نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشیداحمدکامودی کی تقریرپرردعمل
  • بریکنگ :- مودی کی تقریردنیاکےایک بڑےفورم پرغیرمعیاری تقریرتھی،شیخ رشید
  • بریکنگ :- ایسالگ رہاتھایونین کونسل کالیڈراقوام متحدہ سےخطاب کررہاہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- اقوام متحدہ کےفورم پرایسی فرسودہ اوربےربط تقریرکبھی نہیں سنی،شیخ رشید
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیدا ہو

آدمی کی اصل متاع یہی درد‘ یہی احساس تو ہے۔ اپنا نہیں دوسروں کا غم۔ 
شاعر نے کہا تھا:
دل گیا رونقِ حیات گئی
غم گیا ساری کائنات گئی
یہ ایک تابناک دن کا آغاز تھا۔ لاہور اور قصور کے سنگم پہ واقع، آبِ رواں کے کنارے اخوت کالج میں یومِ قراردادِ پاکستان۔ سحر کی سنہری دھوپ، پھر بوندا باندی، جس میں بہتی ہوا خوشبو سے لدی تھی۔ قصور اور لاہور کے علاوہ ملک بھر سے جمع ہونے والے وہ لوگ، جن کی آنکھیں، جن کے چہرے اور جن کے قلب و دماغ امید اور امنگ سے روشن تھے، جگمگ جگمگ!
عارضی پل عبور کر کے ڈاکٹر امجد ثاقب چھوٹی نہر سے آگے، بڑی نہر کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور کہا: گلاب کے یہ پودے جوان ہوں گے، تو یہاں سے وہاں تک پھول کھل اٹھیں گے۔ پہلے ہی سے دونوں طرف دور دور تک سنبل کے درختوں کی قطاریں اور ان پر گلابی قمقمے روشن ہیں۔ پھر دو، اڑھائی فٹ کے گہرے سبز پتوں والے بوٹوں کی طرف انہوں نے انگلی اٹھائی: ''جامن کے ہیں‘‘۔
''جامن کے کیوں؟‘‘۔ اس لئے کہ ان پہ پھل آئے گا۔ سایہ اس درخت کا وسیع اور گہرا ہوتا ہے۔ ہوا لطیف تھی، اتنی لطیف کہ گہرا سانس لینے کو جی چاہے، شاعر نے کہا تھا: تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی۔ صاف ہوا سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔ افسوس کہ آدمی نے اسی کو گنوا دیا۔
مدّتوں کے بعد جناب اشرف سلیم سے ملاقات ہوئی۔ لیفٹیننٹ جنرل کے منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد، نائیجیریا سمیت چھ افریقی ممالک میں پاکستان کے سفیر رہے۔ پچاس پچپن برس پہلے ہائی سکول میں ایک ساتھ بیتے ان ایّام کی یاد، جب یہ ایک اور دنیا تھی۔ ہیڈ ماسٹر چوہدری عبدالمالک مرحوم، انیس احمد اعظمی، چغتائی صاحب اور سرور صدیقی۔ اساتذہ کی تصاویر ذہن کے افق پہ جھلملاتی رہیں۔ ایک پل کو ایسا لگا کہ اخوت کالج نہیں، یہ تعمیر ملّت ہائی سکول ہے۔ ہمیشہ یاد رہنے والے مناظر پھر سے جاگ اٹھے اور ٹمٹمانے لگے۔
