"ISC" (space) message & send to 7575

مفاہمت اور فوج…!

نیلسن منڈیلا سے کسی نے پوچھا: ''سیاست دان اور قومی لیڈر میں کیا فرق ہے؟‘‘ منڈیلا کا جواب تھا: ''سیاست دان اگلے الیکشن کے بارے میں سوچتا ہے اور قومی لیڈر اگلی نسل کے بارے میں‘‘۔
پاک فوج کے خلاف سابق صدر آصف زرداری کی للکار نے پورے ملک میں ہلچل مچادی ہے۔ سب حیران ہیں کہ ان جیسے مفاہمت کے جادوگر نے یہ بیان کیسے دے دیا؟کیا قومی لیڈر ایسا ہوتا ہے؟کیا ایسی تنقید کی اجازت کسی اور لیڈر کو بھی مل سکتی ہے؟ عام خیال یہی تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور آصف زرداری آمنے سامنے آہی جائیں گے ، لیکن فوج نے اس قدر توہین آمیز بیان کو صبر و تحمل سے برداشت کیااور ملک کی سویلین حکومت کا امتحان لینا شروع کردیا اور سویلین حکومت نے خود کو اس امتحان میں نہ صرف کامیاب کروا لیا بلکہ عوام کے دلوں میں مسلم لیگ ن کی توقیر میں اضافہ بھی ہوا۔ مسلم لیگ ن نے اپنی سیاست پر ملکی وقارکو فوقیت دی اور''کرسی کے لیے دوستی‘‘کی پروا نہ کی اور بے لوث محبت کا اظہار کرتے ہوئے اپنا وزن افواج پاکستان کے پلڑے میں ڈال دیا۔ میاں نواز شریف نے ملکی وقار کے معاملے پر آصف زرداری کو پہلا پتھرمارا اور ملکی سیاست کی نئی صف بندی کی بنیاد ڈال دی۔ زرداری صاحب کو اچانک کیا ہوا؟ وہ اس قدر بپھر کر ماحول کو کیوں گرم کر بیٹھے؟ ان کی تقریر کا اسٹائل اور جملوں کی ادائیگی یہ راز فاش کررہی تھی کہ یہ تقریر اچانک نہیں تھی، زبان نہیں پھسلی بلکہ یہ سوچی سمجھی لگ رہی تھی۔ وہ دانت پیس رہے تھے اور نظر آرہا تھا کہ انہیں ٹشو پیپر کی سخت ضرورت ہے۔ ایک قلم کار نے آصف زرداری کے غصے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ '' لوٹ مار میں حد
سے گزرنے والے زرداری صاحب سکیورٹی فورسز کو حد میں رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں‘‘۔ چار دن گزرنے کے باوجود آصف زرداری نے خود معافی نہیں مانگی بلکہ سیاسی تاریخ میں پہلی بار ''افطار پارٹی‘‘ طلب کرلی ، اس سے قبل وہ آل پارٹیز کانفرنس بلاتے رہے ہیں۔ آصف زرداری اکیلے ہوتے جا رہے تھے جس کا اندازہ انہیں بھی ہوگیا تھا۔ پہلے انہوں نے ملک کے جاگیرداروں اور اقتدار کے قبضہ گروپوں کو اکسایا، انہیں آمادۂ جنگ کرنے کی کوشش کی۔ جب انہیں فوری طور پر کسی کاساتھ نہ ملا تو انہوں نے راتوں رات الطاف حسین سمیت اسفند یار ولی اورچودھری شجاعت کو فون گھما ڈالے۔ ان کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح معاملے کو سنبھال لیا جائے اور معافی کی نوبت نہ آئے۔ اسی دوران نواز شریف فوج کے لاڈلے بن چکے ہیں اور زرداری فوج کی 'گُڈ بُک‘ میں آخری نمبروں پر چلے گئے، اسی لیے تو افطار ڈنر کے بعد ایک صحافی نے قمر زمان کائرہ سے سوال کیا کہ ''کیا چودھری شجاعت نے آصف زرداری سے بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے؟‘‘ تو کائرہ نے کہا کہ کسی نے بیان واپس لینے کا نہیں کہا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ فوج کے بارے میں انہوں نے جن کلمات کا اظہار کیا وہ انہیں کس نے کہا تھا؟
جب 27 دسمبر 2007ء کو بینظیر بھٹو 57 برس کی عمر میں شہید کردی گئیں تو آصف علی زرداری کو غصے میں بے قابو ہجوم کی قیادت سمیت تاج اور تخت مل گیا تھا جس کا ذکر پی پی کے ایک رہنما ذوالفقار مرزانے ان الفاظ میں کیا: ''اگر ہم اس پاکستان کے خلاف نکل پڑتے تو آج ملک کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا‘‘۔ لیکن آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اور وہ ہجوم جو ٹرینوں کو آگ لگا رہا تھا، لوٹ مار کر رہا تھا، رُ ک گیا۔ اسلام آباد کی نظر نہ آنے والی قوتیں حیران تھیں کہ یہ کون شخص ہے جو انگلی کے اشارے پر شعلوں کو پھولوں میں تبدیل کررہا ہے۔ یہی ادا آصف زرداری کواسٹیبلشمنٹ کی 'گڈبک‘ اور پھرصدر کی کرسی تک لے آئی۔ جمہوریت بہترین انتقام اور مفاہمت کے نعرے نے آصف زرداری کو سب سے بڑا لیڈر بنادیا۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب ذوالفقار مرزا نے کہا:'' سمجھ میں نہیں آرہاکہ اِن کا پیٹ کیوں نہیں بھر رہا ؟ اگر یہ لوگ پانچ چھ ماہ مزید اقتدار میں رہے تو پورا سندھ 'نیو‘ موئن جو دڑو بن جائے گااور ہر طرف کھنڈرات ہی کھنڈرات ہونگے‘‘۔ سندھ کے مختلف محکموں سے جو لوٹ مار کی خبریں آ رہی ہیں وہ ابھی معمولی ہیں، ان خبروں سے ابھی لوٹ مار کا اندازہ نہیں ہوتا جس کا اہلیانِ سندھ نے مقابلہ کیا ہے۔ جمہوری اور آئینی تحفظ کی '' زرہ بند‘‘پہننے والوں نے جو مال کمایا ہے اور جس بے دردی سے قومی خزانے کو لوٹا ہے اِس کا مقابلہ تو تاتاریوں کا لشکر بھی نہیں کرسکتا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالروں سے بھری لانچیں اور'' ایک نازک ماڈل‘‘ پکڑی گئیں۔ اوّل الذکر کے لیے کسی ملک نے رجوع نہیں کیا، اربوں روپے کا معاملہ ہے لیکن مکمل سناٹا ہے۔ دوسری جانب ایک چالان تک پیش نہیں ہوا بلکہ تفتیشی افسر ہی قتل ہوگیا۔ کہتے ہیںکہ وہ ڈکیتی کے دوران ''مزاحمت‘‘
میں مارا گیا۔ سندھ کے ایک وزیر کے گھر پر آگ لگی تو دو ارب روپے کے نوٹ جل گئے لیکن خبر ''ٹھنڈی ‘‘ہوگئی کیونکہ نوٹ جلنے کی واردات ایک کوٹھی میں ہوئی۔ اگر شور مچایا جاتا تو پورے سندھ میں آگ لگ جاتی، اس لیے چپ رہنے میں ''شانتی کا راز‘‘ تلاش کرلیا گیا۔ نوٹوں کا کیا ہے، مشین اورنوٹ چھاپتی جا رہی تھی۔
آصف زرداری کو سیاسی مشورہ ہے کہ نواز شریف کو منالیں، غلطی مان لیں اور بلاول ہائوس لاہور میں قیام کریں کیونکہ کراچی کا بلاول ہائوس رینجرز ہیڈ کوارٹر سے صرف 4 سے 5 کلومیڑ کے فاصلے پر ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ میں کہا تھا: ''سیاست دان کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو ٹینک کے آگے بے بس ہوتا ہے‘‘۔کچھ لوگ جیل جاکر یہ بات سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ باہر رہتے ہوئے سب کچھ سمجھ جاتے ہیں اوریہی لوگ دور اندیش کہلاتے ہیں۔
رینجرز حکام کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوںکہ وہ مختلف محکموں کے بدنام افسران کے جرائم ‘ لوٹ مار اور بدعنوانی کی تفصیلات منظر عام پر لانے کی بجائے یہ تحقیق کریں کہ سندھ کا کونسا محکمہ ایسا ہے جہاں لوٹ مار نہیں ہوتی، جہاںڈاکوؤں نے ڈیرا نہیں ڈالا اور کونسا محکمہ صاف ستھرا ہے؟ عام خیال یہی ہے کہ ''پوری قوم کو مایوسی ہوگی‘‘ کیونکہ سندھ میں کوئی محکمہ صاف ستھرا نہیں۔
کچھ ذکر اس دعوے کا بھی ہوجائے کہ زرداری صاحب کراچی سے فاٹا تک ملک بند کرواسکتے ہیں۔ کراچی میں جب ایک قلم کار سے پوچھا گیا کہ ''کیا یہ بات صحیح ہے؟‘‘ تو جواباً انہوں نے ایک فارمولہ بتایا کہ '' اس دعوے کو جانچنا ہے تو کنٹونمنٹ بورڈ ‘ گلگت بلتستان کے انتخابات اور ملتان کے ضمنی انتخابات کے نتائج دیکھ لیں، سب کچھ سمجھ آجائے گا اور پورا ملک بند کرنے کا دعویٰ بھی‘‘۔
للکارنے والوں نے کہا کہ فورسز کا یہ کام ہی نہیں ہے کہ وہ محکموں میں کرپشن کو پکڑیں، چوروں اور ڈاکوؤں کو بے نقاب کریں، فورسز کا کام ہے کہ وہ ہمیں سلامی دیں کیونکہ ہم نے آئین میں 18ویں ترمیم کے ذریعے خود کو ''بلٹ پروف‘‘ بنالیا ہے، اب ہمیں سو فیصد آئینی تحفظ حاصل ہے۔ ڈر یہ لگ رہا ہے کہ کہیں خود کو بچانے کی کوشش میں بے چارہ آئین ہی ''ہارٹ اٹیک‘‘ کا شکار نہ ہوجائے۔ اب ایک لطیفہ بھی پڑھ لیجئے: صرف سندھ میں ''ڈاکوئوں‘‘ کو کیوں پکڑا جارہا ہے، اس لذت سے باقی صوبوں کے سیاسی لیڈروں کو بھی فیض یاب کیا جائے کیونکہ اس طرح سندھ میں احساسی محرومی پیدا ہورہا ہے ۔ اس عمل کو روکا جائے اور چھاپوں اور احتساب کی'' نعمتوں‘‘ سے دیگر صوبوں کو بھی لطف اندوز ہونے کا موقع دیا جائے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں