سندھ ''آئینی جنگ‘‘ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ایک بڑا تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ رینجرز اور سندھ حکومت کی خاموش لڑائی کو'' زبان‘‘ مل جاتی تو معاملات قابو سے باہرہوجاتے۔ رینجرز کے اختیارات میں ایک ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔۔۔۔۔۔ اِس وقتی تعطل نے گرما گرمی کو کافی حد تک کم ضرور کیا ہے لیکن ختم ہونے کے امکانات انتہائی معدوم نظر آتے ہیں۔ وقت بتائے گا کہ یہ لڑائی آئینی جنگ تک محدود رہتی ہے یا معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا؟مشرقی پاکستان میں بھی وفاق سے چھوٹی چھوٹی جنگ نے پورے ملک کو نقصان پہنچایا تھا۔ کرشن چند نے لکھا ہے کہ ''چھوٹی چھوٹی باتوں سے بچو!!جنگل کی آگ ایک چنگاری سے ۔۔۔۔۔۔بارش و سیلاب ایک قطرے سے اور عشق آنکھ کی چھوٹی سی حرکت سے شروع ہوتا ہے‘‘ ۔
سندھ کے معاملات کوبڑی خاموشی سے کسی اور پٹڑی پر ڈالا جارہا ہے۔ سندھ کی دو بڑی سیاسی جماعتیں سندھ پر اپنی گرفت کمزور کرنے اور سکیورٹی اداروں کی'' مارشل لائی جکڑ‘‘کی تکمیل کیلئے تیار نہیں۔ سندھ کے حکمرانوں نے انتہائی ''سوچ بچار‘‘ کے بعدفیصلہ کیاکہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا''حکم نامہ‘‘ اب وہ خود جاری نہیں کریں گے بلکہ معاملہ سندھ اسمبلی لے جائیںگے۔ وہاں کیا تقریریں ہوں گی؟ کون سے شکوے ہوں گے؟ کونسی شکایات کے دفتر کھولے جائیںگے؟ کس کی زبان کتنی تیز و طرار ہوگی؟ ڈر کچھ زیادہ ہی تھا کہ اس کے نتیجے میں سندھ کے عوام کو وفاق (نوازشریف) کے خلاف صف بندی کا موقع ملے گا اور رینجرز کو الٹے قدم چلنے پر مجبور کیا جائے گا لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا اور رینجرز کے اختیارات میں توسیع کافیصلہ ہو گیا ۔
ایک ایسے وقت میں جب رینجرز میدان جنگ میں اتری ہوئی ہے اور تاجروں نے کور کمانڈر کی بریفنگ تک میں اعتراف کیا کہ
کراچی آپریشن کے نتیجے میں قیام امن میں مدد ملی ہے اور جرائم پیشہ عناصر کو پکڑنے اور کچلنے میں کامیابی کی اطلاعات آئی ہیں‘ وزیراعلیٰ سندھ نے کئی بار رینجرز کی کارروائی کو سراہا ہے۔ الطاف حسین نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ''جو کرمنلزہیں اُن کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ ہمارے نہیں ہیں‘‘ لیکن اچانک فضاء تبدیل ہوئی اور وزیراعلیٰ سندھ نے کھلم کھلا کہا کہ ''سندھ حکومت نے اگر کوئی ادارہ اپنی مدد کے لئے بلایا ہے تو اُسے اختیارات سے تجاوز کرنے سے روکنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے‘‘ اُن کا خیال تھا کہ رینجرز سندھ میں تیزی دکھا رہی ہے۔ رینجرز سندھ حکومت کے سرپر بیٹھنے کی کوشش کررہی ہے رینجرز نے کچھ ایسے ''کام ‘‘کئے ہیںجن پر سندھ حکومت کو اعتراض تھا۔ پیپلزپارٹی کا یہ سوال بھی حیران کن ہے کہ ''باقی صوبوں میں رینجرز کچھ کیوں نہیں کررہی؟ کیا وہاںفرشتوں کی حکومت ہے؟‘‘‘بظاہر یہ عام ڈگر کے سیاسی سوال جواب کی طرح نظر آنے والی بات ہے لیکن کچھ شک بھی محسوس ہوتا ہے کہ ''کسی بڑی لڑائی کیلئے عوام کو تو نہیں گرمایا جارہا؟‘‘ سندھ حکومت نے پہلے ہی اپنے دل کی بات بتادی تھی کہ ہم رینجرز نہیں چاہتے لیکن یہ معمول کی بات نہیں تھی۔ اتنا آسان بھی نہیں تھا کہ رینجرز سندھ حکومت کے دبائو پر آکر تمام صوبائی افسران کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات روک کر‘ سیاسی کرمنلز کو چھوڑ چھاڑ کر واپس گھر چلی جاتی۔ معاملات ٹکرائو اور تنائو کی طرف جارہے تھے‘ ایسا ممکن نہ تھا کہ رینجرز کواپنی ہی سرزمین پر ''آئینی پسپائی‘‘ پر مجبور کیا جائے اور سندھ حکومت پرفائز قومی خزانوں پر بیٹھی ہوئی جونکیںایک بار پھر آزاد چھوڑ دی جائیں ۔
دوسری طرف ایم کیو ایم ہے جو تمام تر الزامات اور کچلنے کی تمام خواہشات کا مقابلہ کرتے ہوئے ریاست کے خلاف بندوق اور بارود کے ساتھ کبھی بھی میدان میں نہیں اُتری۔ وہ مسلح افواج کو احترام کی نظر سے دیکھتی ہے۔ ایم کیو ایم کئی بارکھل کر کہہ چکی ہے کہ'' فوج اقتدار سنبھال لے اور بدعنوان حکمرانوں سے عوام کو نجات دلائے‘‘ لیکن وہ رینجرز کی کارروائیوں اور ان کی تحقیقات سے ناخوش ہے۔ وہ رینجرز کی پکڑ دھکڑ کے بھی حق میں نہیں ہے۔ ایم کیو ایم خاص طورپر حالیہ دنوں میں اپنی خدمتی سرگرمیوں کے خلاف رینجرز کی کارروائیوں سے بھی ناراض ہے۔ اب رینجرز کے بارے میں خود الطاف حسین نے کھلم کھلا کہا ہے کہ'' ہمیں سندھ میں رینجرز نہیں چاہیے‘‘ الطاف حسین نے توقائم علی شاہ کو مشورہ بھی دے دیا تھا کہ وہ'' یا تو سندھ کو دھرتی ماں کہنا چھوڑدیں یا سب مل کر سندھ اسمبلی سے رینجرز کے خلاف بل پاس کرائیں‘‘۔ الطاف حسین نے سینئر وکلاء سے بھی یہ سوال کیا کہ '' آئین و قانون کی کس شق اور دفعہ میں لکھا ہوا ہے کہ فلاں فلاں جماعت کے کسی عہدیدار یا یونٹ انچارج کو بغیر کسی مقدمے کے گرفتار کیا جاسکتا ہے؟‘‘ الطاف حسین کی اِس بات سے سیاسی حلقے پریشان دکھائی دے رہے ہیں کہ رینجرز کی جانب سے گولی چلانے والی بات کیوں کی گئی؟یہ باتیں بھی کی گئیں کہ اگر رینجرز سندھ سے چلی جائے توکیا سندھ اور خاص طورپر کراچی کا کنٹرول سندھ پولیس سنبھال لے گی اور امن کی موجودہ فضا جس کو تاجر حضرات بہتر سمجھ رہے ہیں‘ برقرار رہے گی۔
اچانک وفاقی حکومت نے قدم اٹھایا اوررینجرز کو واپس بلانے کا اعلان بھی کیا‘ جس پرکراچی کے سیاسی حلقے اِس خوف کا اظہار کررہے تھے کہ وفاقی حکومت پورے سندھ کومتحرک کرنے اور سیاسی پیش قدمی کو روکنے کیلئے قومی اسمبلی سے بھی رجوع کرسکتی ہے اور اٹھارویں ترمیم( جس کو بعض حلقے ''مارشل لائی ترمیم‘‘ بھی کہتے ہیں )میں ترمیم لاکر وہ تمام دفعات نکال سکتی ہے جس کے نتیجے میں سندھ کی صوبائی حکومت وفاق کو بار بارآنکھیں دکھارہی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کی خوبی یہ تھی کہ اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کو آئینی آزادی دی گئی لیکن سندھ کی بیورو کریسی کو منتخب نمائندوں کے ساتھ مل کر اس آزادی کی آڑ میں من مانی کرنے کا موقع مل گیااور وہ بے خوف وخطر موجیں لوٹنے لگے ۔
قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد گورنر راج کا نفاذ بھی دشوار ہوگیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 232 میں گورنر راج کی دو وجوہ بیان کی گئی ہیں۔ ایک اندرونی خلفشار‘ دوسرا بیرونی حملہ۔۔۔۔۔۔صوبے میں اندرونی خلفشار ہو تو سندھ اسمبلی کو ایک قرارداد منظور کرنا ہو گی کہ وہ گورنر راج نافذ کرنا چاہتے ہیں‘ لیکن ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ سندھ اسمبلی میں موجودحکمران اور اپوزیشن جماعتیںاِس نکتے پر متفق ہیں کہ رینجرز کے اختیارات میں اضافہ نہ ہو۔ دوسری صورت میں صدر پاکستان اُس وقت صوبے میں گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں جب بیرونی خطرہ ہو لیکن اس صورت میں بھی نفاذ کے دس روز کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ سے الگ الگ منظوری لینا ہو گی اور اگر وفاقی حکومت ایسا چاہے بھی تو نہیں کر سکتی کیونکہ فی الوقت سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی اکثریت ہے وہاں سے اس کی منظوری ممکن نہیں ہو گی۔ سیاسی تجزیہ نگارمانتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی تمام صورت حال سے بخوبی آگاہ ہے کہ قانونی اور سیاسی طور پر اس کی پوزیشن مستحکم ہے اسی لیے وہ سودے بازی کی بنیاد پر دباؤ سے نکلنے کی خواہش مند ہے۔
پیپلز پارٹی کے حلقے کہتے ہیں کہ ''رینجرز کو ایک موقع دیا گیا ہے اور اختیارات کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس میں صرف وقتی تعطل آیا ہے۔ اب دیکھا جا ئے گا کہ سندھ کے بزرگ کپتان کی کیا اہمیت اور فضیلت باقی رہتی ہے؟‘‘ دوسری جانب وفاق کی جانب سے رینجرز کی سندھ میں موجودگی کو ایک نعمت قرار دیا جارہا ہے جبکہ سندھ پولیس اور اینٹی کرپشن کے محکموں پر عدم اعتمادکا اظہار کیا جارہا ہے۔ وعدے کے مطابق کراچی آپریشن کیلئے مانیٹرنگ کمیٹی کا بنایا جانا بھی ضروری ہے اور اس پر ا جلاس بھی بلانا ہوگا ورنہ سندھ کا ''اندھا آپریشن ‘‘کہیں سب کو گڑھے میں نہ گرادے۔