چوہدری امانت علی مرحوم نے، یہ وسیع و عریض قطعۂ اراضی، تعلیم کے لیے وقف کیا تھا۔ کھیل کا کشادہ میدان بھی۔ جنرل نے بتایا کہ امریکہ میں مقیم ڈاکٹر سعید باجوہ اب خیریت سے ہیں۔ رحیم یار خان کا فرزند، ایک عظیم برین سرجن، دنیا بھر میں، جس نے اپنے خاندان، شہر اور ملک کا نام روشن کیا۔ تعمیرِ ملّت نے ایسے بہت لوگ پیدا کئے۔ کسی بھی شہر، کسی بھی ملک اور معاشرے میں ایک اچّھے تعلیمی ادارے سے بڑا کوئی تحفہ نہیں ہو سکتا۔ ایسا تعلیمی ادارہ جس کے اساتذہ اخلاقی اقدار کو پروان چڑھائیں۔ عصرِ رواں کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ سکیں۔
وہ دن یاد آئے تو کیا کیا نہ یاد آیا۔
گو اب بھی ہوائیں آتی ہیں شبنم میں دھلے گلزاروں سے
برکھا میں برستے ہیں نغمے بوندوں کے لچکتے تاروں سے
تسکین کی تانیں اڑتی ہیں جھرنوں کے حسین فوّاروں سے
بیتے ہوئے دن کچھ ایسے ہیں، تنہائی جنہیں دہراتی ہے
اردو نثر کا کوئی با ذوق طالب علم نہ ہو گا، جس نے احسان دانش کی خود نوشت ''جہانِ دانش‘‘ میں انہماک پیدا نہ کیا ہو۔ یہ انہی کے اشعار ہیں۔ بارہا ان کی زیارت کا شرف حاصل رہا۔ ان سے ان کا کلام سنا۔ ٹہر ٹہر کر پڑھتے۔ محسوس ہوتا کہ آواز، حلق نہیں، دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے۔ ایسا نکتہ دو مصرعوں میں تراش دیتے کہ ہیرا سا چمک اٹھتا۔
آ جائو گے حالات کی زد پہ جو کسی دن
ہو جائے گا معلوم خدا ہے کہ نہیں ہے
سخت جان، خود دار، بے نیاز۔ مکّہ مکرمہ میں جنرل محمد ضیاء الحق نے ان سے کہا: استاد کچھ عنایت کیجئے۔ بولے: ''طبیعت حاضر نہیں‘‘۔ جنرل نے اصرار کیا تو اسی لہجے میں پھر سے وہی جواب: عرض کیا نا، طبیعت حاضر نہیں... رحیم یار خان شہر میں ان کے فرزند کچھ دن اردو پڑھاتے رہے۔ معلوم نہیں کس نے کتنا فیض پایا۔ اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ اردو زبان کا ایسا عالم کم ہو گا، جیسے ان کے گرامی قدر والد۔
خواب کی دھند چھٹی تو دیکھا کہ یہ رحیم یار خان میں تعمیرِ ملّت کی ڈھلوان نہیں، اخوت کالج ہے۔ فن تعمیر کا ایک کرشمہ سا۔ اس کی عمارت کے خاکے میں کچھ رنگ مسجد نبوی کے ہیں۔ اس سے ملتے جلتے طاق، جھروکے، کھڑکیاں اور جالیاں۔ خاک سے اٹھتی، فلک کی آرزو کرتی۔ ڈاکٹر امجد نے اپنا دیا، سرکارؐ کے چراغ سے روشن کیا، جب مکّہ کو الوداع کہہ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپؐ یثرب میں اترے تھے۔ انصار اور مہاجرین کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کرنے کا اعلان فرمایا تھا۔ 
کتنی ہی کروٹیں زمانہ بدل ڈالے، دھند اور دھوپ کے کتنے ہی موسم بیت جائیں۔ آدمی کی خوئے ایجاد کتنی ہی منزلیں سر کر لے، ویسا دن پھر کبھی نہ آئے گا۔ اس کی ضیاء باقی رہے گی۔ اس کا نور بکھرتا رہے گا۔ منیرؔ نیازی نے کہا تھا ؎
فروغِ اسمِ محمدؐ ہو بستیوں میں منیرؔ/ قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیدا ہو
وسط میں کھڑے یادگاری مینار کے مقابل ڈاکٹر امجد جا کھڑے ہوئے اور یہ کہا: چاروں طرف نور برس رہا ہے۔ کیوں نہ برسے۔ کس کے نام پہ نام رکھا ہے۔ کس سخی کی عطا ہے، جیسا کبھی ہوا نہ ہو گا۔
خواجۂ من نگاہ دار آبروئے گدائے خویش
آنکہ زَجوئے دیگراں پر نہ کند پیالہ را
سنگِ سیاہ کے چوڑے حاشیے میں سے ابھرتا دودھیا مینار جیسے روشنی سے بنا ہو۔ کالے حاشیے سے آگے پھول کھلے رہتے ہیں۔ 99 اسمائے ربانی اس پہ کندہ ہیں۔ سب سے اوپر ایک بڑا سا بجلی کا قمقمہ، کچھ اور بڑا ہونا چاہئے کہ اجالا دور تک رہے۔ ڈاکٹر صاحب سے عرض کیا: پھولوں کی کیاری کے گرد، گول دائرہ بھی دودھیا پتھر ہی کا ہونا چاہئے کہ نہایت باقی نہ رہے۔ کوئی حد اس کی نہ ہو۔ کبھی تھی ہی نہیں، کبھی ہو گی ہی نہیں۔
آپؐ ان کے لیے بھی رحمت ہیں
جو زمانے ابھی نہیں آئے
چاروں طرف پھیلا ہوا سبزہ۔ گلشن میں آگ لگ رہی تھی رنگِ گل سے میرؔ۔ ملک کے چاروں صوبوں سے، گلگت بلتستان سے، آزاد کشمیر اور قبائلی پٹی سے، رنگا رنگ طالب علم جمع ہیں۔ سٹیج سیکرٹری ڈیرہ بگٹی کا تھا، تلاوت اور ترجمہ کوئٹہ کے دو نوجوانوں نے کیا۔ تقاریر کرنے والے، چاروں اطراف کے تھے۔ ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے بھی خطاب کا جادو جگایا اور داد پائی۔ سید فاروق گیلانی مرحوم اپنے اللہ کے پاس چلے گئے، جن سے ہم دونوں کبھی سیکھا کرتے۔ ابھی ابھی کنجوں‘ انہی کنجوں میں اس کے سائے تھے، ابھی ابھی تو وہ تھا، ان برآمدوں میں یہاں!
یادیں ہیں کہ ہجوم کرتی چلی آتی ہیں۔ دل تھامنا مشکل ہو رہا ہے۔
2012ء میں برادرم عامر خاکوانی اور محمد طاہر کے ہمراہ زیارت کے الہجرہ سکول کی دلآویز عمارت دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ صنوبر کے چار ہزار برس پرانے جنگل کے نواح میں واقع ہے۔ دیکھا کہ اس سکول کے بچے وہیں سامنے کھڑے ہیں۔ ہوا یہ کہ اب کی بار بلوچستان کی بلندیوں پہ برف بہت گری۔ تدریس ممکن نہ رہی۔ وہ لاہور کے کسی ہوٹل میں پچاس کمروں کی تلاش میں تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو علم ہوا تو اپنا گھر پیش کر دیا۔
الہجرہ سکول کے طلبہ نے بتایا کہ نواح لاہور کی اس بستی میں ایک دن بھی انہیں اجنبیت کا احساس نہ ہوا۔ الفت اور انس کا ہر میزبان نے برتائو کیا۔ روداد بیان کرتے ہوئے سٹیج پر، فرطِ مسرت سے استاد عبدالرحمن عثمانی رو دیئے۔ پورے کا پورا مجمع اس پر آبدیدہ ہو گیا۔ بہت دور‘ دریائے شیوک کے کنارے بلتستان کے آخری گاؤں تھونگ موس سے تعلق رکھنے والا آدمی رقیق القلب واقع ہوا۔ 
میرے کان میں ڈاکٹر امجد ثاقب نے سرگوشی کی: ''کیسا درد ہے، کتنی محبت ہے‘‘۔ یہی درد عام ہو گا تو اس دیار کے دکھ دھلیں گے۔ آدمی کی اصل متاع یہی درد‘ یہی احساس تو ہے۔ اپنا نہیں دوسروں کا غم۔ شاعر نے کہا تھا:
دل گیا رونقِ حیات گئی
غم گیا ساری کائنات گئی

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں