘۔ بٹھا دئیے گئے تو ارشاد کیا ''خدا کی قسم کوئی میں ایسی چیز انہیں دے نہیں سکتا جو ان کا حق نہیں۔ میرے بچوں کے معاملے میں میرا وصی اور ولی میرا اللہ ہے‘‘۔
پھر اپنے بیٹوں کو بلانے کا حکم دیا۔ ان کی طرف دیکھا تو آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ کہنے لگے: میری جان کی قسم‘ ان بچوں کو میں تہی دست چھوڑ رہا ہوں۔ پھر دل میں روتے رہے۔ کچھ دیر بعد متوجہ ہوئے اور کہا ''دو ہی صورتیں ہیں۔ اگر تم غنی اور مالدار ہونا چاہتے ہو تو تمہارا باپ جہنم میں جائے گا۔ فقر گوارا ہے تو تمہارا باپ جنت میں جا سکتا ہے۔ اللہ تمہاری حفاظت کرے اور تمہیں رزق دے‘‘۔
مسلمہ نے کہا: امیرالمومنین میرے پاس تین لاکھ دینار ہیں‘ آپ کو میں پیش کرتا ہوں۔ بیٹوں میں تقسیم کر دیجئے۔ عمرؓ نے مسلمہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور بولے: یہ مال ان لوگوں کو لوٹا دو‘ جن سے تم نے چھینا ہے‘‘۔ مسلمہ کی آنکھیں بھیگ گئیں اور بولا: ''دونوں جہانوں میں اللہ آپ پر رحم فرمائے‘ آپ نے ہمارے پتھر دلوں کو موم کر دیا‘‘۔
دنیا سے وہ چلے گئے۔ پھر عمر بن عبدالعزیز کے بیٹوں کو خلق نے دیکھا کہ کوئی ان میں سے کبھی محتاج نہ ہوا۔
رجزیہ شاعر دکین بن سعید دارمی بیان کرتا ہے: وہ مدینہ کے گورنر تھے تو میں نے ان کی مدح کی۔ انہوں نے پندرہ بہترین اونٹنیاں مجھے عطا کیں۔ ایسی کہ ان کی خوبصورتی و عمدگی دیکھ کر ڈر سا گیا۔ تنہا ان اونٹنیوں کے ساتھ پہاڑی راستوں پر سفر کرنا مجھے مناسب نہ لگا۔ فروخت کر دینے کو بھی جی نہ چاہتا تھا۔
اسی ردّوکد میں تھا کہ نجد کو روانہ ہونے والا ایک چھوٹا سا قافلہ آ پہنچا۔ الوداعی ملاقات کے لئے گیا تو جناب ِعمر بن عبدالعزیز کو دو بزرگوں کے ساتھ پایا۔ بولے: ''دکین میرے دل میں بلند مناصب کی آرزو ہے۔ تمہیں اگر معلوم ہو کہ کسی بڑے مقام پر میں فائز ہو چکا ہوں تو میرے پاس آنا۔ میں تجھے اور بھی دوں گا‘‘۔
میں نے کہا: جنابِ امیر! اس وعدے پر کسی کو گواہ ٹھہرا لیں۔ عمرؓ نے کہا: ''میں اللہ تعالیٰ کو شاہد ٹھہراتا ہوں‘‘۔ میں نے کہا: ''اور اس کی مخلوق میں سے بھی کسی کو گواہ بنا لیں‘‘۔ جناب عمر بن عبدالعزیز نے کہا: ''یہ دونوں بزرگ گواہ ہوں گے‘‘۔ ان میں سے ایک کی طرف میں متوجہ ہوا اور پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے اپنا اسم گرامی بتا دیجئے۔ بزرگ نے کہا: سالم بن عبداللہ بن عمر بن خطاب!
میں نے امیرؓ کی طرف دیکھا اور کہا: اس گواہ کے باعث تو میں کامیاب ہو گیا۔ پھر میں نے دوسرے بزرگ کی طرف دیکھا اور عرض کیا: میں آپ پر قربان! آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: ''ابو یحییٰ‘ امیرؓ کا خادم۔ پھر میں وہاں سے چل دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان اونٹنیوں میں اس قدر برکت ڈالی کہ ان کے توالد کی کثرت نے مجھے کئی غلاموں اور مزید اونٹوں کا مالک بنا دیا۔
وقت گزرتا رہا۔ ایک روز میں نجد کی ارضِ یمامہ کے صحرائے فلج میں تھا کہ ایک شخص کو امیرالمومنین سلیمان بن عبدالملک کی وفات کا اعلان کرتے سنا۔ میں نے اعلان کرنے والے سے پوچھا: اب ان کے بعد خلیفہ کون بنا ہے؟ اس نے کہا: ''عمر بن عبدالعزیز‘‘۔
اس آدمی کے منہ سے یہ الفاظ سننے کی دیر تھی کہ میں نے بلادِ شام کے لئے رخت سفر باندھ لیا۔ دمشق پہنچا تو مشہور شاعر جریر خلیفہ کے ہاں سے واپس آ رہا تھا۔ میں نے اسے سلام کیا اور پوچھا: ابو حزرہ! کہاں سے آتے ہو؟
اس نے کہا: خلیفہ کے پاس سے‘ جو فقرا کو مال دے رہے ہیں لیکن شعرا کو خالی ہاتھ لوٹا دیتے ہیں۔ جہاں سے آئے ہو‘ وہیں چلے جائو۔ میں نے کہا: میرا معاملہ تم سے مختلف ہے۔ اس نے کہا: اگر تو جانے پر بضد ہے تو چلا جا۔ 
دیکھتا کیا ہوں کہ امیرالمومنین صحن میں فروکش ہیں۔ یتامیٰ و بیوگان اور ظلم و جبر سے تہی دامن کئے گئے لوگوں نے‘ آپ کو گھیر رکھا ہے۔ اژدہام کے باعث میں ان تک نہ پہنچ سکا۔ میں نے دور سے ہی آواز بلند کی:
یا عمرالخیرات والمکارم
وعمرالدسائع العظائم
انی امرء من قطن من دارم
طلبت دینی من اخی المکارم
''اے جودوسخا کے مالک اور عطا و بخشش کے بڑے بڑے برتن رکھنے والے عمرؓ‘ میں بنو دارم کے شہر قطن سے آیا ہوں اور اپنے سخی بھائی سے اپنا قرض مانگتا ہوں‘‘۔
یہ الفاظ سن کر ان کے خادم ابو یحییٰ نے میرے اوپر ایک طویل نگاہ ڈالی۔ ان کی طرف متوجہ ہوئے اورکہا: امیرالمومنین! اس بدوی کے ساتھ آپ کے وعدے کی میں شہادت دیتا ہوں۔ امیرالمومنینؓ نے کہا: ''میں اسے جانتا ہوں‘‘۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: ''دکین! میرے پاس آئو!‘‘۔ جب میں ان کے پاس گیا تو میرے قریب ہو کر کہا: ''کیا تجھے وہ بات یاد ہے جو میں نے مدینہ منورہ میں تجھ سے کہی تھی۔ یہ کہ میرا نفس اعلیٰ سے اعلیٰ چیز کے حصول کی رغبت رکھتا ہے‘‘۔ ''یاد ہے‘‘ میں نے کہا ''امیرالمومنین! یاد ہے‘‘۔
کہا: ''اب دنیا میں وہ چیز مجھے حاصل ہے‘ جس سے بڑھ کر کچھ نہیں اور یہ حکمرانی ہے۔ میرا دل مگر آخرت کی طرف مائل ہے۔ ایک ایسی چیز کے لئے جیسی کوئی اور نہیں ہو سکتی... اور وہ جنت ہے۔ میں اس کوشش میں ہوں کہ رضوانِ الٰہی پا کر فوزوفلاح کا دامن تھام لوں۔ اگر بادشاہوں نے اپنی بادشاہی کو دنیاوی عزت کے لئے برتا ہے تو میں اسے لازماً اُخروی عزت کے حصول کا ذریعہ بنائوں گا‘‘۔
پھر انہوں نے کہا: ''اے دکین! اللہ کی قسم! جب سے مسلمانوں کے امور کا میں نگران ہوا ہوں۔ میں نے ان کے مال سے ایک درہم تک نہیں لیا۔ میرے گھر میں ایک ہزار درہم رکھے ہیں۔ آدھے تم لے جائو اور آدھے میرے لئے چھوڑ دو‘‘۔
دکین کہتا ہے: ''میں نے وہ مال لے لیا جو انہوں نے دیا تھا۔ اللہ کی قسم اس مال سے زیادہ بابرکت مال میں نے کبھی نہیں دیکھا‘‘۔
ایسے لوگ بھی ہو گزرے ہیں کہ اب بھی ان کی یاد سے چراغ جل اٹھتے ہیں۔ ویسے نہ سہی‘ ویسے نہ سہی‘ ہمارے مقدّر میں مگر خائن ہی کیوں؟... بجا کہ قحط الرجّال ہے‘ مگر ایسا بھی کیا قحط الرجّال؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں